Home / شمارہ اگست 2018 / شمارہ جولائی 2018 / انسانی زندگی اور دیمک

انسانی زندگی اور دیمک

تحریر:ریاض علی خٹک

دیمک ایک چھوٹا کیڑا ہے۔ انگریزی میں اسے Termite کہتے ہیں۔ دیمک کی دنیا عجیب و غریب ہے۔ بظاہر ہم انسان ان کو پسند نہیں کرتے کیونکہ گھر میں جس چیز کو دیمک لگے اس کا ستیاناس ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ہم غموں کو بھی دیمک سے تشبیہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں غم دیمک کی طرح عمر کو کھا جاتا ہے۔ لیکن یہ دیمک فطرت کی ری سائیکلنگ کی دنیا کا شاندار مزدور ہے۔

دیمک شہد کی مکھیوں کی طرح ایک بہت ڈسپلنڈ کالونی ہوتی ہے۔ اس میں ملکہ بادشاہ سپاہی اور مزدور ہوتے ہیں۔ بچوں کی پیدائش و پرورش مکمل بادشاہ اور ملکہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ نئی ملکہ اور بادشاہ کے پر ہوتے ہیں یہ اڑ کر دوسری جگہ اپنی کالونی شروع کرتے ہیں۔ بہرحال ہمارا موضوع دیمک نہیں دیمک کے مزدور اور سپاہی دیمک ہیں۔

مزدور اور سپاہی دیمک چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں۔ ان کی زندگی اسی کام میں گزرتی ہے۔ اور ان کا کام اندھیرے کا ہے۔ یہ سب پیدائش کے بعد سے ہی اندھے ہو جاتے ہیں۔ ان اندھیری سرنگوں میں ان کو آنکھوں کی ضرورت ہی نہیں ہوتی اس لئے آنکھیں ہوتے بھی یہ اندھے ہوتے ہیں۔ ان اندھوں کی ایک اور بہت عجیب عادت ہے۔ انگریزی میں اسے Trophallaxis کہتے ہیں۔ کافی مہذب سے اس نام کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے کا پاخانہ کھاتے ہیں۔

ہم انسانوں کی محدود عمر کو بھی دیمک کھا رہی ہوتی ہے۔ ہر گزرتا دن اس شجر حیات کو بوسیدہ کر رہا ہوتا ہے۔ ہم زندگی کے مزدور اس کی اندھی سرنگوں میں اتر کر شعور کو اندھا کر دیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ واپس بھی جانا ہے۔ دیمک تو دوسرے دیمک کا پاخانہ کھاتے ہیں شعور کا اندھا انسان انسانیت کھانے کے درپے ہو جاتا ہے۔ آج ہمارے شہر جل رہے ہیں۔ ملک جل رہے ہیں۔ رشتے ٹوٹ رہے ہیں۔ انسان دوسرے انسان کی وجہ سے رو رہا ہے۔ کیونکہ انسانیت کے شعور کو دیمک لگا ہوا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل آیت 70 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

” اور بلاشبہ ہم نے بنی آدم کو عزت دی ہے۔ اور ہم نے انہیں خشکی اور دریا دونوں میں سوار کیا۔ اور ہم نے ان کو نفیس چیزیں عطا کیں۔ اور ہم نے ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر بڑی فضیلت دی ہے۔”

ایک دوسرے کی زندگی کا دیمک نہ بنو۔ ایک دوسرے کو عزت دو محبت و احترام دو۔ کیونکہ دیمک زدہ واپس اپنی شکل نہیں پا سکتا۔

مذہب کے نام پر جنسی استحصال

 تحریر: ڈاکٹر محمد عقیل

جنسی معاملات میں پتا ہے سب سے زیادہ کرپشن کس شعبے میں ہوئی ہے؟ پروفیسر نے پوچھا۔
کسی نے کچھ بتایا کسی نے کچھ۔لیکن جو کچھ پروفیسر نے بتایا وہ سب کو چونکادینے کے لیے کافی تھا۔
مذہب، یہ مذہبی لوگ ہیں جو کبھی پادری، کبھی پنڈت ،کبھی پیر کبھی مرشد اور کبھی مولوی کا لبادہ اوڑھ کر آئے اور لوگوں کو اپنی پاک بازی کا یقین دلا کر ان کا اعتماد حاصل کیا اور اس کے بعد وہ کچھ کیا جو وہ عام انسان کے طور پر نہیں کرسکتے تھے۔
لیکن سر، آج تو میڈیا کا دور ہے، جو کوئی یہ سب کرتا ہے وہ تو بآسانی پکڑ میں آجاتا ہے۔ ایک شاگرد نے ہوچھا۔
یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔مذہب کا نام استعمال کرکے دھوکا دینے والے لوگ بھی کم تعلیم یافتہ نہیں۔یہ آج سوشل میڈیا اور دیگر کمیونیکیشن کے ذرائع سے خوب واقف ہیں۔فیس بک پر کتنے ہی لوگ ہیں جنہیں مذہب کی الف ب کا علم نہیں اور وہ مینٹور بن کر معصوم خواتین کو دین کے نام پر ورغلانے ہیں۔کبھی یہ منہ بولے بھائی بنتے تو کبھی مرشد و،معلم بن کر معصوم بچیوں کا قرب حاصل کرتے اور مذہب کو بدنام کرتے ہیں۔
سر پھر ہم لڑکیاں کیا کریں؟
ہر صورت میں تنہائی میں بات کرنے اے گریز کیا جائے۔ اگر بات کرنا لازمی تو والدین، بہن بھائی یا کسی ہم جنس دوست کو گواہ میں رکھ کر مشاورت کی جائے؛ اور جونہی مرشد کسی تنہائی یا رازداری کا مطالبہ کرے، اس سے انکار کردیا جائے۔

About ریاض علی خٹک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *