Home / شمارہ اپریل 2017 / استعانت یعنی مدد مانگنے کا مفہوم

استعانت یعنی مدد مانگنے کا مفہوم

 مشرکین مکہ فرشتوں کو خدا کی بیٹی قرار دے کر ان کو سفارش کے لیے استعمال کرتے تھے۔ خدا نے قرآن میں سب سے پہلا اعتراض ہی یہ کیا کہ اس بات کی سند عقل و فطرت یا وحی میں دکھاؤ کہ یہ خدا کی بیٹیاں ہیں اور خدا ان کی بلامشروط بات سنتا اور مانتا ہے۔ اسی طرح جنات سے مدد مانگنا بھی خدا کی سند کے بنا تھا اس لیے یہ بھی شرک قرار پایا۔

دوسری جانب ہم دیکھیں تو حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں بیان ہوتا ہے کہ وہ جنات سے کام لیا کرتے تھے اور جنات ان کے فرماں بردار تھے۔یہاں جنات کو استعمال کرنا، ان کو عمارتیں تعمیر کرانے کے استعمال کرنا کسی طور شرک میں نہیں آئے گا کیونکہ یہ خدا کی اجازت سے تھا اور اسباب کے تحت تھا۔

غیر اللہ سے مدد مانگنے کا ایک اور معاملہ جمادات جیسے چاند سورج اور ستاروں اور آگ کو خدا کا مظہر سمجھ کر ان سے مانگنا ہے ۔ ظاہر ہے اس کی تردید بھی عقل و فطرت اور وحی میں ہوجاتی ہے۔ غیر اللہ سے مدد مانگنے کی ایک اور مثال مزارات پر بزرگوں کو زندہ سمجھ کر ان کے ذریعے خدا سے سفارش کرانا ہے۔ اگر اس کی توثیق خدا نے کی ہے کہ یہ برگزیدہ ہستیاں اصل میں زندہ ہوتے ہیں اور ان کی زندگی اس طرح کی ہوتی ہے کہ ہم ان سے رابطہ کرسکتے ہیں اور یہ بھی ہم سے رابطہ کرسکتے اور خدا کے حضور ہماری بات رکھ سکتے ، ہمارے لیے دعا مانگ سکتے اور ہمیں نفع پہنچاسکتے ہیں۔ اگر ایسی توثیق موجود ہے تو شرک نہیں اور نہیں تو یہ شرک ہے۔

اللہ کے سواکسی دوسرے سے مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ اسباب سے ماورا خدا کی توثیق یا منظوری کے بغیر کسی ہستی یا شے سے مانگا جائے۔

About ڈاکٹر محمد عقیل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *