اداریہ

ہردل عزیز شخصیت بننے کا راز

قارئین کرام

السلام علیکم

آٹھ مارچ کوخواتین کا عالمی دن ہے۔تمام خواتین کو عالمی دن مبارک کہ رسم دنیا ہے،موقع بھی اور دستور بھی۔اگرچہ سوچنے کی بات ہے کہ آخر اس ’’عالمی دن ‘‘ میں کیا مختلف ہوتا ہے ؟وہی ہر روز کی طرح  دن کا آغاز، ، وہی صبح وشام  اور دن بھر  کی مصروفیت۔  خواتین کی اکثریت کو تو شاید یہ علم بھی نہ ہو کہ کس ماہ و تاریخ  کو خواتین کا عالمی دن ہوتا ہے  اور اس کا عالمی دنیا سے کیا تعلق بنتا ہے،کیونکہ اس دن بھی خواتین کے معمولات عام شب وروز جیسے ہی ہوتے ہیں۔ ہر روز کی طرح روزمرہ کے گھر داری والے کام کر کےگزرنے والا دن گھر کی ڈسٹنگ  اور شام تک ایک بار پھر ڈسٹنگ کے قابل ہوجانے والا گھر۔

اس طرح تو سارے دن ہی عورتوں کے ہوتے ہیں  اگر ایسے ہوتے ہیں تو؟عورت… ماں ہو، بہن یا بیٹی ، یا بیوی معاشرے کی تعمیر میں اس کا کردار بہت اہم ہے۔معاشرتی زندگی میں اکثر مواقع پر خواتین جمع ہوتی ہیں ۔کبھی ان کے اجتماع کی نوعیت مذہبی ہوتی ہے اور کبھی دنیاوی مثلا خوشی غمی کے مواقع،تقریبات،تعزیت وغیرہ۔ایسے میں یہ ناممکن ہے کہ اتنی خواتین ہوں اور ان کے مابین گفتگو نہ ہو۔گفتگو شروع ہوتی ہے جو بتدریج  موقع محل  کے حساب سے شروع ہو کر بہت سے دوسرے مسائل تک محیط ہو جاتی ہے۔پھر ہر خاتون کا مزاج دوسری سے مختلف ہوتا ہے تو کبھی اس طرح کے اجتماعات بہت مفید اور نفع بخش ثابت ہوتے ہیں  اور کبھی  خواتین  کے زبان کا محتاط استعمال نہ کرنے کی وجہ سے نوبت غیبت ،شکوہ و شکایات تک پہنچ جاتی ہے۔اس خامی پر قابو پا لینے سے بھی معاشرہ بہت سی برائیوں سے پاک رہ سکتا ہے۔اللہ کا فرمان ہے:

“ان مسلمانوں نے فلاح پائی جو اپنی نماز میں خشوع کرنے والے ہیں اور لغو باتوں سے دور رہتے ہیں،”(المومنون)

ہمارے معاشرے کی ان حسین عادات و اطوار کو لے لیجیے۔زیادہ پرانی بات نہیں کہ ہم نے  بہت سی سینئیر خواتین کو دیکھا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو دوسروں کی فلاح کے لیے استعمال کرتی تھیں ۔ اس سے وہ دوسروں کو فائدہ دیتیں ، ان کے دل جیت لیتیں ، جہاں نظر آیا کہ کسی کو مدد کی ضرورت ہے تو  اس کی ضرورت پوری کر کے مدد کر دیتیں۔ خود غرضی، لاتعلقی، بے مروتی و بے اعتنائی، بد لحاظی، لالچ اوربے حسی  جیسے منفی جذبات دور دور تک نظر نہیں آتے تھے جو بدقسمتی سے اب ہمارے معاشرے پر حاوی ہیں۔کسی خاتون کو اچھی کوکنگ،سلائی کڑھائی یا بنائی آتی تھی تو وہ بلامعاوضہ آس پاس کی خواتین کو اپنا ہنر سکھا دیا کرتی تھی۔کسی میں کاؤنسلنگ کی اچھی صلاحیت ہوتی تو  وہ  دیگر خواتین کی رہنمائی کرنے کے لیے ضرور وقت نکالتی۔اسی طرح معلمانہ قابلیت کی مالک خواتین غریب بچیوں کو بلا معاوضہ پڑھا دیا کرتی تھیں۔کوئی بھی یہ نہیں سوچتا تھا کہ اگر ہم اپنا ہنر دوسرے لوگوں کو منتقل کریں تو کہیں وہ ہماری جگہ نہ لے لیں۔ہم خواتین ایک بار پھر ان مثبت عادات کو اپنی معاشرت کا حصہ بننے دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ دوسروں کو راستہ دینے سے ہمارا راستہ نہ کھلے۔ہر خاتون کے پاس کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوتا ہے جو دوسروں کے لیے نفع بخش ثابت ہو اور کچھ نہیں تو ایک مسکراہٹ،دوسروں کا احساس اور محبت بھری ایک نظر۔اس سب پر کچھ خرچ نہیں ہوتا۔کھلے دل سے دوسروں  کے لیے  فلاح کا باعث بنیں ،دلوں کو صاف رکھیں،انسان کو انسان سمجھیں ۔اللہ کی عطا کی ہوئی قیمتی صلاحیتوں کو جتنا زیادہ دوسروں کی آسانی کے لیے تقسیم کریں گی اسے دوسرے اتنا ہی ضرب کے عمل سے گزار کر آپ کے لیے آسانیوں کا باعث بنیں گے۔یہ منفرد اور ہر دل عزیز شخصیت بننے کا راز ہے۔

عظمیٰ عنبرین

 

About عظمیٰ عنبرین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *