Home / شمارہ اپریل 2017 / انسان کو پہچاننے کا اصول

انسان کو پہچاننے کا اصول

 انسان کو پہچاننا ایک مشکل امر ہے، پہر وہ انسان کوئی دوسرا ہو یا خود ہماری ذات۔ کسی انسان کے ساتھ درست معاملہ کرنے کے لیے اسے جاننا بہت ضروری ہے ورنہ انسان دوسرے انسان سے دھوکہ کہا سکتا ہے۔ یہی دہوکہ ہم خود اپنے آپ سے بھی کہاتے ہیں جب خود کو پہچانتے نہیں۔ سورہ الحج آیت 73 میں ہمیں خود کو یا دوسرے انسان کو پہچاننے کا ایک اصول ملتا ہے۔ یہاں معبودان باطل کی بےبسی بیان کرنے کے بعد اللہ تعالی فرماتے ہیں “ضعف الطالب و المطلوب” ترجمہ : ” کس قدر کمزور ہے طالب بھی اور مطلوب بھی!”۔ جس سے یہ اصول نکلتا ہے کہ انسان اپنے مقصد، آئیڈیل، اور انتخاب سے پہچانا جاتا ہے، کسی انسان کی شخصیت بظاہر کچھ بھی ہو مگر اس کی اصل حقیقت اس کے انتخاب سے ظاہر ہوتی ہے۔ ایک کمزور و پست کردار کا حامل انسان گھٹیا مقصد رکہتا ہوگا اور گھٹیا پسند کا مالک ہوگا۔ جبکہ مضبوط و اعلی کردار اور شخصیت کا حامل، اونچے مقاصد اور نفیس پسند کا مالک ہوگا۔ ہماری لائبریری میں کس طرح کی کتب ہیں، ہم اکثر کس قسم کے مواد کا مطالعہ کرتے ہیں، ہم کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں، ہم کیسے دوست بناتے ہیں، ہم کیا کرتے ہیں اور کیا نہیں کرتے، ہم دو چیزوں اور دو کاموں میں، اسی طرح دو مختلف راستوں میں، دو نظریات میں کس کو اختیار کرتے ہیں اور کس کوچھوڑ دیتے ہیں یہ سب ہماری شخصیت، ہماری سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ممکن ہے ہم اپنے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہوں۔ ہم خود کو کچھ سمجھتے ہوں جبکہ ہماری اصلیت کچھ اور ہو۔ خود کو اور دوسروں کو پہچاننے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی شب و روز کی مصروفیات، پسند نا پسند، مقاصد کا جائزہ لیا جائے۔ اور یہی نہیں بلکہ مقصود، آئیڈیل اور انتخاب بھی اپنے طالب یعنی اپنے چاہنے والے سے پہچانا جاتا ہے۔ جس آئیڈیل کا طالب پست کردار کا حامل ہو وہ آئیڈیل بھی پست ہوگا، مثلا اللہ کے نزدیک دنیا کی وقعت مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے، جبکہ اللہ کی آیات سب سے قیمتی اور بہتر ہیں اسی لیے دنیا جیسی بے وقعت شے کے حریص و طالب کو، جو دنیا اور اللہ کی آیات میں سے دنیا کو منتخب کرتا ہے اس کی مثال سورہ الاعراف آیت(176)میں کتے کی مثال کی طرح قرار دی گئی۔ اسی طرح ایک شخص نے سورہ الاخلاص سے محبت کا اظہار کیا، تو نبی ص نے اسے اللہ کی محبت کی خوشخبری دی (مفہوم حدیث) کیونکہ اس کی پسند و محبت اس کی سوچ کی سطح کو ظاہر کر رہی تہی کہ وہ اللہ سے محبت رکھتا ہے۔ ایسی کئی مثالیں ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور بہت بڑی حقیقت یہ ہے کہ انسان جو راستہ، دوست یا آئیڈیل منتخب کرتا ہے، اسی کےمطابق اس کا مستقبل ہوتا ہے۔ یعنی ہم کسی حد تک اپنی عادات،پسند ناپسند، آئیڈیل مقاصد یا دوستوں کو مد نظر رکہ کر اپنے یا دوسروں کے مستقبل کے بارے میں اندازہ کر سکتے ہیں۔ خود کو پہچانیں کیونکہ خود کو صحیح طرح جانے بغیر اپنے اندر مثبت تبدیلی لانا ممکن نہیں، اور اسی اصول پر دوسروں کو پرکہیں تاکہ شر سے محفوظ رہیں۔ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔ اگر اپنا حال و مستقبل اچھا بنانا چاہتے ہیں تو اپنا انتخاب اعلیٰ بنائیں، جو یقینا آپ کی سوچ کا مرہون منت ہے۔ اپنی عادات و کردار کو مثبت رخ پر ڈالیں۔ اس شہد کی مکھی کی طرح جو ہوتی تو مکھی ہی ہے مگر اپنے پھولوں کے نفیس انتخاب کی وجہ سے دنیا کے لیے بےحد مفید مشروب تیار کرتی ہے۔ اور اس کی اسی افادیت کے پیش نظر اسلام میں اسے مارنے سے منع کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ اصول ہے کہ بقا اسی کو نصیب ہوتی ہے جو فائدہ مند ہو۔ جبکہ عام مکھی اپنے پست ذوق کی وجہ سے گندگی پر بیٹھتی ہے اور پھر اسی انتخاب کی وجہ سے جراثیم اور بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔ اور اسی سبب اس مکھی کی کوئی وقعت نہیں۔

About حِنا تحسین طالب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *