Home / شمارہ اگست 2018 / شمارہ جولائی 2018 / انسانی ذہن اور وجود الٰہی

انسانی ذہن اور وجود الٰہی

تحریر:ڈاکٹر محمد عقیل

دنیا کے تمام مذاہب میں خدا کا تصور موجود ہے۔ خدا سے تعلق قائم کرنے کے لیے عبادت کی جاتی ہے۔ اگر مشرکانہ  مذاہب کی عبادت کو دیکھا جائے تو وہ خدا کا بت، تصویر یا پتلا سامنے رکھ کر اسے خدا سمجھتے ہیں اور یہ تمام مراسم عبودیت ادا کرتے ہیں۔ اس سے اگلا درجہ مراقبے کا ہے۔اس میں خدا کو سامنے تو نہیں رکھا جاتا البتہ اس کے کسی تصور کو فوکس کرکے اس سے تعلق قائم کیا جاتا ہے۔ یہ تصور کسی بت کا بھی ہوسکتا ہے اور کسی  اور شے کا بھی۔

اس کے بعد  یہودیت، عیسائیت اور اسلام آتے ہیں۔ عیسائیت میں حضرت عیسی و مریم علیہما السلام کے مجسمے سامنے رکھ کر ان سے قربت کا اظہار کیا جاتا اور خدا کے نزولی تصور کو اپنی سوچوں میں بسایا جاتا ہے۔ یہودیت و اسلام میں بت پرستی کی اجازت نہیں۔ البتہ دونوں مذاہب  میں بھی  تجسیم اور علامات کو بہت اہمیت  حاصل ہے۔  مثال کے طور پر  یہودیت  میں ماضی میں تابوت سکینہ کو سامنے رکھ کر عبادت کی جاتی  اور  آگ جلائی جاتی تھی جبکہ حال میں یہی اہمیت دیوار گریہ کو حاصل ہے۔

 دوسری جانب  اسلام میں  بھی   ایسے شعائر یا علامات  موجود ہیں جن کو  مذہبی تقدس   حاصل ہے۔ مثال کے طور پر خانہ کعبہ کو  خدا کے گھر اور حجر اسود کو  خدا کے ہاتھ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ صفا و مروہ، منی عرفات، مزدلفہ، قرآن پاک  اور عام مساجد  بھی شعائر یعنی اللہ کی نشانیوں میں شامل ہیں اور ان کی تعظیم کا حکم ہے۔

ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں ماضی کے مذاہب میں ہر دوسرا مذہب بتوں کی شکل میں تجسیم کا قائل رہا؟ اور ایسا کیوں ہوا کہ اسلام نے بھی بت پرستی کے خاتمے کے باوجود ایک پتھر کی عمارت(خانہ کعبہ )  کی جانب سجدہ کرنے ،  اور ایک پتھر(حجر اسود) کو چومنے  یا اس کو خدا کا ہاتھ تعبیر کرنے کا حکم دیا؟  یا صفا مروہ کی پہاڑیوں کو مذہبی تقدس دیا  ۔اسی طرح قرآن میں جگہ جگہ خدا کی نشانیوں پر غور کرنے کا حکم ہے جن میں زمین، چاند ، سورج ، ستارے، پہاڑ، دریا ، سمندر ، چرند پرند اور دیگر مخلوقات موجود ہیں؟ اس کا جواب ہمیں جدید سائنس سے ملتا ہے۔

جدید سائنس  ہمیں یہ بتاتی ہے  کہ ہمارے دماغ کے دو حصے ہیں ایک دایاں یا رائٹ برین اور دوسرا بایاں یا لیفٹ برین۔ رائٹ  برین جذبات ، تصورات  اور خیالات کا حصہ ہے جبکہ لیفٹ برین لاجک اور  حساب کتاب  کا حصہ ہے۔ دونوں حصوں کا کام  کرنے کا طریقہ کار مختلف ہے۔ رائٹ برین جس زبان  کو سمجھتا ہے وہ تصویر، علامات  اور رنگوں کی زبان ہے جبکہ لیفٹ برین  الفاظ  اور جملوں پر مشتمل کسی زبان جیسے  انگلش یا اردو کو سمجھتا ہے۔ رائٹ برین   ہمیں روحانی دنیا کے قریب کرتا  ہے جبکہ لیفٹ برین ہمیں مادی دنیا کے قریب کرتا ہے۔

اس بات کو مد نظر رکھ کر ہم دوبارہ اسی سوال  کی جانب آتے ہیں۔آخر کیوں ماضی  اور حال کے مذاہب بشمول   اسلام نے تجسیم کو کسی نہ کسی صورت میں بحال رکھا۔ اس کا جواب  مائنڈ سائنسز کی روشنی میں بہت سادہ ہے۔  اس  معاملے کو ہم خواب کی نوعیت سے سمجھتے ہیں۔

ہم جو خواب دیکھتے ہیں تو یہ ہمارے رائٹ برین ہی کے متحرک ہونے کی بنا  پر  نظر آتا ہے۔ لیکن آپ پورے خواب میں دیکھ لیں  وہاں کوئی بات چیت نہیں ہوتی ، پھر بھی ہم  ٹیلی پیتھی کے ذریعے بات سمجھ جاتے ہیں ۔ وہاں صرف امیجز یعنی تصاویر ہوتی ہیں جیسے ہمارے کسی گذرے  ہوئے بزرگ کی شبیہ ۔ وہاں   رنگ ہوتے ہیں  جیسے فجر جیسا اجالا، دھند، بے حد اندھیرا وغیرہ۔ وہاں علامات  ہوتی ہیں جیسے سانپ پہاڑ ، دریا وغیرہ ۔ وہاں  فیلنگز یعنی احساسات ہوتے ہیں جیسے شدید پیا س لگنا،سانس رکنا،خوف کھانا،  درد محسوس کرنا وغیر۔اس دنیا  میں ہر تصویر، شبیہ ، رنگ اور علامت کی اپنی ایک تعبیر ہے۔

خواب ایک روحانی دنیا کی سرگرمی ہے۔  چنانچہ  روحانی دنیا  سے کنکٹ ہونے کے لیے ہمیں اپنے رائٹ   برین  کو متحرک کرنا لازمی ہے۔ لیکن  مسئلہ یہ ہے کہ یہ برین  زبان کو نہیں سمجھتا۔چونکہ مذہب انسان کو مادی دنیا  سے اوپر اٹھا کر  روحانی دنیا   سے کنکٹ کرنا چاہتا ہے اسی لیے مذہب میں علامات کا استعمال ہوتا ہے۔ تمام  مذاہب  اس برین  کو متحرک کرنے کے لیے علامات ، شبیہ اور تصاویر کا سہارا لیتے ہیں۔ اگر ہم بت پرستی  کو چھوڑ کر صرف اسلام ہی کی بات کرلیں جو جونہی حج  کا تصور ہمارے ذہن میں آتا ہے  تو بالعمو م خانہ کعبہ ہمارے تصور میں آجاتا ہے۔ اسی طرح  جب ہم لفظ ” اللہ ” بولتے ہیں تو  یہ چار حروف یعنی الف، لام، لام  اور ہ ڈھل کر کسی بزرگ شخصیت کا تصور بن جاتے ہیں۔اسی لیے تمام مذاہب بشمول اسلام میں علامات کو بہت اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہی علامات رائٹ برین کی تحریک کا سبب بنتی  اور انسان کو روحانی دنیا سے منسلک کرتی ہیں۔

لیکن  ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مذہب میں تو مخصوص زبان کے ذریعے کچھ کلمات پڑھے جاتے ہیں۔ جیسے اسلام میں نماز  میں سورہ فاتحہ، قرآن اور دیگر تسبیحات پڑھی جاتی ہیں۔ اسی طرح ہندو مذہب  میں سنسکرت کے منتر، یہودیت و عیسائیت میں عبرانی کی حمد زبان ہی سے پڑھی جاتی ہے۔  اور ہم نے جانا کہ زبان کا تعلق تو لیفٹ برین سے ہے۔  اس کا جواب بہت آسان  ہے۔

ہم جب زبان سے کسی مخصوص مقدس کتاب کے الفاظ ادا کرتے ہیں تو اس سے پہلے ہمارا لیفٹ برین متحرک ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ ہم کلمہ طیبہ کا ورد کرکے یا سورہ فاتحہ سے خدا کی حمد و ثنا کرکے اور اس سے مددو نصرت مانگ کر لاجک اور منطق کی سطح پر  اپنے آپ کو یہ باور کراتے ہیں  ہم خدا کے غلام ہیں، ہم اس کے بندے ہیں اور وہ آقا، ہم عبد ہیں اور وہ معبود۔

البتہ یہ تعلق بہت ابتدائی سطح کا  عقلی تعلق ہے ۔ ابھی اس تعلق کی جڑیں دل میں پیوست نہیں ہوئیں، ابھی یہ  تعلق اتنا مضبوط نہیں کہ انسان اس  منطقی خدا کے لیے اپنا تن من دھن لگادے۔ اس ابتدائی  تعلق کو اسلام کی اصطلاح میں  محض تسلیم کرلینا اور مان لینا یا اسلام قبول کرلینا کہا گیا ہے جس کی تفصیل سورہ حجرات میں موجود ہے۔

اگلا مرحلہ اس منطقی  اور زبانی اسلام کو ایک یقین اور ایک تحریک میں بدلنے کا ہے تاکہ اس منطقی تعلق کو جذبات ، محبت  اور روحانیت کی سطح پر کنورٹ کیا جاسکے۔ اس کو ایمان  یا یقین کہتے ہیں۔اس  مقصد کے  لیےرائٹ  برین کو متحرک کرنا لازم ہے۔ چنانچہ اب  الفاظ کے پیچھے چھپے تصورا ت کو نمایاں کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ا س تجسیم  میں اولین حیثیت خانہ کعبہ کو حاصل ہے۔ اب یہ سیاہ پوش   مکعب  محض ایک کمرہ نہیں بلکہ اسے خدا کے گھر کا تقدس حاصل ہے۔اب حجر اسود خدا کے ہاتھ  کا نعم البدل ہے جس میں  ہاتھ دے کر انسان خدا سے بیعت کرتا ہے۔اب صفا مرو ہ محض پہاڑیاں نہیں بلکہ خدا کی یاد میں دوڑنے کا مقام ہے۔  اب مسجد محض ایک عمارت نہیں بلکہ خدا  کے گھر کی حیثیت کی حامل  ہے۔

یہ تجسیم محض  مذہبی مقامات تک محدود نہیں بلکہ قرآن نے اسے پوری کائنات تک وسعت دی ہے اور کائناتی مظاہر کو خدا کی نشانیاں  یا علامات کہا ہے۔ چنانچہ ہرے بھرے درخت خدا کی ربوبیت کا مظہر ہیں، اب سورج  کی روشنی  خدا کی صفت نور کی علامت ہے، اب بارش کی بوندیں خدا کی صفت رحم کو ظاہر کرتی ہیں، اب بلند و بالا پہاڑ خدا کے جلال و قدرت کی نشانی ہیں اور اب بے کراں سمندر خدا کی لامحدودیت کو ظاہر کرتا ہے۔

اب بات بہت سادہ ہوگئی ہے۔ کسی بھی مذہب بالخصوص اسلام کی ابتدا زبان سے چند کلمات ادا کرنے سے ہوتی ہے  جسے ہم اسلام کو زبان سے قبول کرنا  کہتے ہیں۔ یہ کلمات ہمارے لیفٹ برین یا لاجکل  برین کو یہ باور کراتے ہیں کہ ہم کسی معاہدے کے تحت ہیں اور کسی کے غلام ہیں۔ اس کے بعد  ان الفاظ کے پیچھے موجود تصورات   ہمارے ذہن ، دل اور دماغ میں راسخ ہوجاتے ہیں تو یہ رائٹ برین کی تحریک کا وقت ہوتا ہے۔ اب ہم اس منطقی  تعلق کو جذبات اور محبت میں ڈھال کر اس قابل  ہوجاتے ہیں کہ اسلام کی عقلی قبولیت  کو ایمان   و یقین  میں بدل سکیں۔ غور سے دیکھا جائے تو حقیقی مومن اس وقت حقیقی بنے جب انہوں نے اپنے دعوہ ایمان  کو زبان سمجھنے والے لیفٹ برین سے   اٹھا کر  رائٹ برین تک پہنچادیا۔

 اسی گفتگو سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ دین سے متعلق ہونے والے افراد کو  تین حصوں میں منقسم کیا جاسکتا ہے۔ ایک وہ جن کا رائٹ برین زیادہ ایکٹو ہے ، دوسرے وہ جن کا لیفٹ برین زیادہ ایکٹو ہے اور تیسرے وہ جن کا معاملہ بیلنس کا ہے۔

جن کا  لیفٹ برین زیادہ ایکٹو ہوتا ہے  وہ لوگ اسلام لانے کے باوجود خدا سے ایک  منطقی تعلق ہی قائم رکھ پاتے ہیں ۔ ان کی مثال  مسلمانوں میں ان  فقہا کی ہے جو ہر چیز کو ظاہر کی آنکھ سے دیکھتے اور اسے منطق، فقہ  اور ظاہری قانون  کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس معاملے میں جب یہ ایک حد سے گذرتے ہیں تو  باطنی تطہیر کو چھوڑ کر محض  شریعت  کے ظاہری اعمال ہی کو فوکس میں رکھنے پر تل جاتے ہیں۔

 دوسری جانب جن کا  رائٹ  برین زیادہ متحرک ہوتا ہے  وہ جذبات و احساسات  کو فوقیت دیتے اور خدا سے  ایک محبت و عشق کا تعلق قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔  یہ لوگ جب اس تحریک میں حد سے گذرتے ہیں تو شریعت کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور محض جذبات و احساسات  ہی کو اپنا محور و مرکز بنالیتے ہیں۔  مسلمانوں میں یہ گروہ صوفیا کا رہا ہے۔

لیکن دیکھا جائے تو انسان  کا برین رائٹ اور لیفٹ دونوں کا مجموعہ ہے اور کسی ایک جانب جھکاؤ اس کی شخصیت میں عدم تواز ن پیدا

کرسکتا ہے۔  اس لیے  خدا سے تعلق میں عقل و خرد کی اپنی اہمیت ہے اور محبت  و جذبات کی اپنی  اہمیت ۔ چنانچہ تیسری قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو رائٹ اور لیفٹ برین میں تواز ن قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے  خدا سے تعلق تو دیکھیں تو وہ نہ تو عقلی مقدمات سے عاری تھا اور نہ ہی جذبات و کیفیات سے آزاد۔ وہ عقل و محبت کا ایک حسین امتزاج تھا۔ ایک  جانب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے ذریعے خدا کے وجود کے عقلی دلائل دیتے نظر آتے ہیں تو دوسری جانب آپ خدا کی محبت میں   اپنا مال، اپنا آرام و آسائش، اپنی فیملی لائف سب قربان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

حاصل کلام یہ ہے کہ   مذہب عقل اور محبت دونوں کا ایک حسین امتزاج ہے۔ اگر اس میں لیفٹ برین یعنی منطق و عقل ہی کو اہمیت دے دی جائے گی تو یہ یہیودیت کی طرح  خشک احکامات  مجموعہ بن کر رہ جائے گا۔ اور اگر اس میں  رائٹ برین یعنی محبت و عشق ہی کو فوکس کیا جائے  گا تو شریعت کی جگہ  رہبانیت لے لے گی جس میں عقل دشمنی میں کسی بھی نامعقول حد  کو کراس کرنے کو دین سمجھ لیا جائے گا۔  حق یہی ہے کہ رائٹ اور لیفٹ برین کو بوقت ضرورت متحرک بھی کیا جائے او ر بیدار بھی رکھا جائے ۔

About ڈاکٹر محمد عقیل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *