اداریہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

قوم کی اصلاح کیسے؟

از: ڈاکٹر محمد عقیل

ملک و قوم کی اصلاح کے  دوماڈل  ہیں۔ایک یہ کہ قانون کا نفاذ ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ دوسرا یہ کہ قوم کی تربیت کے بنا قانون کا نفاذ ممکن نہیں۔ پہلے گروہ کی دلیل امریکہ کینڈا جیسے ممالک ہیں جہاں سب پاکستانی اور انڈین  جاکر قانون کی پاسداری شروع کردیتے  ہیں۔ دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ وہاں چونکہ اکثریت تعلیم یافتہ اور سمجھدار ہے اس لیے ایک عام پاکستانی یا انڈین  اقلیت میں ہونے کی بنا پر قانون فالو کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

 میرا خیال  میں کوئی ایک ماڈل تنہا اصلاح نہیں کرسکتا اور دونوں کو ملانے کی  ضرورت ہے۔ صرف قانون کا نفاذ کچھ نہیں کرسکتا۔ اگر آج بیس کروڑ پاکستانیوں یا انڈین کو لے جاکر کینڈا بسا دیا جائے تو حکمران کیسے ہی کیوں نہ  ہوں ، کینڈا بھی پاکستان یا انڈیا بن جائے گا۔ یا اگر کینڈا کے حکمرانوں کو پاکستان پر مسلط کردیا جائے تو وہ بھی اس قوم کو محض قانون کے ذریعے سدھارنے میں ناکام ہوجائیں گے۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ قانون جس بیوروکریسی  اور پولیس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، ان کی کرپشن، نااہلی، سستی و کام چوری  اور بے ایمانی قانون نافذ کرنے والے  صالح حکمرانوں کا خواب کبھی شرمندہ  تعبیر نہیں  ہونے دے گی۔ اسی لیے قوم کی تربیت کی ضرورت ہے جن میں ایمانداری، خوداحتسابی، کام کرنے کی لگن اور روزی حلال کرنے کا جذبہ اندر سے پھوٹے، نا کہ خارج سے قابو کیا جائے ۔

اس بات کو ایک اور مثال سے سمجھتے ہیں۔ فرض کریں کہ اس ملک کے حکمران ہم امریکی یا کینڈین یا حتی کہ فرشتے  نما لوگوں کو مقرر کردیتے ہیں ۔ اب ان حکمرانوں کا کیا کام ہے؟ یہ قانون سازی کرتے ہیں اور اس قانون کا نفاذ بیوروکریسی اور انتظامیہ کے ذریعے کرواتے ہیں۔ فرض کریں انہوں نے پارلیمنٹ میں ایک قانون پاس کردیا کہ آج کے بعد سے کوئی کرپشن نہیں ہوگی اور کام وقت پر ہی ہوگا بصورت دیگر سخت کاروائی ہوگی۔ اس کے بعد انہوں نے یہ حکم تمام محکموں میں پہنچادیا۔یہ حکم پولیس ، عدلیہ، تعلیمی اداروں اور سب جگہ پہنچ گیا۔

اب پولیس کے محکمے میں ایک شخص نے کرپشن کی اور سب کے سامنے رشوت لی۔ قانون کو حرکت میں آکر اس کے  خلاف کاروائی کرنی چاہیے  لیکن اس تھانے کا ایس ایچ او خود کرپٹ ہے۔ اب وہ کاروائی کیسے کرے؟ اس کے اوپر ڈی ایس پی خود اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے بے تاب ہے تو قانون پر عمل کہاں سے ہو؟ اب دیکھا جائے تو حکمران صالح ہیں، نیک نیت ہیں لیکن یہاں کچھ نہیں کرسکتے کیوں وہ چند ہیں اور عوام کثیر۔ ایک جواب یہ دیا جاسکتا ہے کہ حکمران اپنے جاسوس مقرر کردیں تو ہمارے ہاں تو پہلے ہی اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ موجود ہے جسے آنٹی کرپشن کا نام دیا جاتا ہے۔

شاید ابھی کچھ لوگ اختلاف کریں تو ایک اور مثال لیتے ہیں۔ ٹریفک کے قوانین پوری طرح موجود ہیں اور پاکستانی دوسرے ممالک جاکر ان قوانین کی پابندی کرتے ہیں وگرنہ ان پر جرمانہ لگتا ہے۔ لیکن پاکستان میں وہ یہ پابندی نہیں کرتے۔ اس کا حل ایک عام  آدمی بتائے گا کہ ٹریفک پولیس کو سختی کرنی چاہیے ۔ بہت عمدہ جواب ہے لیکن ٹریفک پولیس اسی قوم کا ایک عام فرد ہے۔ اگر وہ چاروں طرف کرپشن، کام چوری اور بددیانتی ہوتے دیکھ رہا ہے تو وہ احکامات کے بعد بھی اس کو نافذ کرنے سے قاصر رہے گا۔ جہاں تک حکمرانوں کا تعلق ہے تو وہ ہرجگہ نہ موجود ہوسکتے ہیں اور نہ جاسوسی کرواسکتے ہیں۔ حتی کہ آرمی مانیٹرنگ ٹیموں کے ذریعے کرپشن روکنے کی کوشش مشرف دور میں ناکام  ہوچکی ہے۔ جب آرمی جیسا منظم ادارہ کچھ نہ کرپایا، تو بے چارے سویلین کیا کرلیں گے؟

پھر دوبارہ وہی سوال کہ آخر امریکہ ، یورپ اوردیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی تو قانون کا راج ہے؟ وہاں یہ سب کچھ کیسے ممکن ہے اور ہمارے ہاں کیوں نہیں؟ تو جناب اس کا سادہ سا جواب ہے کہ آج امریکہ و یورپ جس مقام پر پہنچے ہیں وہ گذشتہ سو دو سو سال کی جدوجہد کے بعد پہنچے ہیں۔ وہ وقت یاد کریں جب امریکہ میں ریڈ انڈینز کو قتل کردیا جاتا تھا، کاوبوائے دندناتے پھرتے تھے اور قانون نام کی کوئی شے نہ تھی۔ اس وقت کوئی امریکہ میں محض قانون کے نفاذ سے یہ سب کچھ ممکن نہیں بناسکتا تھا۔ صدیوں کی تعلیم ، تربیت ، کاونسلنگ، تجربات کے بعد ایک قوم تیار ہوئی جس نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریاں دیکھی تھیں، جس نے جہالت کا انجام دیکحا تھا، جس نے جذباتیت کے نتائج بھگتے تھے، جس نے مذہبی جبر کو برداشت کیا تھا۔ یہ قوم جانتی تھی کہ ڈسپلن اور قانون کی پاسداری ہی ترقی کا راز ہے۔ تو انہوں نے اس راز کو پالیا ، سمجھ لیا اور عمل کیا ۔ آج وہ اس مقام پر ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ وہ ڈنڈے کے زور پر نہیں سیکھے بلکہ تجربات اور تعلیم سے سیکھے  جس میں ان کے دانشوروں کا بڑا کردار ہے۔

ہمارا معاملہ بھی یہی ہے۔ ہم برسوں سے  نظاموں، حکمرانوں  کو بدل رہے ہیں۔ نہیں بدلا تو فرد نہ بدلا۔ چنانچہ کیساہی نظام ہو، کیسا ہی حکمران ہو، اگر لوگوں کی اکثریت خراب ہے تو نظام و حکمران آپ سے آپ خراب ہوجائیں گے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ صرف تعلیم و تربیت ہی سب کچھ ہے۔ اگر محض تعلیم و تربیت ہی کی جاتی رہی تو کچھ لوگ ہمیشہ ایسے رہیں گے جو اس تعلیم و تربیت سے نہیں سدھریں گے۔ وہ ہمیشہ نیک مقاصد کو سبوتاژ  کرتے رہیں گے۔ ان لوگوں کی اصلاح کے لیے قانون ہی کے اطلاق سے ہوگی۔البتہ قانون کا اطلاق اسی وقت درست طور پر ممکن ہوگا جب ایک صالح گروہ تیار ہو، جو خود کو رول ماڈل کے طور پر لوگوں کو متاثر کرے، ان کا تزکیہ کرے، تربیت کرے، اصلاح کرے، راہنمائی کرے۔ جب لوگوں کی اکثریت قانون کو دل سے تسلیم کرلے کی تو پھر حکمران خواہ کتنا ہی بدمعاش کیوں نہ ہو، سسٹم خواہ کتنا ہی بودا ہو، سب کو وہ درست کردیں گے۔

تو آئیے، اپنی اصلاح کریں، اپنے گھر کی اصلاح کریں۔ خود کو سدھاریں، اپنے گھر کو سدھاریں۔ لوگوں کے لیے رول ماڈل بنیں، قانون کی پاسداری ہم خود کریں۔ جب ہم جیسے لوگوں کی ایک معقول تعداد بن جائے گی تو اکثریت بھی تبدیل ہوگی اور پھر سب کچھ بدل جائے گا۔ اور اگر یہ نہیں تو پھر ہم ترقی یافتہ ہونے کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔

About ڈاکٹر محمد عقیل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *