اداریہ

سب سے بڑا مسئلہ

تحریر:پروفیسر ڈاکٹر محمد عقیل

قارئین کرام  ، سلام پیش خدمت  ہے ۔

دوستو، ہم میں سے کوئی شخص اس دنیا کو امتحان گاہ سمجھے یا نہ سمجھے، اسےاپنی ضروریات اور خواہشات کی تکمیل کے لیے دوسروں سے تعاون  لینا لازمی ہے۔ چنانچہ وہ بچہ ہو یا  بوڑھا، مرد ہو یا عورت،  امیر ہو یا غریب، بادشاہ ہو یا فقیر، افسر ہو یا نوکر، آجر ہو یا مزدور سب کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ اسی ضرورت کی بنا پر ہم چھوٹے یا بڑے  گروپس بناتے ہیں۔

میرے دوستو، اصل بات یہ  ہے کہ ہم فرد کے طور پر کچھ بھی نہیں۔ ہم ایک دوسرے سے تعاون کیے بنا  دو قدم نہیں چل نہیں سکتے۔ جب چل نہیں سکتے تو گروپ بنانا، انہیں برقرار رکھنا اور انہیں ترقی دینا لازمی امر ہے ۔یہ گروپ گھر، خاندان،ادارہ، کمیونٹی،  محلہ، علاقہ، شہر،صوبے ،  ملک، براعظم ، دنیا اور کائنات پر مشتمل ہوتے ہیں۔  ان تمام گروپس میں  دیگر انسانوں سے انٹرایکشن کرنا لازمی  ہے ۔انٹرایکشن کرتے وقت شکایات کا ہونا بھی ایک نیچرل بات ہے۔ یہ شکایات دراصل اس امتحانی پرچے کے ایم سی کیوز ہیں۔ جس نے شکایت پیدا ہونے کے بعد ان سوالوں کا اچھے اور احسن طریقے سے جواب دے دیا اور خود کو ان کے مطابق ڈھال لیا وہ بندوں سے تعلق کے اہم امتحان میں کامیاب ہوگیا ۔

میرے بھائیو، ان سوالو ں مِیں ایک اہم سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے ،  جب گروپ میں کوئی شخص ہم سے  آگے بڑھ جاتا ہے۔ ہمیں رشک ہوتا ہے کہ میں ایسا کیوں نہیں ہوسکا۔ یہ رشک ایک مثبت چیز ہے اور ہمیں بھی اگر ممکن ہوتو اس سے آگے نکلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن جب اس مثبت اور سادہ سے محرک میں منفی آمیزش ہوتی ہے تو یہ حسد بن جاتا ہے۔ اب ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح آگے نکلنے والے شخص سے وہ  پوزیشن  چھن جائے، اور ہمیں مل جائے، اگر ہمیں نہ بھی ملے تو  اسے کوئی نقصان ہوجائے۔ تو اس سوال کا درست جواب ہے کہ ہم اس شخص کی طرح اگر بن سکتے ہیں تو مثبت طور پر کوشش کریں اور جب تک نہ بن پائیں تب تک اس کی کامیابی پر خوش ہوں کیوں کہ اس کی کامیابی گروپ کی کامیابی ہے۔ اور گروپ کی کامیابی ہماری کامیابی ہے۔میرے ساتھیو، گروپ کا دوسرا مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی شخص کی کوئی بات ہمیں بری لگتی ہے۔ہمارے ذہن  میں وسوسے آتے ہیں کہ شاید یہ ہمارے خلاف ہے، شاید یہ ہمیں نقصان پہنچانا چاہتا ہے ، شاید یہ ہم سے حسد کرتا ہے، شاید یہ یا شاید وہ۔ اسے بدگمانی کہتے ہیں۔ اس  بارے میں پہلی بات تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ مضبوط درخت جس کی جڑیں زمین کے اندر پیوست ہوں اسے معمولی ہوا کے جھونکے نہیں گراسکتے۔ تو کسی کی سازش یا حسد ہمیں اس وقت تک نقصان نہیں پہنچاسکتی جب تک ہم اخلاقی طور پر اعلی جڑوں کے ساتھ کھڑے ہوں ۔ نیز ہمیں انسان کو  خطا کا پتلا سمجھ کر اسے معاف کرنے اور اس کے حق میں دعا کرنے کی عادت ڈال لینی چاہیے تاکہ گروپ چلتا رہے ۔

اس امتحان کا ایک اور اہم سوال نفرت، بغض کینہ اور انتقام لینے سے بچنا ہے۔ انتقام لینا کسی کو تنبیہ کی حد تک تو  گوارا ہے لیکن اس سے آگے بڑھ کر خود ہی ظالم بن جانا ہمیں اس اخلاقی حمایت سے محروم کردیتا ہے جس کی بنا پر ہمارا تزکیہ  ممکن ہے۔

اس پرچے میں اور بھی بے شمار سوال ہیں جو مختلف حالات میں مختلف لوگوں پر مختلف طریقوں سے وارد ہوتے ہیں۔ چونکہ ہم سب مذہبی تناظر میں باتیں کررہے ہیں تو ایک مذہبی گروپ میں عام طور درج ذیل  خامیاں پیدا ہوسکتی ہیں جن  پر کڑی نظر رکھنا چاہیے اور ان سے بچنا چاہیے۔

غرور و تکبر، بے نیازی، اپنے آپ کو عقل کل سمجھنا، اپنے سوا ہر ایک کا محاسبہ کرنا، خود غرضی،داروغہ بن کر لوگوں کو  جہنم کی وعیدیں سنانا، دین کے نام پر حاصل کیے گئے  پیسوں کو ذاتی  استعمال میں لینا ، اپنے مذہبی دوستوں اور ساتھیوں  کو دوسروں کے سامنے حقیر کرکے دکھانا اور خود معتبر بن جانا، حاصل ہونے والی عزت، شہرت اور محبت کو  فارگرانٹڈ لینا، مخلص ساتھیوں کی  قدر نہ کرنا، بار بار احسان جتانا، ٹیلینٹڈ لوگوں کو آگے بڑھنے میں مدد نہ کرنا ۔ اور ان سب غلطیوں سے بڑی غلطی یہ ہے کہ اپنی غلطیوں کا ادراک نہ ہونا۔ احساس دلانے پر بھی احساس  نہ ہونا۔

اگر ہم یہ جان لیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے بنا  ہم زندگی نہیں گذارسکتے اور یہ بھی جان لیں کہ دنیا کے تمام تعلقات عارضی اور ختم ہوجانے والے ہیں اور یہ بھی سمجھ لیں کہ یہ سب کچھ ایک امتحان ہے تو ہم بہت آسانی سے اپنا دنیوی فائدہ بھی حاصل کرسکتے ہیں اور آخرت کا نفع بھی۔ اس  کامیابی کی کنجی اعلی اخلاقی رویے اور کیرکٹر میں ہے۔ اسی کو قرآن میں کہا گیا ہے کہ کامیاب ہو ا وہ شخص جس نے اپنے آپ کو گندگیوں سے پاک کرلیا اور ناکام ہوا وہ جس نے خود کو ان آلائشوں میں مبتلا کرلیا۔

تو ساتھیو، آج سے  ہم سب اپنے اپنے گروپس میں اعلی کیریکٹر کا مظاہرہ کریں گے خواہ اس کے لیے ہمیں کتنے ہی بے کردار اور بدتمیز شخص کو برداشت کرنا پڑے۔ یہی ہمارا امتحان ہے اور اس کی کامیابی ہی  ہماری اخروی بقا کا راستہ ہے ۔

About ڈاکٹر محمد عقیل

One comment

  1. Masha Allah Outstanding…..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *