Home / شمارہ دسمبر 2017 / اللہ کا ذکر

اللہ کا ذکر

قسط نمبر ۔1

ذکر کا مفہوم

ذکر کے لغوی معنی یاد کرنا، بیان، چرچا، تذکرہ، یادآوری،  کسی چیز کو محفوظ کر لینا، کسی بات کا دل میں مستحضر کر لینا، حفاظت کرنا۔ یہ  لفظ نسیان کا الٹ ہے۔ذکر الٰہی کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ کو  ہر حال میں یاد  رکھنا ،  اس کا تصور ہر وقت ذہن میں رکھنا اوراسکی مرضی، پسند ناپسند کا خیال رکھنا سب اس میں شامل ہیں۔

فکر کامفہوم

اس کا مطلب غور و فکر کرنا اور عقل کے ذریعے کسی متعین نتیجے تک پہنچنا شامل ہیں۔مثال کے طور پر ایک شخص جب یہ دیکھتا ہے کہ آسمان اور زمین میں اتنا تضاد ہونے کے بعد بھی انتہائی درجے کی معاونت ہے ۔ یعنی آسمان کی بارش زمین میں غذا کی فراہمی کا باعث بنتی ہے، سورج کی روشنی حرارت کا سامان مہیا کرتی، چاند کا گھٹنا اور بڑھنا سمند ر میں جوار بھاٹا پیدا کرتا اور تاروں کی چال راہ دکھانے کا کام کرتی ہے  تو وہ اس غور فکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ یقینی طور پر کوئی منتظم اعلیٰ موجود ہے جو ان سب تضادات میں ہم اہنگی پیدا کئے ہوئے ہے۔اسی کا نام تفکر ہے۔

ذکر اور فکر کا تعلق

 ذکر کا تعلق انسان کے دل اور جذبات سے زیادہ ہے جبکہ تفکرا یک عقلی طریقہ کار ہے۔

قرآنی آیات

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ

’’مومن تو وہ ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اسکی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔‘‘(سورۃ الانفال:۲)

سورۃ الرعد  آیت 13 میں یوں  ارشاد ہوا ہے:

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ ۭ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ

’’(یعنی) جو لوگ ایمان لاتے اور جن کے دل یادِ خدا سے آرام پاتے ہیں (انکو) اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں‘‘

وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰـىهُمْ اَنْفُسَهُمْ ۭ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ 

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے ایسا کر دیا کہ خود اپنے تئیں بھول گئے یہ بد کردار لوگ ہیں ۔(سورۃ الحشر:۱۹)

سورۃ الاعراف آیت 55 میں ارشاد ہوا ہے کہ

ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ

’’اپنے ربّ کو پکارو گِڑ گِڑاتے ہوئےاور چپکے چپکے ، یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

حدیث مبارکہ

’’حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ بے شک ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کے ایک حلقے کی طرف تشریف لے گئے تو فرمایا تمہیں کس بات نے بٹھلایا ہوا ہے صحابہ نے عرض کیا ہم اللہ کا ذکر کرنے اور اس کی اس بات پر حمد کرنے کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کی ہدایت عطا فرمائی اور ہم پر اس کے ذریعہ احسان فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اللہ کی قسم تمہیں اس بات کے علاوہ کسی بات نے نہیں بٹھایا صحابہ نے عرض کیا اللہ کی قسم ہم صرف اسی لیئے بیٹھے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم سے قسم کسی بدگمانی کی وجہ سے نہیں اٹھوائی بلکہ میرے پاس جبرائیل آئے اور انہوں نے مجھے خبر دی کہ اللہ رب العزت تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر کر رہا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم ،جلد سوم، رقم الحدیث 2360)

کیس اسٹڈی

 فائق پچھلے کئی سالوں سے لندن میں مقیم تھا۔ اسکی کاروباری مصروفیات پاکستان آنے کی اجازت نہیں دے رہی تھیں۔ لیکن وہ اپنی ماں سے ملنے کے لئے بے چین تھا۔  وہ اکثر تنہائیوں میں اپنی ماں کے بارے میں سوچتا، اس کا تصور کرتا، اسکی باتیں یاد کرتا، اس کی مسکراہٹ اور لوریوں کو ذہن میں لاتا اور محظوظ ہوتا ۔وہ اکثر جب اپنے دوستوں سے ملتا تو اپنی ماں کی تعریف اور چرچے بیان کرتا ۔ کبھی اس کے دوست اسے سگریٹ کا کش لگانے کو کہتے تو اسے ماں کی تنبیہ یاد آجاتی اور وہ اس سے باز آجاتا۔ایک دن برسات میں وہ بھیگتاہوا گھر آیا تو اسے بخار چڑھ گیا ایسے میں ماں بہت یاد آئی۔وہ بے اختیار رودیا اور دوسرے ہی دن پاکستان واپس ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ایک ہفتے کےبعد وہ پاکستان پہنچ گیا اور ماں سے لپٹ کر رویا لیکن یہ رونا فراق کا نہیں بلکہ وصال کا تھا۔

کیس اسٹڈی کا تجزیہ

۱۔ فائق کاروبار میں مصروف ہونے کی وجہ سے اپنی ماں سے دور تھا جبکہ ایک بندہ مومن  دنیاوی مصروفیات کی بنا پر اللہ کی یاد محو کردیتا ہے۔

۲۔ فائق تنہائیوں میں اپنی ماں کی حرکات و سکنات اور احسانات کو یاد کرتا تھا جبکہ ایک مومن اپنی تنہائیوں میں  اللہ کی صفات اور بے پناہ احسانات کو یاد کرتا اور ان کا تصور کرتا ہے۔

۳۔فائق اپنے دوستوں میں اپنی ماں کے چرچے کرتا ۔ایک مومن اپنے ساتھیوں اور خاندان کے افراد سے جب ملتا ہے تو اللہ کی تسبیح، حمد، بڑائی، محبت اور دیگر صفات کا چرچا کرتا  اور اور اس ذکر سے خوش ہوتا ہے۔

۴۔فائق  اپنی ماں کو یاد کرکے سگریٹ پینے سے باز آجاتا جبکہ مومن اللہ کو یاد کرکے ہر چھوٹی یا بڑی نافرمانی  سے رک جاتا ہے۔

۵۔ فائق کو بخار میں ماں بہت یاد آئی جبکہ مومن کو مصیبت میں اللہ یاد آتا ہے۔

About ڈاکٹر محمد عقیل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *