Home / 2018 / اداریہ

اداریہ

قرآن کا نظریہ ارتقا

تحریر:ڈاکٹر محمد عقیل

قارئین کرام

السلام علیکم

آج جس اہم موضوع پر بات کرنی ہے وہ قرآنی لائف سائیکل ہے۔ انسان کا پورا وجود اسی  ترقی و تنزلی سے ہمیشہ  سے  دوچار ہے۔ ابتدا میں انسان ایک روح یا بغیر مادی  جسم کے ایک روحانی  وجود کی صورت میں تخلیق ہوتا ہےجسے عالم ارواح کہتے ہیں ۔ جب اسے دنیا میں بھیجا جاتا ہے تو اس کا  مزیدارتقا ہوتا ہے ۔اب  ماں کے پیٹ میں  اس روح کو قالب یعنی مادی جسم  دینے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ جو  روحانی وجود اس  عمل کو پورا نہیں کرپاتا ، وہ ماں کے  پیٹ میں ہی  مرجاتا  ہے ۔

 اگلا مرحلہ بچے کا ماں کے پیٹ سے دنیا کے پیٹ میں منتقلی ہے۔ اس مرحلے میں انسان تھری ڈائی منشنز  میں اپنا ارتقا جاری رکھتا ہے۔ یہاں اس کا وجود دو حصوں میں منقسم ہوجاتا ہے۔ ایک ظاہری یا مادی وجود او دوسرا روحانی یا باطنی وجود۔ مادی وجود  کی ترقی تو مادی  غذا کھانے سے ہوتی ہے اور روحانی وجود  کی ترقی  عقیدہ و اخلاق کی روحانی  غذا کھانے سے ہوتی ہے۔ انسان جوں جوں اعلی اخلاقیات و کردار سے شخصیت کو نمو دیتا ہے، اس کا روحانی وجود اتنا ہی طاقتور، توانا ، رعنائی سے بھرپور اور جوان  ہوتا چلا جاتا ہے۔ جب وہ کوئی برا کام یا گناہ  کرتا ہے تو یہ برائی اس کے لیے زہر کی مانند ہوتی ہے جو اس کے روحانی ارتقا کو روک دیتی  اور بعض اوقات ریورس گئیر لگا کر اس کے باطنی وجود کی تنزلی کا باعث بن جاتی ہے۔

انسان کی جب موت واقع ہوتی ہے تو اب وہ دنیا کے پیٹ سے ایک اور دنیا  کے پیٹ میں منتقل  ہوجاتا ہے جسے عالم برزخ کہا جاتا  ہے۔ اب اس سے یہ مادی وجود چھین لیا جاتا اور دوبارہ اسے روح کی شکل میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ اس وجود کے ساتھ مادی  جسم نہیں ہوتا  بلکہ وہ وجود ہوتا ہے جو اس نے دنیا میں پروان چڑھایا ہوتا یا اس کی تنزلی کی ہوتی ہے۔ اسی روحانی وجود کی  کمائی ہوئی دولت کو اس وجود کے سامنے خواب کے عالم میں پیش کیا جاتا ہے جسے وہ دیکھ کر یا تو خوشی محسوس کرتا یا عذاب  محسوس کرتا ہے۔

عالم برزخ کے بعد اگلا مقام وہ ہے جہاں اس وجود کو اپنی کمائی کے لحاظ سے کسی مستقل مقام پر منتقل ہونا ہوتا ہے۔ اگر یہ روحانی وجود کا پچاس فی صد سے زائد حصہ  کو آلودگیوں سے پاک  کرنے میں کامیاب  ہوجاتا ہے تو پھر یہ ایک توانا اور بھرپور حیثیت میں اگلی دنیا میں منتقل ہوتا ہے ۔ اب  اس میں وہ صلاحیت ہوتی ہے کہ زمینی  دنیا کی تھری ڈائی مینشن  لائف سے ارتقا پاکر  ایسی آسمانی  دنیا میں رہ سکے جہاں ملٹی ڈائی مینشن  کائنات  ہے۔ یہ آسمانی دنیا لائف سپورٹ سسٹم سے بھرپور ہے۔  یہ کائنات اس پاکیزہ  وجود کے لیے سراپا رحمت ہوتی ، اس کے ہر حکم پر سر تسلیم  خم کردیتی، اس کے لیے اپنے وسائل خدمت میں پیش کردیتی اور اس کی ہر خواہش کی تکمیل  کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔  اسے اصطلاح میں جنت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب اگر یہ روحانی وجود اپنے ساتھ پچاس فی صد سے زائد  آلائشیں رکھتا اور اخلاقی  گندگی اور گناہوں کے بوجھ کے ساتھ اگلی دنیا میں منتقل ہوتا ہے تو ایسی صورت میں  یہ اس ملٹی ڈائی  مینشن  دنیا میں گذارا کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ اس کی حیثیت بالکل اس مردہ  بچے کی مانند ہوتی ہے جو ماں کے پیٹ میں اپنے مادی وجود کو مکمل نہ کرنے کی وجہ سے دنیا میں رہنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا اور  ماں کےپیٹ سے نکلتے  ہی اسے   سوسائٹی سے الگ تھلگ کرکے ہی قبرستان کے سپرد کردیا جاتا ہے۔  ایک آلودہ اور گناہوں سے آراستہ  روحانی وجود البتہ فنا نہیں ہوتا۔  اس روحانی وجود کی تخلیق ازلی تو نہیں البتہ ابدی ضرور ہے۔ یعنی خالق نے اسے فنا کرنے کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے تخلیق کیا ہے۔ چنانچہ اب اس  نجس وجود کے پاس دنیا میں جانے کا تو کوئی راستہ نہیں ہوتا، نہ ہی اسے فنا کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ  وہ  جنت کی ملٹی ڈائی مینشن دنیا  میں رہ سکے۔ ایسی صورت میں اسے ایک ایسی دنیا میں دھکیل دیا جاتا ہے  جس کی ڈائی مینشن دو یا ایک ہوتی ہے اور یہ حیوانی سطح کی ڈائی مینشن  ہے۔

حیوانات دو ڈائی مینشن مخلوق ہیں ۔ چنانچہ ایک آلودہ وجود کو ایک ایسی دنیا میں بھیج دیا جاتا ہے  جہاں لائف سپورٹ سسٹم نام کی کوئی شے نہیں۔ وہا ں پیاس ہے تو  پانی نہیں بلکہ گندگی، پیپ اور دھوون ہے۔ وہاں بھوک ہے تو مٹانے کے لیے غذا کی بجائے جھاڑ پھونس اور گندگی ہے۔ وہاں نہ پودے اگتے ہیں ، نہ پانی پیدا ہوتا ہے  اور نہ جانوروں کا پاکیزہ گوشت دستیاب ہے۔ وہاں گریوٹی عین ممکن ہے اتنی زیادہ ہو کہ ہر  قدم  پر پہاڑ کے برابر بوجھ محسوس ہو، وہاں زخم لگ جائے تو صحتیاب ہونے کی بجائے خراب ہوتا چلاجائے، وہاں فرشتے داروغہ کی شکل میں پھر رہے ہوں اور آئے دن ان کی جانب  سے کوڑے اور تازیانے  برستے ہوں۔یہاں اس وجود کو اس کے گناہ اور آلودگی کے مطابق تنزلی کی  پستیوں  میں دھکیل دیا جاتا ہے ۔ اس مقام کو جہنم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

کیا اس جنت  اور جہنم کے بعد بھی کوئی ارتقا ہے، یہ بات ہمارے لیے سمجھنا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا پیٹ میں موجود بچے کے لیے دنیا کی زندگی کو سمجھنا۔

یہ قرآن کا نظام ارتقا ہے۔ یہ ارتقا ء کا نظام اپنے اصولوں اور ضابطوں  پر کام کرتا ہے۔ اس  کے اصو ل خدا نے بنائے ہیں اور خدا کے بنائے ہوئے اصول کوئی نہیں توڑ سکتا الا یہ کہ خدا ہی توڑ دے۔ لیکن ایک سوال یہ ہے کہ اگر خدا نے ان اصولوں کو توڑنا ہی تھا تو بنائے کیوں؟یہ نظام ارتقا مادی دنیا میں بھی  ہر انسان پر لاگو ہے خواہ وہ یہودی ہو، عیسائی ہو، مسلمان ہو، ہندو ہو، سکھ ہو ، ملحد ہو یا کوئی اور۔ یہ نظام ارتقا ء روحانی دنیا پر بھی اسی طرح منطبق ہے خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ اب یہودی اگر خود کو خدا کے  چہیتے سمجھتے ہیں ، عیسائی خود کو خدا کے بیٹے قرار دیتے  ہیں، ہندو خود کو آواگون کے چکر میں گرفتار سمجھتے ہیں، مسلمان خود کو بحیثیت قوم کلمہ گو ہونے کی حیثیت سے نجات دہندہ سمجھتے ہیں تو سمجھا کریں، یہ ارتقا کا نظام اسی طرح جاری و ساری ہے جیسے ماں کے پیٹ  میں بچے کا ارتقا ۔ کوئی شخص اگرخوش فہمیوں میں مبتلا رہے اور حمل کے دوران وہ  مادی تقاضے پورا نہ کرے تو اس کی خوش فہمیوں کے باوجود مردہ

بچہ ہی جنم لیتا ہے الا ماشاءاللہ۔ یہی اصول روحانی وجود کا اگلی دنیا میں منتقلی کا بھی ہے۔

جنت کی اعلی زندگی کا  حصول کسی ولی ، بزرگ، پیغمبر  کی سفارش پر نہیں بلکہ میرٹ پر ہے۔جو انسان اپنے آزادانہ  ارادہ اختیار کے ساتھ خود کو آلائشوں سے پاک کرنے میں ایک حد تک کامیاب ہوجاتے ہیں  ، تو باقی کمی بیشی اللہ تعالی اپنے کرم سے پوری کردیتے  اور اسے جنت کی شہریت عطا کردیتے ہیں۔ اور جس نے اپنے وجود کو آلوگیوں  ہی سے ڈھانک لیا تو اس کا ٹھکانہ پستیوں کی وادی ہے۔

 قرآن نے اس بات کو قطیعت کے ساتھ بیان کردیا کہ

قد افلح من زکھاوقد خاب من دسھا۔

فلاح پاگیا وہ شخص جس نے اس شخصیت کو پاک کیا اور ناکام ہوگیا وہ جس نے اسے آلودہ کیا۔

About ڈاکٹر محمد عقیل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *