Home / شمارہ دسمبر 2017 / اقبال تیرے دیس کا حال

اقبال تیرے دیس کا حال

14 اگست 1947کو دنیا کے نقشے پر ایک نئی باڈر لائن نمودار ہوئی جس نے بر صغیر کو دو ملکوں پاکستان اور انڈیا میں تقسیم کر دیا، لیکن یہ کوئی اچانک ہو جانے والا واقعہ نہیں تھا۔ اس کے پیچھے ایک طویل اور انتھک کوشش تھی اور اس کوشش کی بنیاد دو قومی نظریہ پہ رکھی گئی۔ برصغیر میں دو قومیں آباد تھی، ہندو اور مسلمان ،جن پر انگریز حکومت کر رہے تھے ا ور خطرہ تھا کہ انگریزوں کے ہندوستان چھوڑ جانے کے بعد ہندو اکثریت میں ہونے کی وجہ سے حکومت میں آ جائیں گے جس کی وجہ سے مسلمانوں کا معاشی ، معاشرتی ، سیاسی ہر لحاظ سے استحصال ہو گا۔مسلمان اور ہندو ایک ساتھ نہیں رہ سکتے کیونکہ ہندو مذہب اور معاشرت ہر لحاظ سے مسلمانوں سے مختلف تھے۔ ان کا رہنا ، کھانا پینا، لباس کچھ بھی ایک جیسا نہیں تھا اور سب سے بڑھ کے ہندوؤں کی مسلمانوں سے عداوت ایک مثالی معاشرہ کبھی نہ بننے دیتی۔ اس لیے علامہ اقبال، قائد اعظم جیسے دور اندیش اور ذہین لیڈروں نے مسلمانوں کو متحد کیا اور ایک علیحدہ ملک حاصل کرنے کے لیے ابھارا جہاں ایک مثالی اسلامی معاشرہ قائم ہو سکے۔ اور اس الگ ملک کا نام پاکستان تجویز کیا گیا اور پھر ہندوستان میں ہر جگہ یہی نعرہ گوجنے لگا:

 پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ

آخر کار مسلمان پاکستان بنانے میں کامیاب ہو گئے وہ ملک جہاں اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کا خواب دیکھا گیا تھا،لیکن افسوس جنہوں نے خواب دیکھا وہ تعبیر دیکھنے تک زندہ نہ رہ سکے ۔ علامہ اقبال پاکستان بننے سے پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور قائد اعظم قائم کے ایک سال بعد اس ملک کو اقبال کے شاہینوں کے حوالے کر گئے ۔ لیکن اقبال کے شاہین، اقبال کا بتایا ہوا سبق بھول گئے او ر پھر انہوں نے اس ملک کو مالِ مفت کی طرح لٹایا ۔ وہ ملک جس کو حاصل کرنے کے لیے زمینوں، جائیدادوں، عزتوں اور جانوں کی قربانی دی گئی اس کا سودہ چند ڈالرز میں ہو نے لگا۔ ہندوؤں کے وہ سوچ ، رسم و رواج اور رہن سہن جس سے چھٹکارا پانے کے لیے علیحدہ ملک بنایا گیا وہ کچھ تو جہیز میں پاکستانی ساتھ ہی لے آئے اور باقی فلموں اور ڈراموں کی مرہونِ منت ہر گھر میں پہنچ گئے۔

ان گزرے ستر سالوں میں اس ملک کے باسیوں نے ہر وہ کام کیا جس نے اس ملک کی جڑیں ہلا دی ۔ اس ملک کی مخلص قیادت نے ایک کرسی کی خاطر ملک کے دو ٹکڑے کر دئیے لیکن اس پر اکتفا نہیں ہوا کیونکہ یہ آگ بھجی نہیں ہے ، کچھ عناصر اب بھی اپنے مفادات کی خاطر صوبوں کو آپس میں لڑا رہے ہیں۔ پھر کچھ محب وطن لوگ اٹھے نئے پاکستان کا نعرہ لگا یا ، عوام کو ان کے خلوص پہ شک نہیں ہے ، لیکن یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ نو جوان نسل کو ناچ گانے پہ لگا کے نیا پاکستان کیسے بنے گا، اور کہیں عوام کی عدالت میں آنے کے خوہش مند ، عوام کو ہی گاڑی کے پہیوں تلے کچل گئے۔

لیکن ہر الزام قیادت کے سر ڈال کے بری الذمہ نہیں ہوا جا سکتا، کیونکہ عوام خود بھی کسی سے پیچھے نہیں رہی۔ اپنے ہی ہم وطنوں کو علاج کے نام پہ جعلی داوئیاں دے کر موت کے گھاٹ اتارنے والے ہم خود ہیں،بازارکھانے پینے کی ملاوٹ زدہ چیزوں سے بھر گئے ۔ رشوت ، قتل و غارت ، چوری ڈاکے عام ہو گئے ۔ بے گناہ لوگ قید میں ہیں اور مجرم پہ دندناتے پھر رہے ہیں،یہاں غربت بد ترین جرم ہے ، ذات پات کا گھن معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے ۔ مذہب جس کے نام پہ یہ قوم ایک ہوئی تھی ، آج فرقہ بندی اور کافر ، جہنمی کے فتوؤں تک محدود ہو گیا۔ یہ سب دیکھ کے بے اختیار ایک سوال ذہن میں آتا ہے ، کیا ہم ہیں اقبال کے شاہین ، یہ ہے ،وہ پاکستان جس کا خواب دیکھا گیا تھا۔

اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

شاہیں کا جہاں آج،کرگس کا جہاں ہے

ملتی ہوئی ملا سے مجاہد کی اذاں ہے

ماناکہ ستاروں سے بھی آگے ہیں جہاں اور

 شاہیں میں مگر طاقتِ پرواز کہاں ہے

اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں 

بے باکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن

مکاری و روباہی پہ اتراتا ہے مومن 

جس رزق سے پرواز میں ہو کوتاہی کا ڈر

وہ رزق بڑے شوق سے کھاتا ہے مومن

اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

 کردارکا، گفتار کا،عمل کا مومن

 قائل نہیں ایسے کسی جنجال کا مومن

سرحد کا ہے مومن کوئی پنجاب کا مومن

 ڈھونڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مومن

ا قبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

 

 

About رومانہ گوندل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *