Home / شمارہ فروری 2018 / آگاہی،احساس ذمہ داری اور قانون سازی

آگاہی،احساس ذمہ داری اور قانون سازی

آگاہی،احساس ذمہ داری اور قانون سازی

تحریر:جویریہ سعید

نئی دنیا کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک گڑھے سے نکالی گئی مٹی کو ٹھکانے لگانے کے لیے دوسرا گڑھا کھودتی ہے۔ ہم ابھی اپنے بچوں کو بہت چھوٹی عمر میں اسکولوں کے حوالے کر دینے کے مسئلے پر غور کر رہے تھے۔ ڈھائی تین سال کی ننھی سی جان کو ماں باپ رنگین کتابوں، اسٹیشنری کے سامان او رنت نئے بھاری بھرکم مضامین سے مزین ثقیل کورس سے نبرد آزما کر دینے کے لیے بستہ لاد کر اسکول بھیج دیتے ہیں۔ اس کے بعد بچہ تعلیم گاہ کو ایسا پیارا ہوتا ہے کہ ماں کی طرف واپس لوٹ نہیں پاتا۔ گھر واپسی کا وقت ٹی وی، کمپیوٹر، ٹیوشن وعیرہ میں گذر جاتا ہے۔ ماں کا کہانی سنانا، نظمیں گنگنانا، مسئلے سننا، ادب تمیز سکھانا سب کام اسکول اور استانی کے ذمے۔ اور اب مختلف کورسز اور ورکشاپس کا چرچا سنتے ہیں۔

اب ہمیں لگا کہ بچوں کو اپنی جسمانی تبدیلیوں اور حفاظت کے بارے آگاہی نہیں ہوتی۔ تو ہم کہتے ہیں کہ سیکس ایجوکیشن شروع کی جاۓ۔پوچھنا یہ ہے اس حساس اور اہم موضوع کو بھی ریاضی اور اردو کے رٹے رٹاۓ اسباق کی طرح اسکول ہی پڑھاۓ گا؟

کوئی کام تو ماں باپ کے لیے بھی رہنے دیں۔ بچوں کو آگاہی دینے کا نکتہ اہم ہے۔ مگر اس میں کئی حساس مقامات آتے ہیں۔

بچے کو حفاظت کے طریقے سمجھاتے ہوۓ خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس کی معصوم ، حسین اور محبوب دنیا کو ایک آسیب زدہ بستی نہ بنادیں؟

چند مریضوں کی وجہ سے ہر رشتے اور ناتے کا اعتبار نہ چھین لیں۔جدید دنیا میں ہارر فلم محض کسی خون آ شام بلا کی کہانی کا نام نہیں۔ ہارر وہ کہانی ہے جو آپ سے امید اور روشنی کی ہر کرن چھین لے، ایک نہ ختم ہونے والی ایسی دہشت کا بیان ہے کہ بلا سامنے نہ ہو، مگر اس کی پہنچ اور شکنجے میں جکڑے جانے کا خیال ہمہ وقت اس طور طاری رہے کہ نا ختم ہونے والی مایوسی امید کی ہر کرن کو کھا جاۓ۔ یہ دہشت انسان کو اندر سے تباہ کر دیتی ہے۔ ہم نے بچوں کو ایسے نہیں ڈرانا کہ وہ ہر رشتے کو عفریت سمجھنے لگے۔اور یہ خوف ان کا بچپن کھا جاۓ۔

دوسرا پہلو یہ کہ بچے معصوم ہوتے ہیں . ایک شیطانی ذہن دس طریقے سوچ سکتا ہے، بچے کو پھسلانے اور خوفزدہ کرنے کے.پھر بہت سے اتنے چھوٹے بچوں کو نقصان پہنچایا جاتا ہے جن کو آپ سمجھا نہیں سکتے۔ آپ کون سی عمر سے یہ تعلیم دینا شروع کریں گے؟ کینیڈا میں چوتھی جماعت میں شروع کی جاتی ہے۔ اس سے قبل child abuse قسم کے کسی کورس کا حوالہ نہیں ملا۔ آپ کا کیا ارادہ ہے؟

پھر جس مغرب کا حوالہ ہے ، وہاں اس کورس کے مقاصد اور مندرجات بالکل مختلف ہیں۔ child abuse سے اس کا تعلق نہیں۔ وہ بچوں کو ایک نئی تبدیلی کے لیے خود مختارانہ چوائسز کے لیے تیار کرتا ہے۔ وہاں چونکہ عفت اور نکاح کے ضروری ہونے کا تصور نہیں ۔ معاشرہ بچوں تک کو آزادی دیتا ہے اپنی جنسی زندگی کی چوائسز کا اسلیے اس کورس کا مقصد بچوں کو آگاہی دینا ہے۔ والدین کے بجاۓ ریاست یہ فریضہ اس لیے انجام دیتی ہے کہ بچے اس معاملے میں خود مختار ہیں۔ کیا ہم بھی اسی قسم کی تعلیم دینا چاہتے ہیں؟

ہماری ضروریات یہ ہیں کہ بچوں کو بتائیں کہ اپنے اور دوسروں کے جسم کی حفاظت کے لیے ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ اپنی جسمانی تبدیلیوں کے ساتھ کس طرح مینج کریں۔ ہماری دین کی تعلیمات اس کے اوامر و نواہی اور اخلاقی ذمہ داریاں بھی ہمارے کیے اہم ہیں۔ یہ سب موضوعات حساس بھی ہیں ۔

اس گفتگو کو کرنے کی ذمہ داری ماں باپ پر ڈ آ لیں۔ کہ وہ اپنے تعلق کو ایک پناہ گاہ اور مربّی بنائیں ۔ اسکولوں اور مدرسوں میں جو گفتگو کی جاۓ وہ اس موضوع کی حساسیت اور معاشرے کی اقدار کو سامنے رکھ کر کی جاۓ۔ یہ گفتگو کرنے والے کی بھی تربیت ہونی چاہیے۔

سب سے اہم بات کہ معاشرے کو احساس دلائیں کہ اصل ذمہ داری آپ کی ہے۔ بچہ بچہ ہے۔ کوئی بھی کورس یالیکچر آپ کو بری الذمہ نہیں کرتا۔ بچوں کی حفاظت کے لیے سخت اور واضح قانون سازی اوران کا نفاذ سب سے زیادہ اہم ہے۔ ظالم کو ڈرائیے کہ وہ کسی حرکت کا ارتکاب کرے گا تو ساری زندگی اس کے نتائج بھگتے گا۔ مغرب میں بھی کسی کورس پر تکیہ کر کے نہیں بیٹھ گئے بلکہ قانون کی کڑی نگاہیں بہت سوں کا ہاتھ روکتی ہیں۔ ہمارے یہاں نہ جانے کیوں مظلوم کو سمجھانے کا کلچر عام ہے۔ ظالم کو سزا کے معاملے میں فلسفے شروع ہو جاتے ہیں۔

About جویریہ سعید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *