Home / اس ماہ کا تبصرہ / اس ماہ کا تبصرہ

اس ماہ کا تبصرہ

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ۔ 

خاموش قارئین کے باذوق انتخاب (اسرا میگزین) پر تبصرہ  حاضر ہے۔ اداریے کی ڈیوٹی عظمیٰ جی آپ نے خوب سنبھالی ہے۔ اپریل کے شمارے میں وقت کی اہمیت کا احساس دلاتا ہمیشہ کی طرح بامقصد اداریہ۔ اس سے آگے شارق بھائی کا تفسیر قرآن کا سلسلہ حقیقتاً بہت زبردست ہے، گو جتنا وسیع یہ موضوع ہے اس کے برعکس مضمون کا حجم اتنا ہی مختصر رکھا گیا ہے لیکن اہم بات یہی ہے کہ جامع مضمون تھا۔

سر عقیل اور شارق بھائی کی تحاریر چونکہ میگزین سے ہٹ کر بھی پڑھنے کو مل جاتی ہیں تو ان کے لیے بس ایک ہی لفظ میں اپنی راۓ کا اظہار کروں گی وہ ہے لاجواب۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ! آپ کا پورا میگزین ہی خوبصورت لکھنے والوں سے بھرا ہوا ہے، ہر تحریر ایک سے بڑھ کر ایک۔ افسوس ہوتا ہے کہ 2017اگست  میں ہی میگزین تک رسائی کیونکر ہوئی۔ مجھے اس سے پہلے کے میگزین پی ڈی ایف میں نہیں مل سکے۔ فرصت ملے تو عنایت فرمائیے گا۔ اسرا میگزین پڑھ کے میں واقعتاً محو حیرت تھی کہ ڈاکٹر لوگ اتنا اچھا بھی لکھ سکتے ہیں۔(پیشگی معذرت کہ آج تک کوئی عام فرد ان کا نسخہ تک نہیں پڑھ پایا سو حیرت بجا ٹھہری) خیر اس ہلکے پھلکے مزاح سے قطع نظر ڈاکٹر فہد چوہدری اور ڈاکٹر رابعہ خرم کے کام کی داد نہ دینا بلاشبہ ناانصافی ہوگی۔ دونوں لکھتے ہیں اور کیا خوب لکھتے ہیں، صحت سیریز بہت مفید سلسلہ ہے۔

میگزین میں ہمیشہ پورا پڑھتی ہوں لیکن مضامین کی ترتیب آگے پیچھے ہو جاتی ہے سو تبصرہ بھی اسی حساب سے ملا جلا ہے۔

ساجد محمود کی تحریر رجحان طبیعت کا غلبہ کی جانب رخ موڑا تو بہترین مضمون پایا، کسی پہلو سے موضوع کو تشنہ نہیں چھوڑا گیا۔ پیرنٹگ سے متعلق فارقلیط صاحب کی “روتا کیوں نہیں؟” دل کو چھو گئی۔  مبشر نذیر صاحب کی تحریریں ہمیشہ سوچنے سمجھنے کے نئے در وا کرتی ہیں پھر چاہے وہ تذکیری مضامین ہوں یا کسی سوال کا جواب۔ جذبہ حسد اور امتحانی نظام کا تقابلی جائزہ نہایت عمدگی سے واضح کیا گیا۔ اور ام مریم کے مضمون شاہکار کی تاثیر اختتامی سطروں میں سورہ الفجر کی آیات کے خوبصورت انتخاب نے بہت زیادہ بڑھا دی۔ اس سے بمشکل تمام نظر ہٹائی کہ میگزین ایک ہی نشست میں پڑھنے کا مصمم ارادہ تھا۔ سو اگلی تحریر کو دیکھا جس میں ابصار فاطمہ کا “انوکھا” تو واقعی بہت ہی انوکھا نکلا۔ دلچسپ تحریر خصوصاً نیوزرپورٹر کے ڈائیلاگ معصوم بکری کو ہاتھی بنانے کے لیے کافی تھے۔ موجودہ حالات گر یونہی چلتے رہے تو اس فسانے کا حقیقت بننا بعید از قیاس نہیں۔

دیگر مضامین “بے رنگی عورت” ، “دوغلے اور منافق”، “روح کے زخموں کا مرہم”  اور “مقصد حیات” ہر تحریر اپنی جگہ قابل

تعریف ہے اور مصنفات لائق تحسین۔

ایک اچھے سفرنامے کی تمام خوبیوں سے لیس شارق بھائی کا ہنگول کنارے دل خوش کر گیا، تصاویر نے تخیل کو پختگی بخشی۔ اگلی قسط کا انتظار ہے۔

لفظ لفظ موتی کا انتخاب کرنے والے کا ذوق نہایت عمدہ ہے۔ ہر بار علم و حکمت سے بھرے منتخب جملے گلدستے کی رونق میں اضافہ کرتے ہیں۔

خصائل نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کردار سنوارنے میں معاون زبردست سلسلہ ہے۔

 پھر خوبصورت حمد پڑھی اس کے بعد گو شاعری پہ سرسری نظر ڈالنے کا ارادہ تھا مگر سر عقیل کی نظم “چلو اس اور چلتے ہیں” نے مقناطیس کی طرح جکڑ لیا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس خوبصورت کلام کی تعریف کے لیے الفاظ ہی نہیں ہیں۔ جزاک اللہ خیرا۔

اگلے صفحات پہ فیصل شہزاد کا دلچسپ تبصرہ پڑھ کر بھی اتنا ہی مزہ آیا جتنا کہ باقی میگزین۔ آخر میں خبرنامہ پڑھا تو پتہ چلا کہ میگزین کا دی اینڈ ہو چکا ہے۔

چونکہ اچھی تحریریں انسانی شخصیت کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ اسے زندگی کے مختلف زاویوں سے بھی روشناس کراتی ہیں نیز معاشرتی خرابیوں سے محفوظ رہنے اور دوسروں کے احساسات و جذبات کو سمجھنے کا شعور بھی دیتی ہیں لہٰذا تمام مصنفین اور اسرا میگزین کی انتظامیہ کی بھرپور کاوشیں یقیناً مبارکباد کی مستحق ہیں۔ اللہ ہم سب کے علم و عمل میں برکت دے نیز ایمان و عافیت بھری زندگی و حسن خاتمہ نصیب فرمائے، آمین۔ سب کے لیے دعاگو.

 سحر شاہ

About سحرشاہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *