اداریہ

آپ سب  پر سلامتی ہو۔

آج کے اہم موضوع کو ایک واقعے سے شروع کروں گا۔ میرے ایک رشتے دار کا کاروبار سوئمنگ پول کے درآمد شدہ آلات  انسٹال کرنے اور بیچنے سے متعلق  ہے۔ انہوں نے ایک تجربہ بتایا کہ پاکستان کے ایک بڑے حکومتی  ادارے  سے انہیں آفر ہوئی کہ وہ اپنے آلات وہاں کے سوئمنگ پولز میں انسٹال کریں۔ اس ادارے کے پولزمیں وہ آلات بہت پرانے لگے  ہوئےتھے۔ میرے رشتے دار نے کہا کہ ہم ۴۰ ملین روپے میں سب کچھ نیا اور جدید لگادیں گے۔ ادارے کے حکام نے ان سے کہا کہ نہیں ایسا نہیں کرنا۔  آپ نے ۷۵ ملین روپے کا بل بنانا ہے اور صرف ان آلات کی ریپئیرنگ کا کام کرنا ہے کیونکہ ہمیں اوپر والوں کو بھی بہت کچھ دینا  ہوتا ہے۔یعنی وہ  نئے آلات جو چالیس  ملین میں لگ رہے تھے ان کا بل وہ ادارہ ۷۵ ملین کا بنوارہا تھا اور وہ بھی صرف ریپئیرنگ کا۔  اس سے ہم  اندازہ لگاسکتے ہیں کہ  اداروں میں کرپشن کس درجے میں موجود ہے۔

 کرپشن  ختم ہونے کی اصل وجہ یہ نہیں کہ ہم اسے ختم نہیں کرنا چاہتے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم دوسروں سے تو کرپشن ختم کرنے کی توقع کرتے ہیں لیکن خود اپنے حصے کی کرپشن پر مختلف جواز دے کر اسے جائز کرلیتے ہیں۔ نیز ہم کرپشن کو صرف حکومتی اداروں یا سیاستدانوں تک محدود رکھتے ہیں  جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کرپشن ہمارے ہاں ایک طالب علم میں بھی پائی جاتی ہے جب وہ نقل کرکے پاس ہونے کی کوشش کرتا ہے۔

میں نے جب کرپشن پر تحقیق کی تو علم ہوا کہ ہم میں سے ہر شخص اس کی گرفت میں براہ راست یا بالواسطہ آسکتا ہے۔ چنانچہ سب سے پہلا کام یہ ہے کہ  کرپشن  کے اصل مفہوم اور اس کی وسعت کو  جانیں  تاکہ ہم سب سے پہلے خود کو اس  برائی اور گناہ سے بچاسکیں۔

قرآن میں واضح طور پر کرپشن کی ممانعت ہے:

وَلَا تَاْكُلُوٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِهَآ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِيْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْـمِ وَاَنْتُـمْ تَعْلَمُوْن [سورہ البقرہ 188 ]

ترجمہ: اور ایک دوسرے کے مال آپس میں ناجائز طور پر نہ کھاؤ، اور انہیں حاکموں تک نہ پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ گناہ سے کھا جاؤ، حالانکہ تم جانتے ہو۔

دوسری جانب پوری دنیا میں کرپشن  کو قانونی اور اخلاقی جرائم میں شمار کیا جاتا ہے۔  آج کا یہ موضوع اسی بات پر ہے کہ کرپشن کیا ہے اور اس کی وسعت کہاں تک ہے اور کیا ہم تو اس نرغے میں نہیں آتے؟

کرپشن کیا ہے؟

کرپشن ایک بہت وسیع مفہوم ہے۔ اس کے لغوی معنی عام طور پر برائی، خرابی، بدعنوانی نیز رشوت خوری وغیرہ کے لیے جاتے ہیں۔ عام طور پر کرپشن سے مراد رشوت کو لیا جاتا ہے لیکن یہ لفظ اپنے حقیقی معنوں میں بہت وسیع ہے۔

کرپشن یا بدعنوانی کی تعریف  ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل اس طرح کرتا ہے:

Generally speaking as “the abuse of entrusted power for private gain”. Corruption can be classified as grand, petty and political, depending on the amounts of money lost and the sector where it occurs

یعنی کرپشن سے مراد کسی بھی اختیار کا ناجائزیا ناحق  استعمال  ہے تاکہ ذاتی فائدہ حاصل کیا جاسکے۔

گویا کرپشن ہونے کے لیے دو لوازمات کا ہونا ضروری ہے:

1۔ کسی بھی اختیار کا ناجائز یا ناحق استعمال

2۔ اس کا مقصد کسی ذاتی فائدہ کا حصول ہو

مثال کے طور پر ایک ٹریفک کانسٹیبل کسی کو سگنل توڑتے ہوئے دیکھ کر اسے پکڑ لیتا ہے ۔ اب بجائے اس کے وہ چالان کرے، وہ اس سے رشوت لے کر اسے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ کرپشن ہے کیونکہ اس میں  اختیار کا ناجائز استعمال ہورہا ہے اور اس سے ذاتی فائدہ بھی مل رہا ہے۔

اسی طرح ایک کلرک ایک فائل کو آگے نہیں بھیجتا   جب تک کہ اسے کچھ رقم نہ دی جائے۔ یہاں بھی وہ اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کررہا ہے تاکہ ذاتی فائدہ حاصل کیا جائے۔

ایک افسر اپنے ملازم کو اپنے ذاتی کام کرنے پر مجبور کرتا ہے بصورت دیگر وہ اسے تنگ کرتا اور اس کو ملازمت سے نکالنے کی دھمکی دیتا ہے۔ یہاں بھی افسر نے ذاتی فائدہ کے لیے اختیارات کا غلط استعمال کی اور یہ بھی کرپشن ہے۔ یہاں ذاتی فائدہ رقم کی صورت میں نہیں بلکہ کسی اور شکل میں ہے۔

 کرپشن کی اقسام

گویا کرپشن کو ہم دواقسام   میں منقسم کرسکتے ہیں۔ ایک مالی کرپشن اور دوسری غیر مالی ۔

مالی کرپشن بہت کامن ہے۔  مثال  کے طور پر ایک منسٹر اپنے جاننےوالے کو اس لیے ٹھیکہ دیتا ہے کہ وہ اس میں سے کچھ کمیشن حاصل کرے گا تو یہ کرپشن ہے۔ایک پولیس والا رشوت لے کر ملزم کو چھوڑ دیتا تو یہ کرپشن ہے ۔ ایک سرکاری آفیسر کسی کا جائز کام کرنے کے لیے بھی ذاتی طور پر رقم لیتا ہے تو یہ کرپشن ہے۔

 غیر مالی کرپشن میں مثال کے طور پر ایک پروفیسر اگر اپنی بیٹی کو ناجائز طور پر زیادہ نمبر دیتا ہے تو یہ بھی کرپشن ہے۔ ایک پولیس والا اپنے کسی جاننے والے کواس کے جرم کے باوجود چھوڑ دیتا ہے تو یہ بھی کرپشن ہے۔ ایک جج اپنے تعصب کی بنا پر  کسی کے خلاف فیصلہ دے دیتا یا اس کے حق میں فیصلہ کرتا ہے تو یہ بھی کرپشن ہے۔ایک مذہبی  لیڈر جب اپنے  منصب کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے  اپنے مفادات کو  بچانے کے لیے حق کو چھپاتا ہے تو یہ بھی ایک طرح کی کرپشن ہے۔

 کرپشن کا دائرہ کار

کرپشن کا یہ معاملہ صرف کاروبار اور دفاتر تک محدود نہیں۔ اس کا دائرہ کار ہمارے گھروں تک وسیع ہے۔ اسے ہم سماجی کرپشن کہہ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پرایک ملازم اپنے دفتری اوقات میں دفتر کا کام چھوڑ کربلا اجازت  ذاتی کام کرتا ہے تو یہ بھی کرپشن ہے۔ ایک میاں اپنی بیوی یا بیوی اپنے میاں سے بے وفائی کرتی ہے تو یہ بھی کرپشن ہے۔ ایک باپ کا اپنے بچے کے حقوق پورا نہ کرنا، یا بچوں کاوالدین کے فرائض ادا نہ کرنا بھی کرپشن ہے۔ ملازمین کا بنا کسی جائز عذر کے اپنے فرائض پورے نہ کرنا بھی کرپشن ہے۔ فیس بک پر وقت ضائع کرنا بھی کرپشن ہے۔

اسی مفہوم کو اگر ہم وسیع کرلیں تو ہر عضو کو غیر اخلاقی سطح پر استعمال کرنا  بھی کرپشن ہے۔ چنانچہ آنکھوں کی کرپشن بدنگاہی ہے، زبان کی کرپشن جھوٹ ، بدزبانی، غیبت اور بہتان ہے،دماغ کی کرپشن جنسی خیالات کو فروغ دینا ہے، ہاتھوں کی کرپشن کسی بے قصور پر ہاتھ اٹھانا ہے، ٹانگوں کی کرپشن قدم غلط سمت میں اٹھانا ہے، کانوں کی کرپشن ٹوہ لینا یا نا مناسب باتیں سننا ہے وغیرہ۔

 کرپشن سے بچاؤ

 یوں تو یہ ایک وسیع مضمون ہے البتہ اصولی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ کرپشن سے بچنے کے لیے ان دو اہم باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ درج ذیل مراحل کا طے کرنا ضروری ہے:

1۔  اپنے پیشے، منصب یا عہدے کے مطابق سب سے پہلے اپنے حقوق و فرائض  کی حدود جانی جائے۔

2۔خود کو  اس  حد تک محدو دکیا جائے۔

3۔ناجائز  ذاتی مفاد کو محض اس وجہ سے جائز نہ سمجھ لیا جائے کہ دوسرے بھی یہی کام کررہے ہیں۔

آخر میں:

 اسرا میگزین کی جانب سے تمام اہل اسلام کو عید الاضحیٰ مبارک۔

 

مدیر: پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل

About ڈاکٹر محمد عقیل

One comment

  1. MOHTARAM, MASALA YE HAY K CORRUPTION KAISAY KHAMTAM KI JAI OR AGER NAHI HO RAHI HAY TO ISKA ZIMAY DAR KON HAY?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *