Home / اس ماہ کا تبصرہ / اس ماہ کا تبصرہ

اس ماہ کا تبصرہ

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

ماہنامہ اسرا میگ خصوصی شمارہ خواتین پر تبصرہ آپ کے پیش خدمت ہے۔ دو دن پہلے جیسے ہی رسالہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں اپ لوڈ کیا گیا تو اسے پرنٹ کروا لایا کیونکہ اس کا شدت سے انتظار کر رہا تھا ایک تو اسرا میگ ہو اور پھر خصوصی شمارہ تو پڑھنے کا مزہ آجاتا ہے۔میرا خیال ہے کہ اگر کسی رسالہ کا مقصد اور اس کا علمی جائزہ لینا چاہتے ہیں تو اس کے اداریہ کا مطالعہ کر لیں۔سب سے پہلے اداریہ پڑھا ،جس میں میم عظمیٰ عنبرین نے دوسروں کو اپنا ہنر اور وقت دینے کی ترغیب دی جو کہ واقعی ہر دلعزیز شخصیت بننے اور وقت کی سب سے قیمتی چیز یعنی سکون قلب حاصل کرنے کا راز ہے۔ اس کے بعد تفسیر قرآن پڑھنے کا موقع ملا جو بہت ہی خوبصورت انداز میں لکھی گئی البتہ بہت ہی کم جگہ دی گئی تفسیر کو جس کو بڑھانے کی پرزور اپیل کی جاتی ہے۔اس کے بعد باقی تحریروں کو پڑھ کر واقعی اچھا لگا لیکن اس کے ساتھ ہی یہ احساس ہوا کہ جس اسرا میگ کا خصوصی شمارہ پڑھتے ہوئے جس کیفیت اور سرور کا انتظار تھا وہ ابھی تک حاصل نہ  ہوسکا ۔ہم سمجھے شاید ہمارا ٹیسٹ  خراب ہو چکا ہے۔یہاں میں یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میری اس بات کا قطعاَ یہ مطلب نہیں کہ کوئی تحریر کم اہم یا کم دلچسپ تھی بلکہ میں ذاتی طور پر جس کیفیت اور سرور کا منتظر تھا وہ ابھی حاصل نہیں ہو سکا تھا۔لیکن جیسے ہی “عورت گر کامل ہو جائے از رومانہ گوندل” پر پہنچا تو دل بےتاب کوقرار آ گیا اور اس تحریر کو ہم نے ذاتی رائے سے رسالے کی بہترین تحریر قرار دیا۔یہاں مطلوبہ سرور آیا اور دل ہی دل میں اسرا میگ زندہ باد کا نعرہ لگایا۔لیکن اس کے ساتھ ہی خیال آیا کہ ایک ہی تحریر پڑھنے کے بعد دل کو اچھل کود کرنے سے باز رکھا جائے اور باقی تحریروں کو بھی پڑھا جائے اس کے بعد ہی کسی تحریر کو سب سے زیادہ نمبر دیے جائیں ۔خیر ہم نے اس کے بعد قوت فیصلہ از فرح رضوان پڑھی تو احساس ہوا کہ محترم مقابلہ واقع اتنا آسان نہیں کہ ایک ہی تحریر سے لطف اندوز ہونے کے بعد اسے بہترین قرار دیا جائے بلکہ یہاں مقابلہ سخت ہے۔اس تحریر میں  بہت ہی اہم مسئلہ کو بہت ہی خوبصورت انداز میں حل کیا گیا۔یہ گویا ہمارے دل کی آواز تھی۔

اس کے بعد دل ناتواں میں اتنی ہمت نا رہی کہ ان تحریروں کی تعریف کیے بغیر ہم مزید پڑھ سکیں، لہٰذا ہم اپنی کم علمی و کم فہمی کے باوجود تبصرہ لکھنے کی جسارت کرنے کے لیے تیار ہو بیٹھے۔رسالہ میں شامل ہر ہر تحریر اس بات کی مستحق ہے کہ اس کی خصوصیت اور تعریف کی جائے لیکن میں اپنی کم علمی اور کم ہمتی کے باعث ایسا کرنے سے محروم ہوں۔ اللہ تعالیٰ تمام مصنفین اور منتظمین کو اپنی

(رحمت کے شایان شان اجر عطا فرمائے۔آمین(فیصل شہزاد

About فیصل شہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *