اداریہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

قارئین کرام

السلام علیکم

اپریل کا میگزین تیاری کے مراحل میں تھا کہ چودہ مارچ کو اسٹیفن ہاکنگ کے انتقال  کی خبر ملی۔اناللہ و انا الیہ راجعون۔اس سانحے پر پاکستان کی جذباتی قوم میں مجموعی طور پر ملی جلی مباحث شروع ہو گئی۔کچھ لوگ ان کی بہترین سائنسی کاوشوں کو پس پشت ڈال کر ان پر جہنمی ہونے کا لیبل چپساں کرنے لگے اور کچھ کے ہاں ان کے لیے جنت کے ٹکٹ جاری ہونے لگے۔ان دونوں رویوں کی جسارت کا انسان مکلف نہیں۔اللہ کا منصب اللہ ہی کے پاس رہنے دینے اور بندگی اختیار کرنے میں انسان کے لیے عافیت ہے۔ہم تو یہ ہی جانتے ہیں کہ وہ ایک بہترین سائنسدان تھے.جسمانی معذوری کے باوجود ہمت و حوصلے اور عزم کے ساتھ انہوں نے دنیا کو سائنسی معلومات  دیں  اور قوت ارادی کے ساتھ جینے کا حوصلہ بھی دیا۔

اسٹیفن ہاکنگ کی وفات میں ہمارے لیے سبق ہے کہ  اللہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں میں وقت،توفیق اور مہلت  بہت قیمتی عطائیں ہیں۔ وقت ہر انسان کو ایک دن میں چوبیس گھنٹوں کا ہی ملتا ہے۔جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں ہم ان بدقسمتوں میں سے تو نہیں جو  اس وقت کا صحیح استعمال نہیں کرتے، کیونکہ ایسے لوگ جو وقت کی قدر نہیں کرتے پھر زندگی کی مہلت سے فائدہ  نہیں  اٹھا سکتے،آخر کار مہلت زندگی ختم ہوتی ہے تو اس طرح کہ ان کے دامن میں  بہت سے پچھتاوے  بھی ان کے ساتھ ہی  مکفون ہو کر جاتے ہیں۔ اپناتعصب ختم کریں۔سب کو اتنا ہی ملتا ہے جتنی اس میں قابلیت ہو ۔دنیا و آخرت کی نعمتوں،عطاؤں یا محرومیوں کا  دارومدار ہر انسان کے اپنے علم و عمل  ،کوشش،محنت اور آزمائش زندگی کی نوعیت پر منحصر ہے اور اس دنیا میں ہر خواہش کسی کی بھی پوری نہیں ہوتی۔نہ ہی سب کو  ہرمن پسند چیز ملتی ہے۔ اس کے باوجود ہر ایک کے پاس  بے شمار نعمتیں ہوتی ہیں ۔غفلت چھوڑ کر انتہائی عاجزی سے اللہ کے سامنے خود کو حاصل شدہ نعمتوں  مہلت، وقت، صحت  و  تندرستی ،اعضاء کی سلامتی ، ایمان کی سلامتی، عقل وفہم کی سلامتی کے شکر گزار بنیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ  کلمہ تشکر سیکھیں اور اس کا حق ادا کریں۔ ان نعمتوں  میں اللہ سب کو برکت عطا فرمائےتاکہ وہ  باقی ماندہ زندگی کی مہلت سے فائدہ اٹھائیں اور موجودہ سے ذیادہ بہتر انسان بنیں۔

اہل پاکستان اگر انفرادی سطح پر اس تناظر میں اپنی اصلاح کر لیں  تو اجتماعی فوائد ازخود حاصل ہو جائیں گے جو عالمی سطح پر بھی ملک کو باعزت مقام دلوا سکیں گے۔

نائب مدیرہ: عظمیٰ عنبرین

About عظمیٰ عنبرین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *