Home / تعمیر افکار / آؤ واپس چلتے ہیں

آؤ واپس چلتے ہیں

مجھے خود کو بدلنا ہے .
میں خود کو بدل رہا ہوں .
میں خود کو کافی بدل چکا ہوں .
لکھنے ،کہنے اور بولنے میں تو سادہ باتیں ہیں .
لیکن ان جملوں کی حقیقت پر غور کیا جائے تو یہ بہت گہرے ہیں . یہ ارادہ ہیں . ایک مسلسل عمل ہیں . عمل کی ثمر بار شکل ہیں .
جی ہاں ! جب کوئی شخص یہ کہتا ہے ،کہ ، “مجھے خود کو بدلنا ہے ” تو وہ صرف ایک عام جملہ نہیں بولتا بلکہ ایک پختہ ارادہ کا اظہار کرتا ہے . وہ اصل میں ایک ایسی تبدیلی کی بات کرتا ہے جس کی ضرورت اس کا ضمیر محسوس کرتا ہے . وہ اس آواز کو آپ تک پہنچا رہا ہوتا ہے جو اس کے دل سے اٹھتی ہے اور اس کے شعور اور جذبات میں ایک تحریک برپا کر دیتی ہے . وہ اس ضرورت کو آپ کے سامنے پیش کرتا ہے ، جس کا احساس اسے اپنے اندر سے دلایا گیا ہے .
یقین جانیے ! یہ سب سے زیادہ پختہ اور مصمم ارداہ ہے . یہ تبدیلی کی سب سے طاقتور لہر ہے .یہ سب سے زیادہ مؤثر آواز ہے . یہ سب سے زیادہ نتیجہ خیز احساس ہے .
جی ہاں ! جب کوئی شخص یہ کہتا ہے ،کہ
” وہ خود کو بدل رہا ہے ” تو وہ صرف ایک عام جملہ نہیں بولتا بلکہ ایک ایسے مسلسل عمل کی خبر دیتا ہے جس کا وجود محنت کی مٹی سے تشکیل پاتا ہے . وہ ایسی جدوجہد کی روداد سنا رہا ہوتا ہے جو خواہشات کے خون سے عبارت ہے . وہ ایسی کاوش کی بات کر رہا ہوتا ہے جس میں جنگ کسی غیر سے نہیں ہو رہی ہوتی بلکہ خود سے ہو رہی ہوتی ہے .
یقین جانیے ! یہ ایسا عمل ہے جس میں بہت ہمت درکار ہے . ایسی جدوجہد ہے جس میں حوصلہ چاہیے .ایسی کاوش ہے جو سخت صبر آزما ہے.
جی ہاں ! جب کوئی شخص یہ کہتا ہے ،کہ
” میں خود کو کافی بدل چکا ہوں ” تو وہ صرف ایک عام جملہ نہیں بولتا بلکہ ایک بڑی کامیابی کی نوید سناتا ہے .
وہ ایسی کامیابی کی بات کر رہا ہوتا ہے جو خود کو تکلیف سے دوچار کر کے نصیب ہوئی ہے. وہ ایسی خوشی کا اظہار کر رہا ہوتا ہے جو اپنی ہی خواہشات کا گلہ گھونٹ کر مقدر ٹھہری ہے.
وہ اس راحت کو بیان کر رہا ہوتا ہے جو ملنے سے پہلے کئی بار اذیتوں کے روپ میں اپنا جلوہ دکھا چکی ہے .
یقین جانیے ! یہ ایسی کامیابی ہے جو تکلیف کا احساس ختم کر دے گی . ایسی خوشی ہے جو درد کی کڑواہٹ کو مٹھاس میں بدل دے گی . ایسی راحت ہے جو سبھی اذیتوں کو یکسر بھلا دے گی .
لیکن ذرا ٹھہریے ! خود سے پوچھیے !
کیا میں نے بھی کبھی کہا ہے ؟
” مجھے خود کو بدلنا ہے ” .
” میں خود کو بدل رہا ہوں ” .
” میں خود کو بدل چکا ہوں ” .
نہیں کہا ! تو کیوں نہیں کہا ؟
کہیں اس لیے تو نہیں ! کہ ضمیر ابھی خواب نشیں ہے . دل ابھی غفلت میں ڈوبا ہوا ہے . احساس ابھی پیدا ہی نہیں ہوا ہے . عمل کا حوصلہ مفقود ہے . کامیابی کی لذت سے
ناآشنائی ہے.
اگر ایسا ہی ہے، تو پھر اس ضمیر کو جھنجھوڑنا ہوگا . اس دل کو بیدار کرنا ہوگا . احساس کو جلا بخشنی ہوگی .
اس سے پہلے کہ کوئی کہہ دے ،کہ ” نیا سال شروع ہو چکا ہے ” .
افسوس ! یہ تمھارا نہیں ہے . تمھارا وقت پورا ہوگیا . آوء ! واپس چلتے ہیں .

About عثمان حیدر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *