آب حیات

تحریر:سحر شاہ

پانی کی اہمیت و ضرورت سے ہم سبھی واقف ہیں اور اس بات سے بھی کہ ہر طرف پانی کے متوقع قحط کی باتیں ہیں،آنے والے چند سالوں میں پانی کے خاتمے کی پیشگوئی کر کے ڈرایا جا رہا ہے، تیسری بڑی جنگ کی وجہ اسے قرار دینے کے ساتھ ساتھ اس کے محتاط استعمال، احتیاطی تدابیر و حفاظت کے لیے تجاویز پیش کی جا رہی ہیں۔ کہیں حقائق پہ نظرثانی کر کے طفل تسلی دی جا رہی ہے کہ ملک میں پانی کی کمی نہیں ، ضرورت محض ڈیم بنا کر پانی کو ذخیرہ کرنے کی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ تمام باتیں ہی اپنی جگہ صحیح ہیں اور تمام تجاویز عمل درآمد کی منتظر۔ پانی کا مسئلہ صرف پاکستان کو ہی نہیں بلکہ ہمارے ہمسایہ ملک کو بھی درپیش ہے۔ زمینی حقائق سے نظر چرا کر آنے والے وقت سے غافل ہو جانا مسئلہ کو ختم نہیں کر سکتا۔ پانی  ہی  “آب حیات “ہے، تمام تر قومیں زندگی کے بنیادی لوازمات کی حفاظت و فراہمی کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔ یہاں “کوشش” سے مراد عملی اقدامات ہیں جبکہ ہمارے ہاں سالہا سال صرف “کاغذی کارروائیوں” کا سلسلہ ہی چلتا رہتا ہے۔ اب پانی کا جو مسئلہ درپیش ہے، یہ صرف باتوں سے حل نہیں ہوگا،ہم میں سے ہر فرد کو آگے بڑھ کر اپنا کردار نبھانا ہوگا۔ انفرادی اقدامات آخرکار اجتماعی سطح پر بھی اثرانداز ہونے کی بھرپور اہلیت رکھتے ہیں۔

پانی کا بنیادی ماخذ “آسمان” ہے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ

“اور ہم نے آسمانوں سے پانی اتارا ایک اندازے کے مطابق، پھر ہم نے اسے زمین میں ٹھہرایا اور بے شک ہم اس کو لے جانے پر پوری طرح سے قادر (بھی) ہیں۔” (سورہ مومنون-18) 

اللہ تعالیٰ نے گرچہ ہماری ضرورت کے مطابق زمین پر پانی نازل فرمایا ہے مگر اس کے ساتھ ہی ہماری بداعمالیوں پر تنبیہ کی خاطر اگر وہ چاہے تو ہمیں بوند بوند کو ترسا دے۔

پانی کا نزول جب بقدر ضرورت ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ پانی کی کمی نہیں ہے، کمی ہماری حکمت عملی میں ہی ہے۔ پانی کی تقسیم کا مسئلہ لے کر رونا رونے سے بہتر تھا کہ ڈیم بنا کر پانی ذخیرہ کیا جاتا۔ ہمارے ہاں بارشوں کے زیادہ ہونے کے ساتھ ہی جب بھارت کی طرف سے دریاؤں میں پانی زیادہ چھوڑ دیا جاتا ہے تو سیلاب کا باعث بن جاتا ہے ، ہربار ایک ہی صورتحال کا سامنا کرنے والے زرعی ملک کو تو بہت زیادہ محتاط ہونا چاہیے تھا۔ اب بھی ماضی کی لکیر پیٹنے کے بجائے عملی حل کی ضرورت ہے۔ باقی اقوام کی نسبت ہم مسلمان پانی زیادہ استعمال کرتے ہیں کہ مسلمان اور پاکی کا حصول لازم و ملزوم ہے۔ لیکن اچنبھے کی بات ہے سب سے زیادہ پانی کی ناقدری کرنے والے بھی ہم ہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

“کھاؤ پیو مگر اسراف مت کرو۔۔۔” (سورۃ الاعراف-31)

 کھانے پینے میں بھی فضول خرچی یا حد سے بڑھنے سے منع فرمایا جا رہا ہے چہ جائیکہ پانی کے دیگر استعمالات میں پانی کا ضیاع کیا جائے۔ یہ حکم انفرادی سطح پر عمل کا متقاضی ہے۔ جب نعمتوں کا سوال کیا جائے گا تو پانی کا حساب کتاب بھی لازماً لیا جائے گا۔ ہمیں حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے کہ ضرورت کے مطابق ہی پانی استعمال کریں۔

پانی “بارش” کی صورت آسمان سے نازل ہوتا ہے۔ اسے اللہ نے رحمت قرار دیا ہے، اور وہ تمام جانداروں کے لیے بقدر ضرورت اسے اتارتا ہے۔ پھر چاہے بارش کم ہو یا زیادہ، یہ رحمت ہی رہتی ہے، زحمت کا باعث نہیں بنتی۔ یہ ہماری ناقص کارکردگی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ زیادہ بارشیں ہونے پر سیلاب آ جاتے ہیں۔ اسی طرح بارش کم ہونے یا بارشوں کا سلسلہ رکنے کی صورت میں اس کا حل بھی موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے استغفار کی کثرت پہ بارش کے نزول کا وعدہ فرمایا ہے (سورہ نوح-10,11)۔ بے شک وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم محض زبانی استغفار کرتے ہیں یا دل سے اپنی بداعمالیوں پہ پشیماں ہوکے اللہ سے معافی کے خواستگار بنتے ہیں۔ وہ یقیناً رحم کرنے والا ہے لیکن ہمیں اپنا غفلت بھرا طرز عمل بدلنا ہوگا۔ انفرادی حیثیت کے ساتھ ساتھ اجتماعی طور پر بھی پانی کی قدر کرنا ہوگی اور عملی تدابیر اپنانا ہوں گی پھر چاہے وہ ڈیم بنا کر پانی ذخیرہ کرنے کا فیصلہ ہو یا پانی کے بے جا استعمال پہ قابو پانے کا۔ موجودہ دور میں حکومتی اقدامات پہ اثرانداز ہونے کے ذرائع بھی موجود ہیں، بس بھرپور طریقے سے مہم چلانے کی دیر ہے۔

About سحرشاہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *