اداریہ

اگست کا مہینہ اہل پاکستان کے لیے بہت ہوتا ہے۔چودہ اگست 1947کو پاکستان معرض وجود میں آیا تھا جس کا مقصد مسلم تشخص کی بقا اور اسلامی اقدار کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرنا تھا۔ آج بھی ۱۴ اگست ہے ، کم و بیش سات دہائیاں گزر چکی ہیں مگر معلوم نہیں ہم اہل پاسکتان اس مقصد میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں جس کے لیے ہم نے خدا سے یہ زمین مانگی تھی۔ ایک طرف مذہبی انتہا پسندی کو ہم ’’اسلامی ریاست ‘‘ کا عنوان دے رہے ہیں تو دوسری جانب ’’سیکولر پاکستان‘‘ کا نعرہ لگا کر اُن شہدا سے غداری کر رہے ہیں جنھوں نے  کلمۂ حق کے خاطر اس ملک کو بنایا۔  کسی نئے اچھوتے پیغام کے بجائے اس ادارے ہم وہی الفاظ پیش کرنا چاہیں گے جو قائد اعظم نے پاکستان کی قانون ساز اسمبلی سے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا:

You are free; you are free to go to your temples, you are free to go to your mosques or to any other place of worship in this State of Pakistan. You may belong to any religion or caste or creed that has nothing to do with the business of the State.

’’تم آزاد ہو۔ تم آزاد ہو کہ تم اپنے مندروں میں جاؤ۔ تم آزاد ہو کہ تم اپنی مساجد میں جاؤ یا اس ریاست پاکستان میں کسی اور عبادت گاہ میں جاؤ۔ اس کا کوئی تعلق ریاستی معاملات سے نہیں ہے۔‘‘

14 اگست 1947ء کو پاکستان کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب میں فرمایا:

“It dates back thirteen centuries ago when our Prophet not only by words but by deeds treated the Jews and Christians, after he had conquered them, with the utmost tolerance and regard and respect for their faith and beliefs. The whole history of Muslims, wherever they ruled, is replete with those humane and great principles which should be followed and practiced.”

’’یہ تیرہ صدیاں قبل کی بات ہے کہ جب ہمارے رسول ﷺ نے صرف لفظی طور پر نہیں بلکہ عملی طور پر یہود و نصاریٰ کے ساتھ ان پر فتح یاب ہونے کے بعد ان کے عقائد و ایمانیات کے ساتھ انتہائی تحمل اور عزت کا معاملہ فرمایا۔مسلمانوں کی تمام تاریخ، جہاں کہیں انہوں نے حکومت کی،ان عظیم اور مہربان اصولوں سے مالامال ہے جن کی اتباع کرنی چاہئے اور ان پر عمل ہونا چاہیے۔‘‘

About حافظ محمد شارق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *