Home / شمارہ جون 2018 / الحاد کی وجوہات اور ہمارا رویہ

الحاد کی وجوہات اور ہمارا رویہ

تحریر: حافظ محمد شارق

اس بارے میں اب کوئی دو رائے نہیں ہے کہ الحاد یعنی مذہب بیزاری کی  گمراہی آج صرف مغرب تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک عالمی مسئلہ بنتا جا رہا ہے ، حتیٰ کہ ہماری مذہب پسند مشرقی تہذیب بھی اس کی لپیٹ میں ہے اور  معاشرے میں متعدد افراد ہیں  جو کسی نہ کسی درجے میں دہریت  کا شکار  ہیں ۔ یہ حالات علماء کے لیے نہ صرف یہ تقاضا  کرتے ہیں کہ ایک علمی تحریک کے ذریعے مذہب کا مقدمہ لڑا جائے، بلکہ یہ بھی اشد ضروری ہے کہ اپنی مذہبی فکر اور اُن رویوں کی طرف توجہ دی جائے   جو الحاد کے  فروغ کے اہم محرکات  بن سکتے ہیں۔اس ضمن میں یورپ کی مذہبی تاریخ کو  سمجھنا  الحاد کے محرکات کے تعین اور ان سے آگہی  کے لیے  انتہائی ضروری ہے تاکہ ہم ان غلطیوں کو دہرانےسے گریز کریں جو الحاد کی پیدائش میں دیگر اسباب کے ساتھ برابر کی ذمہ دار ہیں۔

یورپ میں  الحاد نشاۃِ ثانیہ کے بعد ایک فکری تحریک کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ زمانہ چودہویں سے سولہویں صدی عیسوی تک کا تھاجب عیسائیت    یورپ کا غالب مذہب تھا مگر مذہبی طبقے نے اپنے رویوں میں ایسی کوئی کثر نہ چھوڑی تھی کہ لوگ مذہب سے بیزار نہ ہوں۔ اس تاریخ سے  جو بنیادی عوامل الحاد کے فروغ کے ضمن میں ہمارے سامنے آتے ہیں وہ حسب ذیل ہیں:

  1. مغرب میں الحاد اور جدیدیت در آنے کی پہلی وجہ مذہبی رہنماؤں کا وہ طبقہ تھا جن میں بے شمار اخلاقی خرابیاں پیدا ہوچکی تھیں اور ان خرابیوں نے مذہب کا حلیہ بھی بگاڑ دیا تھا۔ چنانچہ بہت سے اخلاقی رذائل کو بھی کلیسا کی جانب سے بھی مذہبی پشت پناہی حاصل تھی۔  سنجیدہ مذہبی لوگوں کی جانب سے ان علماء کی اصلاح کا مطالبہ ہمیشہ کیا جاتا رہا مگر ان کا مطالبہ جب بے نتیجہ رہا تو ردعمل میں پروٹسٹنٹ تحریک کا ظہور ہوا جو درحقیقت یورپ کے مجموعی نظام فکر میں جدیدیت کا پہلا بیج تھا۔
  2. کلیسا کا مطالبہ تھا حکومت میں ان کا مذہبی اثر و رسوخ ہر حال میں ہونا چاہیے اور تمام تر فیصلے ان کی صوابدید پر ہونے چاہیے جبکہ بادشاہ محض ایک مخصوص دائرے میں ہی مذہبی طبقے کو قبول کرنے پر راضی تھے۔ اس صورت حال میں پوپ یعنی کلیسا اور پولیٹیکل لیڈرشپ کے درمیان اختلاف اور تنازعات شروع ہوگئے تھے ۔ بادشاہوں نے ایسی صورت میں پروٹسٹنٹ تحریک کی سرپرستی کی اور نتیجتاً کلیسا جو ایک مضبوط روایت پسند ادارہ تھا، سیاسی اثر و رسوخ کی کشمکش کی نذر ہوگیا۔
  3. سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب اناجیل مسیحی دور کے آغاز کا یہ مجموعی منظر بیان کرتی ہے کہ یہودی فقہاء/فریسی مذہب کی اخلاقی و روحانی تعلیمات کے بجائے ظواہر پرستی میں مبتلاء ہوگئے تھے۔ ان کا سارا زور مذہب کی ظاہری ہیت اور مذہبی حلیے کی بقا پر تھا۔ ان میں اس بات کی اہمیت تھی کہ کھانے سے قبل ہاتھ دھو لیے جائیں یا عبادت کرتے ہوئے فلاں فلاں عمل و حرکت بالکل اسی حساب سے کی جائے جس طرح ان کے علماء نے لکھا ہےچنانچہ اہم ترین اخلاقی و روحانی تعلیمات بالکل بے مقصد ہوکر رہ گئی تھی۔ اس رویے پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے شدید تنقید کی تھی، مگر قرونِ وسطیٰ میں سیدنا مسیح کے نام لیوا ہی اس ظاہر پرستی کے مرض کا شکار ہوگئے۔ مذہب کی اصل روح اوجھل ہونے اور ظاہر پرستی کے رواج نے کئی حساس ذہنوں کو مذہب کے مخالف کردیا کیونکہ ان کے لیے ایسا خدا اور مذہب بالکل بے سود تھا جو محض چند ظاہری اعمال پر انسانی زندگی اور اس کی آخرت کو موقوف کردے۔
  4. کلیسا کے علماء کتبِ مقدسہ کی تفہیم کو اُس فکر کے تابع رکھنا چاہتے تھے جو ان کے پادریوں نے یونانی، یہودی اور رومی فکر سے اخذ کرکے مرتب کی تھی۔ ان کے ہاں موسوی شریعت کی اصل کے بجائے اس شریعت کی خود ساختہ تفہیم کو دین کا درجہ دے دیا گیا جس سے اختلاف ان کے نزدیک مذہب سے اختلاف تھا۔مذہبی متون اپنی تحریف شدہ حالت میں بھی جس قدر آزادئ فکر فراہم کر رہے تھے، ان پر لگائے گئے حاشیوں نے اس آزادی پر قدغن لگا دی ۔ چنانچہ جب گلیلیو نے جب زمین کے متحرک ہونے کا نظریہ پیش کیا توعیسائی علماء کے نزدیک یہ بائیبل کے خلاف تھا۔ حالانکہ اصلاً یہ اس خود ساختہ تفہیم کے خلاف تھی جو حقیقتاً انسانی تحریفات کا نتیجہ تھیں۔ یہی وہ فکر تھی جس نے کلیسا کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اپنے فہم کے مخالف مفکرین کو کڑی سے کڑی سزائیں دیں۔ چنانچہ علم و عقل کے علم بردار مفکرین جب ظلم کا شکار ہوئے تو یہ ظلم مذہب بیزاری کے رجحان پر منتج ہوا۔
  5. عیسائیت علم الکلام کی بنیاد خالصتاً یونانی فکر پر تھی ۔ یونانی فلسفے کی مدد سے عیسائی متکلمین اپنے دین کا اثبات کیا کرتے تھے اور اس کے لیے  انھوں نے یونانی نظریات کو مذہب کی تشریح و توضیح اور حقانیت کے ثبوت کے لیے استعمال کیا تھا۔ مگر نشاۃِ ثانیہ کے دور میں جب یونانی فلسفے پر ضرب کاری کا آغاز ہوا تو ساتھ ہی عیسائیت پر بھی لوگوں کا ایمان متزلزل ہوگیا۔

انفرادی نوعیت کی وجوہات سے قطع نظر یہ وہ پانچ بنیادی عوامل تھے  جن کا تعلق براہ راست مذہبی طبقے سے تھا اور انہی عوامل  نے مغرب میں الحاد کو پنپنے کا سماجی جواز فراہم کیا۔ ہمارے لیے غور و فکر کا مقام ہے کہ  اگر ہم نے  بھی مذہبی و فکری اعتبار سے اسی طرح کا کردار ادا کیا جو اس دور میں کلیسا کا تھا،  تو کوئی مانع ہیں کہ آئندہ کے حالات ہمارے لیے انتہائی مایوس کن ہوں گے۔

About حافظ محمد شارق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *