Home / شمارہ جون 2018 / (انسانی جان کی حرمت(دوسرا اور آخری حصہ

(انسانی جان کی حرمت(دوسرا اور آخری حصہ

تحریر:عرفان شہزاد

بات یہاں نہیں رکی۔ غیر قوم کی تعریف پھر غیر زبان اور غیر مذہب کی تعریف میں سمٹ آئی۔ غیر نسل والوں سے نجات پا کر اب ایک بار پھر انسانوں سے کہا گیا کہ  پھر اپنی جانوں کو سستا کریں کہ غیر زبان اور غیر مذہب کی حکمرانی بھی دراصل غلامی ہوتی ہے، ہم مذہب اور ہم زبان کی غلامی اختیار کریں کہ وہ  غلامی نہیں ہوتی۔ لوگ پھر جانیں دینے چل پڑے، پھر نہیں پوچھا کہ ہم مذہب اور ہم زبان کو حکومت مل جائے گی تو کیا ہو جائے گا؟ کہا گیا کہ غیر قوم، غیر مذہب، اور غیر زبان والے تمھارا استحصال کرتے ہیں، لیکن یہ نہیں پوچھا گیا کہ اس کی کیا ضمانت ہے ہم قوم، ہم زبان اور ہم مذہب حکمران استحصال نہیں کریں گے۔ کہا گیا کہ غیر تمھارے حقوق نہیں دیں گے۔ غریب نے پوچھا ہی نہیں کہ کون سے حقوق۔ روزی روٹی تو اسے خود پیدا کرنی تھی، نماز اور مورتی پوجا، حج اور گنگا یاترا، مندر اور مسجد جانے کی اجازت تو سب دے رہے تھے، تعلیم اور صحت کے مواقع بقدر وسائل سب کو ملتے تھے، تو کون سے حقوق تھے جو غیر نے نہیں دینے تھے۔ کہا گیا کہ دراصل پارلیمنٹ میں تمھیں مناسب نمائندگی نہیں ملے گی۔ غریب مگر سمجھا نہیں کہ یہ اس کا مسئلہ تھا ہی نہیں، پارلیمنٹ کی نمائندگی کا ڈھونگ اقتدار کے حصول کے لیے اس کے ہم قوم، ہم زبان اور ہم مذہب اشرافیہ کا اقتدار کے حصول کے لیے گھڑا ہوا ہتھکنڈا تھا۔ انھوں نے اپنا مسئلہ عام آدمی کا مسئلہ بنا دیا تاکہ عوام کی طاقت اور اس کی قربانیوں کی ناؤ پر بیٹھ کر ایوان اقتدارتک پہنچ سکیں۔ عام آدمی خواہ مخواہ، خوشی خوشی جان دینے کے لیے تیار ہو گیا ۔ اس نے اپنے ہم قوم، ہم مذہب اور ہم زبان اشراف  کو اپنی لاش کے کاندھوں پر بیٹھا کر اپنے خون کی ندی میں سے گزر کر اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھایا اور خود پھر اپنے حقوق کے حصول کے لیے لائن میں کھڑا ہوگیا۔ عام آدمی نے اپنا اتنا سارا قتل محض اس لیے کرایا کہ اس کا استحصال غیر نہیں اپنا ہم قوم، ہم مذہب اور ہم زبان حکمران کر سکے۔ اس نے سمجھا ہی نہیں یہ جنگ اس کی تھی ہی نہیں جس کے لیے اس کا خون بہایاگیا۔ منگل پانڈے، بھگت سنگھ، اشفاق، ان سے پہلے اور ان کے بعد آج تک یہ سب حریت کے لڑاکے اپنی نہیں اپنے اشراف کی جنگ اپنے خرچ اور اپنے جان کے خرچ پر لڑ رہے ہیں۔ وہ ایک کی غلامی سے نکل کر دوسرے کی غلامی میں جانے کے مر رہے ہیں۔

 انیسویں صدی سے قومیت کے نام سے شروع ہونے والی یہ حماقت تاحال جاری ہے، اور انسانی جانوں کو اس بت کے چرنوں میں آئے دن بڑے فخر سے قربان کیا جاتاہے۔ انیسویں صدی سے پہلے انسانی جانوں کی قربانی اس لیے مانگی جاتی تھی کہ بادشاہ کا موڈ بن جاتا تھا کہ وہ اپنے ملک سے نکل کر دیگر علاقوں کو فتح کرے۔ کیوں؟ کبھی تو اس کا سبب بھوک، اور وسائل سے محرومی ہوتی تھی، گویا منظم ڈاکے کی یہ شکل تھی، جس کے لیےلوگ  ایک بادشاہ کے جھنڈے تلے اپنے جیسے دوسرے انسانوں سے ان کی روزی روٹی چھیننے کے لیے ان پر حملہ کرتے اور یوں اپنی جانیں بھی دیتے اور ان کی جانیں بھی لیتے، اور کبھی اس کی وجہ محض اپنی قوم کی ناموری ہوتی تھی کہ ہمارے بادشاہ نے اتنا علاقہ فتح کیا، اتنا خراج وصول کیا۔ اس کے لیے سپاہی اپنی ماؤں، بہنوں، بھائیوں، بیوی، بچوں اور دوستوں  کے پیارے رشتے  چھوڑ کر، انھیں اپنی جان کی  دائمی جدائی کا دکھ دینے چل پڑتے تھے۔ اس حماقت کو بہادری کا خطاب دیا جاتا تھا، جس طرح آج اسے شہادت کا نام دیا جاتا ہے۔ سماج کی ذہنی تربیت ایسے کی جاتی تھی کہ مائیں بھی فخر سے اپنے بچوں کو ان کے باپ کی بے شعور قربانی کی داستان، بہادری کا نام دے کر سناتیں، اور بچے بھی تمنا کرتے کہ وہ بھی اسی راستے پر چلیں۔ یوں بادشاہوں کو اپنی بے مقصد فتوحات کے لیے تازہ خون مسلسل مہیا ہوتا رہتا تھا۔ یہی سلسلہ ناموں کی تبدیلی سے اب بھی جاری ہے۔ مرنا اتنا مقدس بنا دیا جاتا ہے کہ لوگ تمنا کرتے ہیں کہ کسی شہید کے ماں باپ کہلوائیں۔ وہ لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ کہ شہید ہونے سے پہلے ان کے فرزند کو کسی دوسرے کی ماں کو اس کے بیٹے کی جدائی کا غم بھی تو دینا ہوگا، کسی دوسرے کی بیوی کو بیوگی اور اس کے معصوم بچوں کو یتیمی کے داغ دینے  ہوں گے، جن کی دکھن سے نفرت اور بدلے کے الاؤ سلگائے جاتے رہیں گے، جن کے شعلوں میں نئی نسلوں کو پھر سے جان دینے کے لیے تیار کیا جاتا رہے گا۔ یوں اشراف کی فتوحات کی کہانیاں قوم کا فخر قرار پائیں گی، اور سیکیورٹی کے حصار میں بیٹھے چند سینوں پر تمغے سج جائیں گے۔ شاعر ان کی بہادری پر نغمے لکھیں گے، اور گلوکار ان کو گا کر ہمارا لہو گرمائیں گے۔ مگر یہ چراغ جن کے لہو سے جلیں گے، انھیں بھی جینا تھا، انھیں بھی اپنے ماں باپ کے بڑھاپے کا سہارا بننا تھا، اپنی بیوی کے ساتھ جوانی کی لطف اٹھانے تھے، غیر کی نظر بد سے اس  کی حفاظت کرنی تھی، اپنے بچوں کے ساتھ کھیلنا تھا، اور کبھی جو وہ ڈر جاتے تو انھیں اپنے مضبوط بازوؤں کی پناہ کا یقین دلانا تھا۔ لیکن کسی طالع آزما کے مزاج کا اضطراب زندگی کا یہ سارا جوبن چھین لیتا ہے۔

غیروں کی حکومت کو غلامی باور کرا کر انسانوں کے خون بہانے کی ہر رہنما نے حوصلہ افزائی کی۔ مہاتما گاندھی اس میں کچھ بہتر تھے کہ وہ عدم تشدد کے قائل تھے۔ ان کے طریقہ احتجاج میں انسانی جانوں کے قتل کرنے کے لیے حکومت کے پاس اخلاقی جواز نہیں بن سکتا تھا، مگر لوگوں کو غیر قوم کی حکومت سے نکال کر، ہم نسل اور ہم وطنوں  کے زیر حکومت لانا کوئی اتنا بڑا انسانی مسئلہ نہیں تھا کہ نہتے لوگوں کو ڈنڈوں اور بندوقوں کے آگے ڈال دیا جاتا۔ غریب جو  انگریز کے دور میں بھاڑ جھونکتا تھا اس نے اپنے ہم قوم، ہم مذہب، ہم زبان کے زیرِ حکومت بھی بھاڑ ہی جھونکنا تھا۔

قومیت کی بنیاد پر جمہوری جہدوجہد کے پیچھے ہم قوم اور ہم مذہب اشرافیہ کا سیاسی یا روحانی حکمران بننے  کا خواب پنہاں ہوتا ہے۔ جمہوریت کے دور سے پہلے یہ مقصد اپنے قبیلے اپنی قوم کی تلواروں کی طاقت سے حاصل کرنے کی سعی کی جاتی تھی، جمہوریت میں یہی مقصد ان کے ووٹ کی طاقت سے حاصل کیا جاتا ہے۔ جس طرح اس وقت کے رہنماؤں کا ایک ذاتی ایجنڈا ہوتا تھا جس کی خاطر عام آدمی کا جانیں دینا عبث تھا، اسی طرح آج کسی کے اقتدار کی خاطر جانیں دینا فضول ہے۔

یہاں جدوجہد کی نفی ہرگز نہیں کی جارہی، اگر کسی کو شوق ہے کہ اپنے  ملک کی حکومت میں اپنی جلد کے رنگ والے لوگوں کو بیٹھا دیکھے، کسی دوسرے کو شوق ہے کہ وہ اپنے ہم زبان کو ایوان اقتدر میں براجمان دیکھے، چاہے وہ وہاں بیٹھ کر انگریزی میں خطاب کرے، اور اسی طرح کسی کو شوق ہے کہ وہ اپنے ہم مذہب ہی نہیں بلکہ ہم مسلک کو حکومت چلاتا دیکھے تو وہ شوق سے ان کے اقتدار کے لیے جدوجہد کرے، مگر اس کے لیے انسانی جان کی قربانی مانگنا، اور ایسے حالات پیدا کرنا کہ انسانی جانیں ضائع ہو کر رہیں، اس کا کیا جواز ہے؟ یہ جو اسلام کے نمائندوں کو اقتدار میں لانے کے لیے جانوں کی قربانیاں مانگتے ہیں، وہ بتائیں کہ اس کی کیا ضمانت ہے کہ یہ نمائندے کرپشن نہیں کریں گے؟ اسلامی نظام قانون میں بے انصافی نہیں کریں گے، اپنا ضمیر نہیں بیچیں گے؟ جب اس سب کی کوئی ضمانت نہیں تو یہ پیغمبرانہ شان سے اپنے پیروکاروں کی جانوں کی قربانی کیسے مانگ سکتے ہیں؟ وہ تو ایسا خدا کی اتھارٹی پر کرتے تھے، ان کے پاس ایسا کون سا اختیار  ہے؟ انسانی جان اس سے بہت بلند ہے کہ موہوم مقاصد میں ضائع کی جائے۔

رہنما اس بات پر کبھی پشمان نہیں ہوتے کہ ان کے کارکنوں، پیروکاروں کو اپنی جانیں نہیں دینی چاہیں تھیں۔ جان لینے پر ظالم کی مذمت تو کی جاتی ہے لیکن اپنی جان یوں ہتھیلی پر سجا کر بندوق کے آگے رکھنے والے کو کس بات کی شاباش دی جائے؟ سوچے تو سہی کہ وہ جان دے کس لیے رہا ہے؟ محض اس لیے کہ اس کی پارٹی کا رہنما اقتدار میں آجائے؟ کیا یہ خدا کا حکم ہے یا رسول کا فرمان؟ وہ آ بھی گیا  تو کیا ہو جائے گا؟ یہی وہ سوال ہے جو کبھی نہیں پوچھا گیا ، اور بڑی بڑی تحریکیں برپا کر دیں گئیں اور لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگ مروا دیے گئے۔

انسانی جان تو کیا کسی جانور کی جان بھی صرف اس کے خالق کی حکم پر ہی لی یا دی جا سکتی ہے۔ ہم جانوروں پر بھی خدا کا نام لیے بغیر ان کی جان نہیں لے سکتے، ایسا ہم اس لیے کرتے ہیں کہ خود کو باور کرائیں کہ اس کی جان لینے پر ہمارا کوئی اختیار نہ تھا، یہ جان خدا کی اجازت سے لی گئی ہے۔ جب کہ یہاں معاملہ انسانی جان کا ہے، جس کی حرمت تمام انسانیت کی جان کے برابر ہے۔ اس کی جان ہم خدا کے حکم اور اس کے اصولوں کے بغیر کیسے لے سکتے ہیں؟ طاقت و اقتدار کی طاقت کے نشے میں چور وہ ظالم جو سیاسی اورمذہبی رہنماؤں  کی برین واشنگ کے شکار انسانوں کی جان لیتے ہیں، وہ تو ظالم ہیں ہی، لیکن درحقیقت یہ سیاسی اور مذہبی رہنما ہی ہیں جو اپنے کارکنون کا پیروکاروں کے پہلے اور حقیقی قاتل ہیں۔

انسانی جان کی ارزانی کی حالت دیکھیے کہ کبھی ایک انچ زمین کو بچانے کے لیے انسانی خون پانی کی طرح بہا دیا جاتا ہے، اور پھر معلوم ہوتا ہے کہ حاکم نے اپنے ایک دستخط سے زمین کا وہ ٹکڑا خود ہی دشمن کے حوالے کر دیا! ہمارے ہاں ایک مذہبی رہنما کے گھر کے آگے لگی رکاوٹیں ہٹانے پر ان کے پیروکاروں نے اپنی جانیں وار دیں تھیں۔ بعد میں وہ رکاوٹیں عدالتی حکم پر ہٹا دی گئیں۔  پھر ان مظلوموں کا مقدمہ لڑنے کے لیے پورا ملک کئی بار یرغمال بنایا گیا، لیکن ایک بار بھی اس رہنما یا کسی اور کی زبان پر یہ نہیں آیا کہ رکاوٹیں ہٹانا غلط تھا یا درست، یہ بتاؤ کہ کیا یہ اتنی بڑی بات تھی کہ انسان مروا دیے جاتے؟ ذرا ذرا سی بات پر ایسی جانثاری کی تربیت دینے والا رہنما درحقیقت ان مقتولین کا پہلا قاتل ہے۔ ندامت درکنار، بغیر حکومت کے انسانوں پر ایسا اختیار پانا، وہ سرشاری ہے کہ وہ بار بار اپنے پیروکاروں کو مروانا چاہے گا۔درحقیقت، ایسے رہنما چاہے مذہبی پیشوا ہوں یا ہٹلر کی طرح کے ڈکٹیٹر، ایک ہی نفسیات کے حامل ہوتے ہیں، اپنے ادنی اشارے پر جانیں قربان ہوتے دیکھنا ایک لطف ہے، جس کی لت پڑ جاتی ہے ان رہنماؤں کو۔

ہمارے ہاں ایک سیاسی پارٹی کے سربراہ نے اسلام آبادمیں ایک احتجاجی دھرنے کے دوران ایک چوک سے دوسرے چوک تک جانے کی ضد میں اپنے کارکنوں کو بے دریغ مروایا تھا، لیکن پھر یہ سوچ کر کہ نہیں پہلے والی جگہ ہی ٹھیک تھی واپس اسی جگہ آ گئے اور پھر دھرنے ہی سے واپس آگئے۔ اب وہ انسانی جانیں جو پارٹی سربراہ کے تخیل کی بھینٹ چڑھیں، ان کا کیا ہوا؟ ان کا رائیگاں خون کس کے سر ہے؟ یہ سوال کبھی اٹھتا ہی نہیں۔ انھیں شہید قرار دے کر دامن جھاڑ کر پھر ایک نئی مہم جوئی شروع ہو جاتی ہے پھر خون کے نذرانے مانگے جاتے ہیں۔ کارکنو ں کا ہر بار وہ حال ہوتا ہے کہ

آواز دے کے چھپ گئی ہر بار زندگی

ہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آگئے

حکومتی اشاروں پران گولی چلانے والوں کی درندگی میں تو کوئی شبہ نہیں ان کی مذمت تو مشرق سے لے کر مغرب تک سب  کرتے ہیں، لیکن اپنے جانثاروں کو ایسی بے جا جانثاری کی تربیت دینے والے انسانوں کے پہلے قاتل ہیں۔

کسی رہنما کو اگر کہا جاتا ہے کہ سیکیورٹی کے خطرات ہیں، جلسہ نہ کیجیے، تو یہ لوگ اپنے لیے سیکیورٹی کے مکمل انتظامات کر لینے کے بعد اپنے پیروکاروں کا لہو گرماتے ہیں کہ چاہے کچھ بھی ہو، جلسہ ہو کر رہے گا۔ پھر جب کوئی دھماکا یا فائرنگ وغیرہ ہو جاتی ہے تو ان کی سیاست مزید چمک اٹھتی ہے، حکمرانوں کے خوب لتے لیے جاتے ہیں لیکن کہیں ایک بار بھی کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ یہ جلسہ نہ ہوتا یا موخر ہو جاتا تو کیا ہو جاتا؟  کیا آپ پر بزدلی کا الزام لگ جاتا؟ مگر یہ بہادری تو آپ نے اپنے کارکنوں کے عدم تحفظ کی بل بوتے پر دکھائی ہے۔ آپ تو مقدور بھر محفوظ رہنے کو کوشش کرتے رہے۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ یہ جلسہ انسانی جان سے بڑا کیوں تھا؟ یہی سوال نہ پوچھنے کی بنا پر انسانی جانوں کی پروا کیے بغیر بڑی بڑی تحریکیں برپا کر دی جاتی ہیں اور لوگ مروا کر بجائے شرمندگی کے فخر کیا جاتا ہے۔

اسلامی تاریخ میں میرے محدود مطالعے میں دو  ایسے بے مثال کردار ہیں جن کے ہاں انسانی جان کے تقدس کا احساس، جو خدا کی کتاب اور انسان کی فطرت میں پایا جاتا ہے،  بہت نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے، وہ دو لوگ حضرت حسن اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنھما ہیں۔ حضرت حسن، عہدِ علی رضی اللہ عنہ سے جاری جنگوں کے نتائج دیکھ چکے تھے، اپنے عہدِ حکومت میں انھیں اپنی اور اپنے مخالف کی قوت کا اندازہ بھی ہو گیا تھا۔ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ اقتدار ہمیشہ طاقت ور کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ پہلے ادوار میں یہ اقتدار زیادہ جنگی طاقت رکھنے والے حاصل کر لیا کرتے تھے ،اور اب جمہوریت کے دور میں بھی یہ وہی حاصل کرتے ہیں جن کے پاس ووٹ کی زیادہ طاقت ہوتی ہے، یعنی اصول اب بھی وہی ہے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے دستیاب حالات میں اقتدار پر طاقت ور کے ناگزیر حق حکمرانی کو تسلیم کیا۔ بے فائدہ جنگ کرنے کو عبث جانا۔ جو نتیجہ لڑ کر نکلنا تھا وہ انھوں نے بغیر لڑے ہو جانے دیا۔ لیکن اس برتر بصیرت کو آج بھی کم لوگ سمجھتے ہیں چہ جائیکہ اس وقت ان کے پیروکار سمجھ پاتے کہ حضرت حسن نے ان کی جانوں کو بے مقصد کشت وخون سے بچایا ہے۔ لیکن اقتدار کے ہوس میں انسانی جانوں کی پامالی کو عام سی بات سمجھنے والے عراقیوں نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اس پر ذلیل کیا، مسجد میں ان کے پاوں کے نیچے سے مصلی نماز کھینچ لیا، برا بھلا کہا۔ مگر حضرت حسن نے ان نا سمجھوں کو کوئی جواب نہ دیا۔ یہ برتر شعور و بصیرت ہر کسی کا نصیب کہاں تھا۔

حضرت حسن کا فیصلہ تو طاقت و کمزوری کے درست مطالعہ کے بعد درست فیصلہ تھا، حضرت عثمان کا معاملہ تو اس سے بھی آگے کا ہے۔ پوری انسانی تاریخ میں انسانی جان کی عظمت و احساس کی اس سے بڑھ کر کوئی مثال ملنا میرا خیال ہے کہ مشکل ہے۔ خلیفہ وقت نے، تمام طاقت کا اختیار رکھتے ہوئے بھی چند باغیوں کے ہاتھوں محض اس لیے اپنی جان دینا گوارا کر لیا کہ اپنی ذات کا تحفظ و بقا ان کے لیے اتنا اہم نہیں تھا کہ وہ اس کے لیے انسانی خون بہانے کی اجازت دے دیتے۔ یہ ہابیل کی سرشت تھی۔ ہابیل جانتا تھا کہ قابیل اسے قتل کر دے گا، قابیل کھلی دھمکی دے چکا تھا۔ ہابیل نے اپنے دفاع کی مقدور بھر کوشش کی ہوگی، مگر حفظ ماتقدم کے طور پر بھی اس نے آگے بڑھ کر قابیل کو قتل نہیں کیا اور خود قتل وہ گیا۔ حضرت عثمان مذاکرات سے زیادہ اپنے دفاع کے لیے کوئی جنگی اقدام نہیں کیا۔ اور طاقت رکھتے ہوئے بھی مظلومانہ قتل ہو جانا گوارا کر لیا مگر اپنی جان کو اتنا قیمتی سمجھا نہ ایسا  بنا کر پیش کیا اور نہ لوگوں کو ابھارا کہ ان کی حفاظت ک لیے وہ اپنی جانیں لٹا دیں، اگرچہ لوگ ایسا کرنے کے لیے بے تاب تھے، مگر آپ نے اجازت نہ دی، اور یہاں ایک عام سا لیڈر اپنے ہم وطن، ہم قوم پیروکارں اور کارکنوں کو اپنی جان کے لیے یا اپنے مذہبی یا سیاسی ایجنڈے کے لیے جانیں قربان کرانا گویا شرط وفاداری سمجھتا ہے۔ حضرت عثمانی غنی رضی اللہ عنہ کا انسانی جان کی حرمت کے پاس کا یہ فقید المثال مظاہرہ انسانیت کے ماتھے کا وہ جھومر ہے جس پر خالق کائنات کو بھی فخر ہوگا۔ اس آئینے میں ہر چھوٹے موٹے افسر  سے لے کر بڑے  سے بڑے رہنما کا کردار ناپیے جو اپنی بے مقصد قسم کی جان کی حفاظت اور اپنے نام نہاد سیاسی اور مذہبی ایجنڈوں کے لیے انسانی جانیں ضائع کرانے پر تیار رہتے ہیں، اور جب وہ  ضائع ہو جاتی ہیں تو ان کے قتل کو قابل فخر قربانیاں بنا دیتے ہیں اور یوں مسلسل قتل انسانی کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔

ہم دنیا میں زندہ رہنے کے لیے آئے ہیں۔ مرنا مجبوری یا ناگریر تقاضے کے بنا روا نہیں۔ شہادت اتنا سستا منصب نہیں کہ ہر بے شعور قربانی کو اس کا مستحق قرار دے دیا جائے۔ انسان کی قدر کیجیے۔

About ڈاکٹر عرفان شہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *