Home / شمارہ اگست 2018 / شمارہ جولائی 2018 / اخلاق حسنہ قرآن و حدیث کی روشنی میں

اخلاق حسنہ قرآن و حدیث کی روشنی میں

تحریر:سحرعارف

قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَکُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَقَالَ:إِنَّ مِنْ أَحَبِّکُمْ إِلَیَّ أَحْسَنَکُمْ أَخْلَاقًا

’’عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نہ بد گوئی کرنے والے تھے نہ بد زبانی۔ آپ کا ارشادہے: مجھے تم میں سے وہی لوگ سب سے زیادہ محبوب ہیں جو دوسروں سے بہتر اخلاق والے ہیں ۔‘‘  ( بخاری، الجامع الصحیح کتاب الاداب رقم الحدیث : 6035)

حسن اخلاق اور حسن سیرت ہی انسانیت کا زیور ہے۔ ایک اچھا انسان اخلاق سے ہی بنتا ہے۔ایک حدیث نبوی کے مطابق بہترین انسان سب سے اچھے اخلاق والا انسان ہے۔

ان من خیارکم احسنکم اخلاقا۔

تم میں بہترین وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں (بخاری )

اسلام ایسا دین ہے جو انسان کو اچھا انسان بنانا چاہتا ہے۔ اسی لیے اسلام میں اخلاق کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اپنی عبادت کی غرض و غایت ہی حسن اخلاق پررکھی ہے۔اگر ایمان اور عبادت سے انسا ن میں حسن اخلاق پیدا نہیں ہوتا تو یقیناً ایمان میں نقص اور عبادت بے اثر ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب جیسے جاہل، اجڈ اور بد اخلاق لوگوں کو بااخلاق بنایا ہے۔ اسی لیے آج مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرنا فرض ہے۔

اخلاق کیا ہے؟

اخلاق خلق کی جمع ہے۔ جس کے معنی ملنساری، خوش امزاجی، آداب، خصلت اور مروت کے ہیں۔ امام غزالی ؒ لکھتے ہیں۔

جس طرح ظاہری صورت کے لحاظ سے انسان کو خوبصورت یا بدصورت کہتے ہیں، اسی طرح روحانی صورت کے لحاظ سے اس کو خوش اخلاق یا بداخلاق کہا جاسکتا ہے۔(احیاءالعلوم)

سید سلیمان ندوی ؒ کہتے ہیں کہ

اخلاق سے مقصود باہم بندوں کے حقوق  و فرائض کے وہ تعلقات ہے جن کو ادا کرنا انسان کے لیے ضروری ہے(سیرۃ النبی ابن  ہشام6)

اخلاق کی اقسام

1:اخلاق حسنہ

2: اخلاق سیئہ

میزان عمل میں بھاری

عَنْ أَبِی الدَّرْدَاء ِ عَنْ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ شَیْء ٍ أَثْقَلُ فِی الْمِيزَانِ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ

 حضرت ابو درداء سے روایت ہے کہ نبی ؐ نے فرمایا: قیامت کے دن میزان عمل میں سب سے  بھاری اچھے اخلاق ہوں گے۔(ترمذی، الجامع الصحیح کتاب البرو الصلۃ، الحدیث 2002)

حضرت ابو دردارضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپ ؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن تمام انسانوں کے اعمال میزان عمل میں تولے جائیں گے اگر نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگاتو جنت میں داخل ہوگا۔

مقصد بعثت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بعثت  کا مقصد ہی حسن اخلاق کی تکمیل کو بنایا گیا ہے

إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ (مسند احمد ٨٩٥٢)

بے شک میں اخلاق حسنہ کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں۔

کامل مومن

اچھے مومن کی نشانی ہے کہ وہ اچھے اخلاق کا حامل ہوتا ہے۔

عَنْ أَبِی الدَّرْدَاء ِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:  وَإِنَّ صَاحِبَ حُسْنِ الْخُلُقِ لَيَبْلُغُ بِهِ دَرَجَةَ صَاحِبِ الصَّوْمِ وَالصَّلَاةِ

حضرت ابو درداء روایت کرتے ہیں کہ آپ ؐ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حسن اخلاق کی تکمیل کے ذریعے مومن  رات بھر کی  نماز اور دن بھر روزے کے برابر اجر پالیتا ہے۔ ( ترمذی الجامع الصحیح کتاب البر والصلۃحدیث2003)

؏  حسن کردار سے نور مجسم ہوجا

کہ ابلیس بھی تجھے دیکھے تو مسلماں ہوجائے

اخلاق حسنہ آپ ؐ کی صفت

اخلاق حسنہ انبیا کی امتیازی صفت ہے اور انبیا کی اسی صفت نے اشاعت اسلام میں ریڑھ کی ہڈی کا سا  کام کیا۔ رسول االلہ ؐ کی پوری زندگی اخلاق حسنہ کی مثالوں سے بھری پڑی ہے، جن کا تذکرہ یہاں شروع کیا تو صفحات کم پڑجائیں گے۔ رسول اللہ ؐ باقاعدہ اچھے اخلاق کے لیے دعائیں مانگا کرتے تھے

اللھم انی اعوذبک من منکرات الاخلاق والاعمال والاھوا

اے اللہ میں پناہ مانگتا ہوں ، برے اخلاق، برے اعمال اور بری خواہشات سے۔(ترمذی الجامع الصحیح کتاب الدعوات رقم الحدیث: 3591)

یہی وجہ ہے کہ اللہ نے حضور ؐ کو حسن اخلاق کے اعلیٰ درجے پر فائز کیا اور آپ ؐ کےا سوہ حسنہ کو بہترین نمونہ قرار دیا ۔

وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِـيْمٍ  (القلم:4)

بے شک(آپؐ) اخلاق کے اعلیٰ درجے پر فائز ہیں۔

سورۃ الاحزاب میں ارشاد باری تعالیٰ  ہے:

لَّـقَدْ كَانَ لَكُمْ فِىْ رَسُوْلِ اللّـٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب: 21)

بے شک تمھارے لیے رسول اللہ ؐ میں اچھانمونہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دور حاضر میں اخلاق حسنہ کو بہت اہمیت دی گئی ہے  لیکن آج ہماری زبان، اشاروں ، رویوں سے دورے مسلمان بدظن ہورہے ہیں ، جس سے ہمارے معاشرے میں تعلقات خوشگوار نہیں ہوتے بلکہ نفرتوں کے الاؤ روشن ہوجاتے ہیں۔ آج زخمی انسانیت کے ذہنی و جسمانی دکھوں کا مداوا صرف اور صرف اچھے اخلاق ہیں۔

اللہ کے بندوں میں سب سے اچھا وہ ہے جس کےاخلاق اچھے ہیں(طبرانی)

مسلمانوں کے درمیان آ ج اختلافات کی سب سے بڑ ی وجہ زبان کی بے احتیاطی ہے ، جو بداخلاقی کا پہلا زینہ ہے جب کہ انفرادی زندگی سے ریاستی سطح تک اخلاقیات سب سے اہم چیز ہے۔ اختلافات کی دوسری بڑی وجہ قرآن و حدیث سے دوری ہے۔ آج ہم قرآن و حدیث کو چھور کر دنیا کی رنگینیوں میں گم ہو کر رہ گئے ہیں  اور اسی وجہ سے ڈگمگاتے پھرتے ہیں۔

رسول اللہ ؐ نے خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر کہا کہ:

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ (آل عمران:103)

اور اللہ کی رسی (قرآ ن و سنت)کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اخلاق حسنہ کی پیروی  کرنےو الا بنادے۔

بقول اقبال

 ؏ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت کو نہیں بدلا

    نہ جس کو  خیال  اپنی  حالت کے  بدلنے  کا

About سحر عارف

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *