اداریہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

امید ہے کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ماہنامہ اسرا کی معاون مدیرہ کی حیثیت سے اس بار ایک بے حد اہم پیغام کے ہمراہ  آپ کے روبرو حاضر ہوں۔جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہو گا کہ اس ماہ کے آخری عشرے میں  ملکی تاریخ کے گیارہویں عام انتخابات متوقع ہیں۔ووٹ کے استعمال کے حوالے سے ہمارے ہاں دو رویے  بہت عام ہیں۔

پہلا تو یہ کہ اکثر لوگ  اپنا ووٹ تعلقات کی بنا پر یہ جانتے ہوئے بھی کہ متعلقہ امیدوار اس کا اہل نہیں ظاہری مروت کی بنا پر دے دیتے ہیں۔یہ انتہائی غیر ذمہ داری والا رویہ ہےاس طرح شر پسند اور فسادی سوچ کے حامل سیاستدانوں  کے ملک پر تسلط کے امکانات بڑھ جاتےہیں جس کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ ملک کی بربادی کے ذمہ دار وہ ووٹرز بھی ہوتے ہیں جو جانتے بوجھتے ایسے حکام کو منتخب کرتے ہیں۔

دوسرا رویہ یہ کہ کچھ لوگ  کسی کے دباؤ یا خواہشات کے احترام میں اور  کسی  مالی فائدے کے پیش نظر  نااہل  سیاستدانوں کو ووٹ دے  دیتے ہیں۔جدی پشتی جاگیرداروں ،سجادہ نشینوں کے ذہنی غلام اور برادری کے بت کو پوجنے والے اشخاص یہ سوچ کر خود کو طفل تسلیاں دیتے ہیں کہ کون سا ہمارے ووٹ سے حالات سدھر جائیں گے؟ ہم خودبھی تو  گناہ  گار ہیں۔ایک گناہ مزید سہی ،اس سے کون سی قیامت آ جائے گی۔لیکن یہ تاویل بھی شیطان اور نفس کے بڑے دھوکوں میں سے ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔گناہوں سے تائب ہونے کی فکر ہونی چاہیے ۔نہ کہ گناہوں میں اضافے کی۔نیز انفرادی گناہ کا نتیجہ فرد کو بھگتنا پڑتا ہے جب کہ جس گناہ کے نتیجے میں پورے ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو وہ بذات خود ایک بہت بڑا جرم بن جاتا ہے۔

اس دعا کے ساتھ  آج کی نشست کا  پیغام یہ ہے کہ ہم سب کاایک ایک  ووٹ بہت قیمتی ہے۔اس کی حیثیت گواہی کی سی ہے۔ضرورت کے موقع پر گواہی کو چھپانا بھی جرم میں شمار ہوتا ہے۔لہذا اپنا  اہم قومی و اخلاقی فریضہ سمجھ کر ووٹ ضرور استعمال کیجیے اور ایسے امیدواروں کو  ووٹ دیں جنہیں آپ دیانت داری سے  ملک کے لیے مخلص سمجھتے ہوں اور وہ اہل بھی ہوں۔ اگر آپ کے نزدیک ایساکوئی نہ ہو  تو پھر ان کا انتخاب کیجیے جو نسبتاًکم کرپٹ ہوں اور جن سے کسی قدر امید ہو کہ  وہ ملک و قوم کے لیے کچھ اچھا کام کر ہی لیں گے۔۔

اللھم لا تسلط علینا من لا یرحمنا

اے اللہ! ہم پر ایسا حاکم مسلط نہ کیجیے جو ہم پر مہربان نہ ہو۔

ملک وقوم کی بہتری کی خواہش کے ساتھ۔

دعاگو:عظمیٰ عنبرین

About عظمیٰ عنبرین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *