Home / شمارہ اپریل 2017 / اسلام میں تعلیم و تدریس کے اصول

اسلام میں تعلیم و تدریس کے اصول

السلام و علیکم! میں یونیورسٹی میں کلاس کے بعد چوکیدار کے کچھ بچوں کو ٹیوشن دیتی ہوں، میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ قرآن اس بارے میں کیا کہتا ہے کہ ہمارا رویہ اپنے ان شاگردوں سے کس طرح ہونا چاہیے۔ کیا اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہم ان سے تلخ اور سخت رویہ برتیں؟ ہمیں ان کی تعلیم و تربیت کس طرح کس نہج پر کرنی چاہیے۔ براہ کرم مجھے کوئی آیت بتائیں جو بچوں سے ہمارے رویے کے متعلق ہماری رہنمائی کرتی ہو۔ میرے بڑے بھائی ہمیشہ اس معاملے میں انتہائی سخت رہے ہیں اور مجھے بھی یہی طرز اختیار کرنے کو کہتے ہیں۔ براہ کرم اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جواب دیں۔

(عطوفہ حنیف ملک۔ کراچی)

جواب: وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!

سب سے پہلے تو میں ذاتی طور پر آپ کو مبارک باد دوں گا کہ آپ تعلیم عام کرنے میں بلا غرض اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں، علم حاصل کرنا ااور اسے عام کرنا ایک عظیم نیکی ہے۔ میرے لیے یہ خوشی کا باعث ہے کہ آپ اس معاملے میں دین سے رہنمائی چاہتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔

تعلیم و تدریس کے حوالے سے پہلے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ قرآن میں ہر مسئلے کا حل یقیناً موجود ہے لیکن ہر ایک بات کو لکھ کر نہیں بتایا گیا ورنہ قرآن کا حجم [سائز، ضخامت ]آج کچھ اور ہی ہوتا۔ دراصل قرآن ہمیں ہر معاملے میں بنیادی اصول سمجھا دیتا ہے اسی سے پھر ہم غور و فکر کرکے دیگر معاملات دیکھتے ہیں۔ قرآن ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں ہر جزوی مسئلہ کا حل نہیں دیتا ، بلکہ زندگی کے ہر شعبے اور انسان کے ہر معاشرتی کردار کے متعلق کچھ ایسے اصولی اور بنیادی احکام دیتا ہے جن کی روشنی میں رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام اور اپنے گھریلو ملازم کے حقوق کا ذکر کیا ہے وہیں سے ہم اپنے آفس ملازم کے حقوق معلوم کرسکتے ہیں۔ قرآن کے بعد ہم حدیث سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اب جواب پڑھیں:

قرآن میں ٹیچنگ کے لیے بنیادی طور پر تین اصول ہیں، جو کہ سورۃ النحل آیت ۱۲۵ میں بیان ہوئے ہیں۔ یہ اصول در اصل دین کی دعوت دینے کے ہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سارے جہانوں کے لیے معلم ہیں چنانچہ جو اصول انہوں نے بحیثیت ٹیچر معاشرے پر اپلائی کیے ہمیں انہی کواپنے شاگردوں پر اپلائی کرنا چاہیے۔ یہ تین اصول ہیں؛ حکمت، موعظہ حسن یعنی اچھی انداز سے نصیحت اور آخر میں بحث۔ حکمت سے عام مراد یہ ہے کہ ہم اپنی بات لوجک سے سمجھائیں، بے ترتیب بات نہ کریں بلکہ سٹیپ بائی سٹیپ سمجھائیں، اچھی نصیحت سے مراد یہ ہے کہ ، انہیں نصیحت کریں، ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ یہی موعظہ حسنہ طلباء اور استاد کے درمیان تعلقات کو واضح کرتی ہے، یعنی ہم ان سے غصے یا سختی سے پیش نہ آئیں بلکہ محبت و اکرام سے پڑھائیں،اور بحث سے مراد ہے کہ لیکچر کے بعد آپ طلباء سے سوالات معلوم کریں کہ ان کے ذہن میں کوئی شک و شبہ نہ رہ گیا ہو، اور جو کچھ پڑھا ہو اس کا تجزیہ کریں۔ واضح کردوں کہ یہ اصول ہم نے غور و فکر سے ایک معلم کے لیے متعین کیے ہیں اس لیے اس آیت کی تشریح و تفسیر مذہبی نقطۂ نگاہ سے کچھ اور بھی ہوسکتی ہے لیکن اس تشریح میں بھی بنیادی اصول یہی ہوں گے۔

ٹیچنگ کے یہ اصول قرآن سے بالکل واضح ہیں،اب بچوں کے ساتھ اپنے رویے کے متعلق رہنمائی حاصل کرنے لیے ہمیں احادیث کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ مشکوہ شریف کی حدیث ہے کہ:

حضرت مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کے لئے بھیجا میں راستہ میں ایک تماشہ دیکھنے لگا‘ مجھے کچھ دیر ہوگئی‘ آپ ا میری تلاش میں نکلے اور میرے قریب آکر کھڑے ہوگئے‘ میں نے اچانک مڑکر دیکھا تو آپ کو اپنے سر پر کھڑے پایا‘ آپ نے اس سے زیادہ کچھ نہیں فرمایا: ’’اْنیس‘‘ یعنی منے انس! میں تیزی سے نکلا اور کام پورا کرکے آپ کو اطلاع دی‘ اللہ کی قسم! آپ نے نہ مجھے گھورا اور نہ ہی کوئی ڈانٹ ڈپٹ کی۔ صحابی اپنے خادم کی غلطی پر اسے مارنے لگے تو فرماتے ہیں میں نے پیچھے سے کسی کی آواز سنی کہ ابو مسعود تمہیں معلوم ہونا چاہئے! ابومسعود تمہیں معلوم ہونا چاہئے! میں آواز کی طرف متوجہ ہوا تو دیکھا کہ حضور ا کھڑے ہیں‘ آپ نے فرمایا: ابو مسعود ! تمہیں یہ جان لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے اوپر اس سے بھی زیادہ قدرت حاصل ہے جتنی کہ تمہیں اس غلام پر حاصل ہے۔ (المختصر؛ مفہوم حدیث)

مقصدحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ جب شاگرد کو مارنے لگو تو پہلے سوچ لو کہ جس طرح یہ بچہ میرے ماتحت ہے اسی طرح میرے اوپر بھی کوئی ہے جو میری کوتاہیوں پر مجھے سزا دینے کا مکمل اختیار رکھتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رویہ بحیثیت ٹیچر( معلم) انتہائی شفقت والا تھا، یہ بات اس حدیث سے تو بالکل ہی واضح ہے ، ہمارے ہاں ایک عجیب مسئلہ ہے کہ استاد طالب علم کے نزدیک ملازم اور طالب علم استاد کے نزدیک اپنے پروفیشن سے متعلق ایک جز ہے، یہ تصور انتہائی غلط ہے، استاد اور شاگرد کے درمیان ایسا رشتہ ہو کہ وہ آپ کی عزت بھی کرے اور آپ سے محبت بھی کرے، حتیٰ کہ استاد ایسا ہو کہ طلباء اپنے ذاتی مسائل بھی شئیر کرسکیں، اس کے لیے استاد کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا کہ ان سے سخت لہجے کے بجائے محبت سے پیش آنا ہوگا۔ انہیں رعب سے گھورنے کے بجائے محبت سے مسکرا کر دیکھیں۔

بچوں سے اپنے رویے کے متعلق ایک اور حدیث ہے کہ بچوں سے محبت کرو اور ان پر رحم کرو، جب ان سے وعدہ کرو تو پورا کرو کیونکہ وہ یہی سمجھتے ہیں کہ تم ہی اْنہیں رزق دیتے ہو۔ یہی اسلام کا اصول ہے۔ ورنہ سختی سے جو کچھ تعلیم دی جائے گی اس کا نتیجہ یہ ہی ہوگا جو کسی شاعر نے کہا ہے کہ:

گلہ تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا

کہاں سے آئے صدا لا اَلہ الا اللہ

والسلام

حافظ محمد شارق

About حافظ محمد شارق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *