Home / خواتین اسپیشل / الفرقان فی تفسیر القرآن-قسط 4

الفرقان فی تفسیر القرآن-قسط 4

رحیمیت

عام مفسرین کرام نے الرحمٰن اور الرحیم کے بارے میں یہ ایک نکتہ یہ بھی بیان کیا ہے کہ الرحمٰن میں رحمت بلاامتیاز  نیک و بد، کافر و مومن  ، صالحق و فاسق ہر ایک کے لیے  ہے۔ جبکہ الرحیم جو مستقل رحمت ہے، سزا و جزا کے بعد صرف  اُن مومنین کے لیے ہوگی جو اللہ کی رحمت کے مستحق قرار پائیں گےکیونکہ  قرآن مجید میں خداوند  کے رحیم ہونے کی خوش خبری صرف اہل ایمان کے لیے  بیان کی گئی ہے۔رحمٰن اور رحیم کی صفات قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی آئی ہیں؛ ان کا بغور مطالعہ ایک اور جہت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ وہ یہ کہ رحمٰن کی صفت قرآن  مجید میں ان مقامات پر ہے جہاں اللہ تعالیٰ نظام تکوین، سزا و جزا،   عقلی مسلمات اور اایسے اصول و حقائق بیان  فرما  تے ہیں جو بالکل اٹل  اور ناقابل تغیر ہوں۔جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت اور نظام کردیا ہے ۔ جبکہ رحیمیت کی صفت اللہ کی شفقت و محبت ، بندوں کے اعمال  اور ایسے معاملات کے ساتھ استعمال ہوئی جو  یقینا ضابطے کے تحت ہی ہوتے ہیں لیکن اپنی نوعیت میں وسعت اور لچک (Flexibility) رکھتے ہیں۔مثلاً  بخشش، توبہ ، رحمت وغیرہ۔

مثلاً ہم جانتے ہیں کہ جنت و دوزخ کا فیصلہ یقیناً اعمال کی بنیاد پر ہوگا لیکن ہم اس حقیقت  سے بھی واقف ہیں کہ ہم محض اپنے اعمال کی بنیاد پر  ابدی جنت کے مستحق نہیں ہوسکتے۔ جانے انجانے ہم سے بے شمار گناہ ہوجاتے ہیں ، لیکن اس کے باوجود روزِ آخر رحمتِ خداوندی کی انتہا ہوگی کہ ہمارے گناہوں کے باوجود وہ ہمیں جنت کا مستحق قرار دے گا۔ مولانا عبید اللہ سندھی مجموعہ تفسیر میں رحمٰن اور رحیم کا فرق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ذرا غورکیا جائے تو باپ اور ماں کی محبت میں ایک طبعی فرق نظر آتا ہے ۔ باپ چاہتا ہے کہ اس کی اولاد کمال حاصل کر لے خواہ اولاد کو کتنی ہی مشقت کیوں نہ اٹھانی پڑے ۔ ماں کی ممتا چاہتی ہے کہ اس کہ اوالاد کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے  ۔‘‘

’’کبھی آپ نے غور فرمایا کہ قرآن اللہ تعالیٰ کی جس صفت کا سب سے پہلے ذکر کرتا ہے وہ صفت قہّاریت و جبّاریت نہیں بلکہ صفتِ رحمانیت و رحیمیت ہے۔ یہ اس لیے کہ بندہ کا جو تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے اُس کا دار و مدار خوف و ہراس اور رعب و دبدبہ پر نہ ہو، بلکہ رحمت و محبت پر ہو۔‘‘

(محمد کرم علی شاہ ازہری، تفسیر ضیاء القرآن۔ تفسیر بسم اللہ، حاشیہ نمبر، 3)

  حافظ محمد شارق

About حافظ محمد شارق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *