اداریہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

السلام علیکم و رحمتہ  اللہ و برکاتہ

الیکشن ختم ہوئے۔تحریک انصاف کو مبارک باد ۔دعا  اور امید ہے کہ اب  ملک بہتری و ترقی کی طرف گامزن ہو گا ان شاء اللہ۔عوام سے گزارش ہے کہ آپ جس سطح پر بھی ہوں اپنی ذمہ داریوں کو خلوص سے ادا کریں۔اگر کسی سیاسی پارٹی سے آپ کی وابستگی ہے تو کسی کے غلط  کام کو درست قرار دینے میں اپنا وقت اور انرجی ضایع مت کریں  چاہے غلطی پر آپ کی پسندیدہ پارٹی ہی کیوں نہ ہو پہلے انسان ہونے کا فرض ادا کریں اور بطور پاکستانی آپ  جس  شعبہ  ہائے زندگی   میں بھی ہیں  ملک کو اپنا جان کر اس کی  تعمیر و ترقی اورخوشحالی کے لیے، اسے منظم بنانے کے لیے ، جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے لیے ہونے والی کوششوں میں سے جس  میں بھی ممکن ہو عملی قدم بڑحائیں۔ ہر تعمیری سرگرمی میں ذاتی سطح پر آپ کا ڈالا گیا حصہ ہی آپ کے جذبہ حب  الوطنی  کا اورآپ کی  آنے والی نسلوں کے لیے روشن، خوشحال اور ترقی یافتہ  پاکستان کا ضامن ہو گا۔  یوم آزادی اور عید الاضحیٰ کی بھی آمد آمد ہے۔ قارئین کو  ڈبل مبارک باد۔ چودہ اگست کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک پیغام کا بہت خیر مقدم کیا   جارہا ہے،ہم بھی اس کی تائید اور اعادہ کرتے ہیں : ”اس چودہ اگست پرجھنڈیوں کی بجائے پودے خریدیں۔اگر پانچ کروڑ لوگ بھی دس دس پودے لگاتے ہیں تو پچاس کروڑ پودے لگیں گے۔“

اب کچھ اسرا میگ  کے بارے میں  عرض کرنا ہے۔اس میگزین کی اشاعت  کو الحمدللہ تین برس ہو چکے ہیں۔ جو قارئین رسالے کو باقاعدگی سے پڑھتے اور فیڈ بیک دیتے رہے ہیں  وہ اس کے مقاصد سے بخوبی آگاہ ہیں  اور ان کا ماننا ہے کہ بڑی تعداد  میں شایع ہونے والے دیگر دینی یا سماجی رسالوں میں اسرا میگ ایک ٹرینڈ سیٹر کے طور پر ابھرا ہے اورانٹرنیٹ پر اردو کے معتبر  جرائد  میں  شامل ہے۔ اس پزیرائی پر جہاںہم قارئین  و مصنفین  کے مشکورہیں کہ انھوں نےتبصرےو تجاویز عنایت کیں اور اپنی پسندیدگی کا   اظہار فرمایا جو بلاشبہ ہماری ٹیم کے  لیے فخر اور حوصلہ کا باعث بنا ، وہاں چند تاخیر سے جوائین کرنے والے ریڈرز نے کچھ سوالات بھی کیے۔

جس کی بنا پر مجھے ضرورت محسوس ہوئی کہ موجودہ اداریے میں ان سوالات کو ایڈریس کروں ۔ایک سوال تو یہ تھا کہ  اِسرا میگ کس فقہ یا مسلک کو فالو کرتا ہے،دوسرا یہ کہ اس کے  وزٹس کی پوزیشن کیا ہے؟تیسرا اس کی حیثیت ایک پی ڈی ایف فائل کی لگتی ہےاور یہ کہ اس کے ذریعے کس حد تک لوگوں میں اور معاشرے میں اچھی تبدیلیاں کی گئی ہیں ؟

جوابات کچھ یوں ہیں کہ اِسرا میگ  امن و سلامتی  کو اپنا پیغام بناکر  مسلک ، فرقہ اورگروہی تعصبات سے بالاتر ہے،مسلکی  تعصب سے ہٹ کر پوچھے گئے کسی بھی دینی مسئلے پر فقہی جواب میں  مختلف آرا کو دلائل سے بیان کرتا ہے اور فیصلہ مخاطب پر چھوڑ دیتا ہے۔ اِسرا کا وژن اور مشن یہ ہے کہ مذہب و سوشل سائنسز کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ایسی  تربیت فراہم کرنا،جس کا مقصد کسی خاص شخصیت، مسلک یا  فرد کی اجارہ داری قائم کیے بنا  اللہ کی رضا کے لیے اپنی،فرد کی اور معاشرے کی اصلاح کرنا ہے۔

نیز  میگزین کی تحریروں میں دین و دنیا ، سماج کے مسائل اور عملی حل ہیں یعنی یہ  صرف مسئلے کو فوکس نہیں کرتا بلکہ مسئلے کا حل بھی بتاتا ہے ساتھ ساتھ  ماہ رمضان ، عیدین ، عالمی تہوار، پانی کی نعمت  وغیرہ پر تحریریں ہو ں یا  رب العالمین کی عالی شان کتاب قرآن مجید کے فہم کی کوشش  یا  پھر سالانہ خصوصی شمارہ جات سبھی  کچھ  سنجیدہ اور  دلچسپ اسلوب میں شامل ہوتا ہے۔

 جب  سے اس میگزین کا اجرا  ہوا  ہے  اس  تمام عرصے میں اس   کی سائٹ پر ہزاروں کی تعداد میں وزٹس ہوئے ہیں ۔آخری سوال کا جواب یہ ہے کہ کافی مہینوں  تک میگزین باقاعدہ  ڈیزائین ہو کر بھی شایع ہوتا رہا ہے۔ بہت سے قارئین کو ضحامت کی بنا پر ڈاؤن لوڈ کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا  تو   ان کی خواہش کے احترام میں  غیر ضروری ڈیزائننگ ہٹا کر،  لیکن اپنے اصل مقصد کو فوکس میں رکھتے ہوئےپی ڈی ایف کی شکل میں  رسالہ  جاری کرنا بہتر لگا۔ ابتدا  میں پہلا مقصد نئے لکھاریوں کو پروموٹ کرنا   اور قارئین  تک اچھا پیغام پہنچانا تھا۔چنانچہ جب رسالے کا آغاز ہوا تو ذیادہ تر  لکھنے والے وہ تھے جن میں لکھنے کی صلاحیت اور شوق تو تھا لیکن وہ اچھا  لکھنے کے فن سے آشنا نہیں تھے۔اِسرا میگ کی شکل میں جہاں انہیں ایک پلیٹ فارم ملا کہ وہ عمدہ خیال ذہن میں لانے اور اسے الفاظ میں کوڈ  کر کے جملوں ،  پیراگراف  اور بالآخر مربوط مضمون کی شکل میں ڈھال کر مخاطب تک پہنچانے کی تربیت حاصل کر پائے  وہاں اس بات سے قطع نظر کہ لکھنے والوں کی اکثریت نوآموز تھی،اچھا  پیغام  وسیع پیمانے پر پہنچنے والا مقصد الحمدللہ بخوبی حاصل ہوا۔

            سب سے اہم بات یہ کہ “تواصی بالحق اور تواصی بالصبر” کی جو ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے اس میں اصل کام لوگوں کو بدلنا نہیں بلکہ اپنی سی کوشش کرنا ہے۔تو جہاں تک لوگوں میں اور معاشرے میں اچھی تبدیلیوں کا تعلق ہے توہم  اپنی حد تک یہ کوشش جاری رکھے  ہوئے ہیں۔ ایک دن  انشاء اللہ یقینی طور پر آنا ہے جب اللہ سے ہماری ملاقات ہو گی تو ہم اپنے حصے کا  روشن چراغ پیش کرنا چاہیں گے کہ ہم نے اپنے وسائل کے مطابق خود کو بھی بچایا  اور  دوسروں  تک بھی بات پہنچائی کہ یہی ہم کر سکتے تھے تو جس طرح ہم نے خود کو  اور دوسرے لوگوں کو بچانے کی کوشش کی تو اب بھی ہم بڑے دن کے عذاب سے بچنے کے امیدوار ہیں  ۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں فلاح کے راستے دکھاتا  رہے تاکہ  ہم دنیا و آخرت میں کامیاب اور سرخرو ہو جائیں۔آمین

عظمیٰ عنبرین

About عظمیٰ عنبرین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *