Home / شمارہ دسمبر 2017 / اداریہ: Give اینڈ Take

اداریہ: Give اینڈ Take

قارئین کرام السلام علیکم!

ہم سب اس فورم پر جس کی نسبت سے جمع ہوتے ہیں وہ ہمارا رب ہے۔ اس نے زندگی عطا کی، زندگی کی ضروریات پیدا کیں تو ان کو پورا کرنے کا سامان بھی دیا۔ اگر کائنات کی پوری اسکیم کو  خدا کی نظر سے دیکھیں  تو اسے ایک لفظ میں سمیٹا جاسکتا ہے اور وہ ہے فلاح یا ویلفیر۔وہ سورج کے ذریعے ہمیں جو روشنی، حرارت اور توانائی پہنچارہا ہے اس  کا اگر ہم کسی کمپنی کے بل سے موازنہ کریں تو ہماری ساری کمائی اسے ادا کرنے میں ناکام ہے۔ اس نے جو آنکھیں لگائیں، جو دل فراہم کیا ، جو پھیپڑے عطا کیے، جو ہاتھ اور پاؤں دیے ان سب کی قیمت  اگر ہم ہسپتال کی ٹرانسپلانٹیشن کی لاگت سے کیلکولیٹ کریں تو ممکن ہی نہیں کہ ہم اس کی قیمت کا تعین بھی  کرسکیں۔ اس نے یہ سب کچھ اپنے ماننے والوں ہی کو نہیں انکار کرنے والوں کو بھی دیااور مسلسل عطا کررہا ہے۔

میرے دوستو! خدا کو ہم سے بھی جو رویہ مطلوب ہے وہ بلامعاوضہ و بلاتفریق  انسانیت کی خدمت ہے۔ ان کی مدد بھی کی جائے جو ہمارے دوست ہیں اور ان کی بھی جو ہمارے دشمن ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کس طرح ہم اپنی  محدود آمدنی سے لوگوں کی مدد کریں۔ یہ سوال دراصل انفاق کے محدود تصور کی بنا پر پیدا ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انفاق صرف روپے پیسے ہی سے کیا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ، انفاق کا مطلب ہے خدا کے دیے ہوئے وسائل میں سے خرچ کرنا۔

خدا کے دیے ہوئے وسائل صرف روپے اور پیسے تک محدود نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ خدا نے ہمیں جو وقت دیا اس میں سے ہم کچھ وقت لوگوں کی ہمدردی، محبت، دلجوئی اور مسائل کے وقف کریں۔ اس نے جو ہمیں علم  کی روشنی دی ہے اسے لوگوں کوظلم و عدوان کے اندھیروں سے نکالنے کے لیے تقسیم کریں۔اس نے جو جسمانی صلاحیت ہمیں دی ہے اسے  کمزورں کو طاقت بنا دیں۔ اس نے جو سکون ہمیں دیا اسے بے سکون لوگوں کی تسکین کے لیے وقف کریں۔ اس نے جو فیصلہ کرنے کی قوت فراہم کی اسے ناسمجھ لوگوں کو درست فیصلہ تک پہنچانے میں استعمال کریں۔

میرے بھائیو!یہ نہ سوچیے گا کہ ایسا کرنے سے ہماری دولت، ہماری طاقت، ہمارا وقت، ہمارا علم کم ہوجائے گا۔  خدا بہت قدردان ہے۔ وہ ہمارےاس انفاق کو قرض سے تعبیر کرتا ہے۔ اور وہ اس قرض کو کئی گنا سود کے ساتھ واپس کردیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی مدد میں صرف ہونے  والے ہمارے وقت میں اس طرح اضافہ کردیتا ہے کہ ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔  یہ وہ انفاق  ہے جس میں وسائل  تقسیم کرنے سے ضرب ہوجاتے ہیں۔

دوسرا آپشن یہ ہے کہ ہم ان تمام وسائل کو صرف اپنی ذات تک محدود رکھیں۔ ایسا کرنے کی صورت میں ہمارا حشر اس سورج یا ستارے جیسا ہوجاتا ہے جو فنا ہوجاتا ہے۔ سائنس بتاتی ہے کہ جب ایک ستارہ  یا سورج اپنی روشنی پہنچانے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے تو اس کا سائز ٹھنڈا ہوکر سکڑنے لگتاہے۔ وہ دھیرے دھیرے چھوٹا ہوتے ہوتے ایک نقطہ سے بھی حقیر بن جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ ایک سیاہ سوراخ یا بلیک ہول میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ یعنی وہ ستارہ جو پہلے روشنیاں پھیلاتا تھا ، اب خود تاریکی کا شکار ہوگیا ہے۔ یہاں تک کہ اس میں کوئی روشنی بھی داخل ہو تو وہ اس اجالے کو  نگل جاتا اور اس کو بھی تاریکی میں تبدیل کردیتا ہے۔

یہ قدرت کا قانون ہے۔ جو اپنے وسائل کو محض اپنی ذات تک محدو د کرلیتا اور اس سے لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچاتا، وہ ایک بلیک ہول بن جاتا ہے۔ ایک ایسی شخصیت جو ایک وقت بعد خود دوسروں کی محتاج بنادی جاتی ہے، اب وہ دوسروں سے اسی علم ، رقم، محبت اور دلجوئی کی بھیک مانگتا ہے جسے وہ پہلے دوسروں کو دینے میں بخیل تھا۔لیکن اب دوسروں کی مدد اگر مل بھی جائے تو اس کے اندر کے اندھیروں کو دور نہیں کرسکتی۔

میرے ساتھیو! خدا کی قربت اسی وقت ممکن ہے جب ہم خدا کی سنت پر عمل کریں۔اس کے دیے  ہوئے وسائل میں ان لوگوں کا حصہ الگ کریں جو اس کے مستحق ہیں۔ ایسی صورت میں ہم خدا کی صفت ربوبیت کا عکس بن جاتے ہیں اور فرشتے ہمارے معاملات میں ہمارے معاون بن جاتے ہیں۔ اور اگر ایسا نہ کریں تو  ہم شیطان کی سنت کی پیروی کرتے ہیں۔ وہ شیطان جس نے  تمام علم و حکمت کو  اپنی ذات تک محدود رکھا اور اپنی انا، اپنی اکڑ  کی تسکین تک محدود رکھا۔  اس کی سنت پر عمل  کرنے کی صور ت میں شیاطین  ہمارے ارد گرد جمع ہوجاتے ہیں۔ وہ ہماری شخصیت کے اجالے کو تاریکیوں میں بدل  ڈالتے  ہیں۔

پھر نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰۃ محض رسمی عبادتیں رہ جاتی ہیں  ۔ ان کو ادا کرنے والا خدا سے اپنی فلاح  حاصل  کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ لیکن یہاں مکافات عمل آڑے آجاتا ہے۔ پھر ہم مدد مانگتے ہیں لیکن مدد نہیں ملتی، پھر ہم آہ و بکا کرتے  ہیں لیکن کوئی نہیں سنتا، پھر ہم ہمدردی کے طالب ہوتے ہیں لیکن کوئی توجہ نہیں ہوتی۔ پھر خدا کا نظام قدرت ہم سے روٹھ جاتا ہے کیونکہ ایک وقت ہم نے بھی اس نظام قدرت کے تحت لوگوں کو اپنے وسائل  شئیر کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

میرے دوستو! یہ زندگی دینے اور لینے کا نام ہے۔ یہ بونے اور کاٹنے کا نام ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ زمین میں خودغرضی  کا بیج بوئیں اور ہمیں تعاون کا پھل ملے۔ پس یہی آج کا  پیغام ہے کہ بندگان خدا کی مدد کی جائے ،  کیونکہ یہی چاند ، سورج ، تاروں، دریاؤں، پہاڑوں  کا پیغام ہے۔ یہی خدا کا پیغام ہے ۔ یہی مذہب ہے ، یہی راستہ ہے، یہی حقیقت ہے اور یہی وہ فلاح ذریعہ ہے جس  کی دعوت پیغمبروں نے اپنی  زندگی سے ثابت کرکے دکھایا۔ اگر یہ نہیں تو مذہب محض رسومات کے سوا کچھ نہیں۔

آئیے ! عہد کریں کہ جب جب ضروت پڑے گی  اپنی ذات سے حتی المقدور خدا کے بندوں کی مدد کریں گے۔ انہیں اپنے شر سے بچائیں گے اور ان سے اپنے وسائل اپنی استطاعت میں مطابق شئیر کریں گے خواہ وہ دولت ہو، وقت ہو، طاقت ہو، جوانی ہو، علم ہو یا کوئی مادی وسیلہ۔

About ڈاکٹر محمد عقیل

One comment

  1. درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
    ورنہ طاعت کے لیے کچھ نہ تھے کر و بیاں

    جزاک اللہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *