Home / رمضان سپیشل / !آئیے کچھ سیکھیں

!آئیے کچھ سیکھیں

ماہِ رمضان کی آمد آمد ہے۔ یہ لکھتے ہوئے بھی ایک خوبصورت احساس دل کو گھیرے میں لے رہا ہے۔ الھم بلغنا رمضان، آمین

پورے سال کے انتظار کے بعد پھر سے ماہِ رمضان آنے والا ہے تو ہم سبھی کے کچھ نہ کچھ گولز ہیں۔ زیادہ عبادت کرنے کے، ڈھیر ڈھیر دعائیں کرنے کے، سال بھر کے گناہ بخشوانے کے لئے۔ ان سب کے ساتھ ساتھ یہ مہینہ ہم سب کی تربیت کا مہینہ بھی ہے۔ شیطان بھی بند ہوتا ہے تو اچھی باتوں پر عمل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ وہی 24 گھنٹے ہوتے ہیں لیکن کتنی برکت ہو جاتی ہے وقت میں۔ تربیت کے اس عمل میں اپنے بچوں کو بھی ساتھ رکھنا ہے۔ کچھ ایکٹیویٹیز اس لیے کہ بچوں میں ماہِ رمضان کو لے کر ذرا جوش و جذبہ آئے، اور کچھ ان کی روحانی نشو و نما کے لئے آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی ہوں۔

پہلے تو  تسبیح اور جائے نماز بنانے کا آئیڈیا  ہے۔ بچوں کے ساتھ جا کر ان کی پسند کے رنگوں کے موتی لے لیں ۔میں نے اس کے لیے  گھر میں ہی موجود ہوں تو وہ استعمال کر لیں۔ اسی طرح جائے نماز کے لئے میں نے استعمال کیا ہے۔ اسکو کاٹنے پر دھاگے نہیں نکلتے اسلئے مجھے سائیڈ پر سلائی وغیرہ نہیں کرنی پڑی۔ آپ کے پاس جر کپڑا موجود ہو، اس سے جائے نماز بنا لیجیے۔ سجدہ کرنے کی جگہ پر دوسرے رنگ کا فیلٹ کاٹ کر گلو سے چپکا لیا تھا، آپ کے پاس جو چیز موجود ہو، اسی کو استعمال کر لیجیے۔

ایک ڈبہ یا لفافہ خاص صدقہ کے لئے بچے خود سجا لیں جس میں روزانہ، بےشک تھوڑا سا ہی ہے، کچھ نہ کچھ صدقہ کی نیت سے ڈالتے جائیں۔ خود بچے اپنے ہاتھ سے وہ صدقہ ادا کریں۔

ایک ایکٹیویٹی یہ بھی کر سکتے ہیں کہ گتے کے بڑے ڈبے سے ایک “مسجد” بنا لیں۔ بچے اپنی پسند سے اسکو سجا لیں۔ دروازہ اتنے سائز کا کاٹ لیں کہ گھٹنوں کے بل اندر جایا جا سکے۔ اندر اپنی جائے نماز، تسبیح، بچوں کی اسلامی کتابیں، سیپارہ وغیرہ سے سجا لیں۔ چاہیں تو “مسجد” کی بجائے “معتکف” بنا لیں اور اندر چھوٹا گدا بچھا لیں، ایک دو کشن رکھ لیں۔ کوئی لائٹس وغیرہ ہوں تو وہ بھی اندر رکھ لیں۔ اور وہی جائے نماز، قرآن، تسبیح، کہانیاں وغیرہ۔

اگر مسجد یا معتکف کی جگہ نہ ہو تو بھی کوئی ایک کونہ مختص کر لیں جہاں بچے روز نماز قرآن پڑھیں گے۔ اس کونے کو سجا لیں۔ پیپرز پر رمضان مبارک یا جو بھی لکھنا ہے، لکھ کر رنگ برنگ سجا لیں، دیوار پر چپکا سکیں تو بھی اچھا ہے۔ وہاں ایک باسکٹ میں اپنی اسلامی کتابیں، تسبیح، جائے نماز وغیرہ رکھ لیں۔ یہ سب کام بچے خود کریں، آپ بس انکی مدد کیجیے۔

یہ سب اسلئے کہ بچوں میں بھی ایک جوش ہو کہ کچھ خاص ہونے والا ہے۔ اپنے وسائل کے مطابق جو بھی کر سکیں، کیجیے۔ بڑی بڑی افطار پارٹیز کرنے کی بجائے کھجوریں دھو کر سکھا کر گٹھلی نکال کر اس میں بادام رکھ لیجیے۔ یا یونہی دھو کر خشک کر کے پیک کر کے، چاہیں تو ساتھ میں روح افزا بھی چند پڑوسیوں کو اور رشتہ دار، دوست احباب جنہیں افطار پر بلانا تھا، انہیں دے دیجیے۔ جو بھی آپ آرام سے کر سکیں۔ اس سب کا ذکر اسلئے کیا کہ کھجور دھونے خشک کرنے، پیک کرنے، ہدیہ پہنچانے کے سارے عمل میں بچوں کو ساتھ رکھیے۔ آپ انکی ایکسائٹمنٹ دیکھ کر حیران ہو جائیں گے۔ ساتھ بتاتے بھی جائیے کہ ہم یہ سب کیوں کر رہے ہیں۔

اب آئیے روحانی نشو و نما کی ایکٹیویٹیز کی جانب۔ چھوٹی سورتوں (آخری بیس سورتیں)، سورہ رحمٰن، سورہ ملک، ان سب کا مختصر معنی بتائیے، قیامت اور جہنم کے ٹاپکس پر بچے کی عمر کے مناسبت سے ہی بات کیجیے۔ حکمت کے ساتھ، ان شاء اللہ!  🙂 جو بھی پڑھائیں، بچے سے پوچھیں کہ  اس نے اس سے کیا سیکھا ہے۔ خود بھی مدد کریں کہ عملی زندگی میں وہ سبق کس طرح اپلائے کیا جائے۔ اسکے علاوہ انبیا، خلفائے راشدین، جلیل القدر صحابہ کرام کی زندگیوں کے بارے میں روز کچھ پڑھیں، سیکھیں۔ اخلاقیات کے بارے میں بھی روز کا ایک ٹاپک رکھیے اور پورا دن اس پر سب عمل پیرا ہوں اور جو بھولے، باقی اسے یاد کروا دیں۔ صبر، سچ بولنا، غصہ نہ کرنا، وغیرہ۔ اسلامیات کی کتاب سے آئیڈیاز لیجیے۔ خیال رہے کہ اوور-ڈوز نہ کریں۔ بس آدھا گھنٹہ بہت ہے۔ مختصر، آسان الفاظ میں سمجھائیے اور جو بھی پڑھائیں، اسکو عملی زندگی میں بھی سوچیں کہ کیسے عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ خوبصورت دعائیں سکھائیں اور بتائیں کہ ڈھیر ڈھیر جو جی چاہے اللہ سے مانگیں کہ وہی دینے پر قادر ہے۔ ان سب کے ساتھ نماز اول وقت میں ادا کرنے کی کوشش کریں اور بچوں کو بھی ساتھ کھڑا کریں۔ اور یہ سب محبت اور صبر کے ساتھ کرنا ہے۔ بچوں کے دل میں رمضان کی محبت ڈالنا مقصود ہے، یہ احساس ڈالنا ہے کہ رمضان کا مہینہ کتنی برکت، کتنی محبت، کتنی مٹھاس لے کر آتا ہے اور ہم سب کو اچھا انسان اور اچھا مسلمان بننے میں مدد کرتا ہے۔وما توفیقی الا باللہ ۔

About نیر تاباں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *