Home / علمی مضامین / امید اور مایوسی

امید اور مایوسی

امید اور مایوسی درحقیقت انسان کے دو مختلف خیالات کا نام ہے۔ بلکہ متضاد خیالات کا نام۔ امید کا تعلق رحمت کے قبیل سے ہے اور مایوسی شیطان کا ہتھیار۔  مایوس انسان اصل میں شعوری یا لاشعوری طور پر اس بات کا انکاری ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ حالات کو بہتر کرنے پر قادر ہے جبکہ پُرامید شخص کی نظریں مسلسل عنایتِ رب تعالیٰ پر لگی رہتی ہیں۔ اس طرح بندے کا اللہ تعالیٰ سے امید کا یہ تعلق بھی عبادت ہی کہلاتا ہے اور ترکِ عبادت ایک گناہ ہے۔ امید اور مایوسی اصل میں دن اور رات کی طرح ہیں ایک کا اُتار تو دوسرے کا چڑھاؤ۔ پُرامید انسان روشنی کا چمکتا ستارہ  اور  مایوس انسان اندھیرا  ہی اندھیرا ہے۔ روشنی میں ہر راستہ دکھائی دیتا ہے جبکہ اندھیرے میں ہاتھ کو ہاتھ سُجھائی نہیں دیتا۔ پُرامید انسان کے پاس جینے کا حوصلہ اور آگے بڑھنے کا جذبہ ہوتا ہے جبکہ مایوس انسان اپنی زندگی کے خاتمے کے طریقے سوچتا ہے اور پھر کر بھی گزرتا ہے۔ لیکن زندگی تو ختم ہوتی ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں تک کہ موت کے بعد بھی نہیں۔ زندگی صرف اپنی حالت بدلتی ہے۔ اور موت۔۔۔۔۔۔۔ایک نئی حالت کی ابتدا کا نام ہے۔ زندگی کی یہ نئی حالت اپنی پہلی حالت کے گزارنے پر جوابدہ ہوتی ہے۔ جس کی تمثیل اسی دنیا میں موجود ہے۔ انسان کا آج ہی انسان کے کل کو سنوارتا یا بگاڑتا ہے۔ جوانی کی غلطیاں بڑھاپے میں آگے آ جاتی ہیں اور اسی طرح جوانی کی نیکیاں بھی بڑھاپے کو سہارا دیتی ہیں۔ اب جیسے جوانی کے اچھے یا برے اعمال اس کے بڑھاپے کو اچھا یا برا بناتے ہیں۔ بالکل یہی صورتحال اس زندگی سے اگلی زندگی میں داخل ہونے کی ہے جہاں اس زندگی پر جوابدہ ہونا ہے۔

 یہ کائنات اللہ تعالیٰ کی ریاست ہے اور اس ریاست میں وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔اور جیسے چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔! انسان اللہ کا بندہ ہے اور بندے کا کام اپنے معبود کی بندگی کرنا ہے۔ مالک کے اختیار میں ہے کہ وہ اپنے بندے کو اچھے، برے یا جیسے چاہے حال سے گزارے۔ وقت اللہ تعالیٰ کی گرفت میں ہے اور ہر شے اپنے اوقات میں اپنی حالت بدل رہی ہے۔ اول پہر میں طلوع ہونے والے سورج کی چمک دوسرے پہر سے ملتے وقت اپنے عروج پر ہوتی ہے پھر یہی سورج تیسرے سے چوتھے پہر میں داخل ہوتا ہوا آخر کار اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔ پھر اسی طرح رات کے پہر بھی بدلتے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اور پھر اک نئی صبح اور پھر اک نئی شام۔ دن اور رات کی طرح انسان کی زندگی کے پہر بھی بدلتے ہیں، اوقات بدلتے ہیں جن میں بندے کی اپنی اوقات بھی بدلتی رہتی ہے۔ انسان اپنے حالات پر کتنا بھی پہرے دار بن جائے مگر پھر بھی پہر بدل ہی جاتے ہیں۔ اور ان پہروں کا بدلنا ہی انسان کو بتاتا ہے کہ انسان کا خود پر اور حالات پر کتنا اختیار ہے؟ زندگی کا یہ پہر کبھی طلوع آفتاب کی طرح خوشنما اور کبھی دوپہر کی تپتی دھوپ کی طرح جھلسا دینے والا بن جاتا ہے۔ پہر پھر اگلے پہر میں بدلتا ہے اور ذرد دوپہر، سرخ شام میں ڈھلنے لگتی ہے۔ اس طرح دھوپ چھاوں اور اتار چڑھاو کا یہ کھیل جاری رہتا ہے۔ یہ سب مالک کے کام ہیں۔ جن میں بندے کے پاس صرف اس کا خیال اور عمل ہے جسے وہ ان پہروں کے بدلنے میں اپنے اللہ کے حضور پیش کرتا رہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جو اللہ دھوپ کو تپش عطا کرتا ہے وہی چھاوں کو ٹھنڈک بخشتا ہے۔ اور پھر وہی خدا، انسان کو اس دھوپ اور چھاوں کے درمیان دوڑاتا رہتا ہے۔ دھوپ چھاوں کی یہ دوڑ زندگی کا حصہ ہے۔ جیسے اگر دل کی دھڑکنوں کو ماپنے والی ای – سی – جی مشین کو دیکھا جائے تو اس کی سکرین پر دکھائی دینے والی لکیر جو تسلسل کے ساتھ اوپر اٹھتی اور پھر نیچے گرتی نظر آتی ہے۔ اس اوپر اٹھتی اور نیچے گرتی لکیر کا مطلب ہی زندگی ہے کیونکہ اسی، ای – سی – جی مشین کی لکیر جب بالکل سیدھ اخیار کر لے تو اس سیدھ کا سیدھا مطلب بندے کی موت ہے۔ موت۔۔۔۔۔یعنی موجودہ زندگی کا اختتام۔ اونچ نیچ، اچھائی برائی، بلندی پستی سب ختم۔ اب آگلی حالت میں اس زندگی کے اعمال کا فیصلہ ہے۔ پل صراط کی سیدھی لکیر ہے اور بندے کے پاس کیا ہے؟ امید۔۔۔۔۔۔۔! ان اعمال کے اچھے نتیجے کی امید ۔۔۔۔۔۔۔ رحمت کی امید ۔۔۔۔۔۔ فضل کی امید ۔۔۔۔۔۔ واللہ ذولفضل العظیم۔

 فضل کی اس امید کا سلسلہ یہیں اسی زندگی میں آج سے شروع ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔آنے والے ہر کل کے لیے ! کیونکہ ہمیں کل کبھی نہیں ملتا۔ ہم ہر کل کو آج ہی کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ ہم آج کا شکر ادا کرتے ہیں اور پھر مزید اچھے کل کی امید لگاتے ہیں۔ آج کا شکر اور اچھے کل کی امید۔۔۔۔۔۔! پھر یہی عمل ہمارے اعمال نامہ میں درج ہوتا جاتا ہے۔ اور بندہ ایک روز اپنے مالکِ حقیقی کے سامنے پہنچ جاتا ہے۔ اور مالکِ حقیقی سے فضل کی امید ہی تو انسان کا اثاثہ ہے۔حضرت واصف علی واصفؒ کا قول ہے کہ” اپنی مرضی اور اللہ کی مرضی میں فرق کا نام غم ہے “۔ اللہ اور انسان کی مرضی کا یہ فرق غم بن کر اکثر انسانی زندگی میں داخل ہوتا رہتا ہے۔ اب اگر کسی نے وقت کی سختی میں اپنے رب سے مایوس ہو کر امیدِ رحمت کو مایوسی کی بدگمانی سے بدل دیا تو اس سے مالک کی شان کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ نہ ہی کائنات جو اللہ کی ریاست ہے اس میں کچھ تبدیلی آئے گی۔ مگر بندے کا وہ رد عمل جو اس نے خدا کے حضور ظاہر کیا اور پھر اس رد عمل کے ساتھ جس عمل کو اختیار کیا وہ دونوں نامہ اعمال کی تحریر میں ضرور آ جائیں گے۔ یعنی مشکل وقت کی اس بندش میں بندے نے اللہ رب العزت کی جانب سے امتحان سمجھ کر صبر کیا، بہتر کل کی دعا مانگی اور اس سے رحمت کی امید رکھی یا حالات سے بدظن اور مایوس ہو کر اللہ اور بندگی کا اپنا یہ تعلق ہی خراب کر بیٹھا ؟ یوں مایوسی انسان کو گمراہی کی جانب دھکیل دیتی ہے۔ جس سے ہر حال میں بچنا چاہیے۔ اور امید کے دیپ کو کبھی بجھنے نہیں دینا چاہیے کیونکہ اس روشنی سے ہی زندگی روشن ہے۔

About محمد اویس حیدر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *