Home / شمارہ اکتوبر 2017 / انسان کے دو پیٹ – جسمانی وروحانی

انسان کے دو پیٹ – جسمانی وروحانی

دو ساتھی کہیں سفر پر جا رہے تھے۔راستے میں انہیں سخت بھوک لگ گئی۔کھانے کی تلاش میں وہ ایک نانبائی کی دکان میں داخل ہوئے۔نانبائی ان کے لیے روٹی پکانے لگا۔ جب روٹی تیار ہوتی تو ان دو بھوکے ساتھیوں میں سے ایک روٹی جھپٹ کر کھا لیتا  جبکہ دوسرا ساتھی اپنا لعاب نگل کر بھوک کی شکایت کرنے لگتا۔ روٹی کھانے والا ساتھی اسے تسلی دے کر کہتا کہ میرے کھانے سے آپ کی بھوک مٹ جائے گی۔یہ سلسلہ جاری رہا حتیٰ کہ ایک ساتھی بھوک سے مر گیا اور دوسرا  زیادہ کھانے سے۔

مندرجہ بالا واقعہ دراصل انسان کی مثال ہے جس میں ایک ساتھی اس کا جسم اور دوسرا ساتھی اس کی روح ہے۔انسان جسم اور روح سے مل کر بنا ہے۔جسم کا تعلق ظاہرسے جبکہ روح کا تعلق باطن سے ہے۔جس طرح انسانی جسم کو زندہ ،صحت مند اور توانا رکھنے کے لیےخوراک کی ضرورت ہے اسی طرح روح کو تروتازہ  اور خوشحال رکھنے کے لیے بھی خواراک کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن جسم اور روح کی خوراک الگ الگ ہے۔دونوں ایک قسم کی خوراک سے سیر نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ایک کی خوراک سے دوسرے کی بھوک مٹتی ہے جس طرح ایک ساتھی کے کھانا کھا لینے سے دوسرےکی بھوک نہیں مٹ سکتی۔

پس ہر انسان کے دو  پیٹ ہوتے ہیں ایک جسمانی اور دوسرا روحانی  اور دونوں کی خوراک کا بندوبست کرنا ضروری ہے۔تاکہ دونوں سیر رہیں بلکہ جسمانی پیٹ سے زیادہ روحانی پیٹ  کو بھرنے کی فکر کرے۔

جب ہمیں بھوک محسوس ہوتی ہے تو کھانے کے حصول کے لیے ہم کتنی کوشش کرتے ہیں ۔اس کا اندازہ رمضان المبارک میں افطار کے وقت دسترخوان سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔مگر روحانی بھوک کو مٹانے کے لیے ہم روحانی غذا  کی کوئی فکر نہیں کرتے۔

روحانی بھوک کی وجہ سے انسان اضطراب،ذہنی تناؤ،عدم سکون،سوچ وفکر کی تنگی اور افسردگی جیسی بیماریوں کا شکار رہتا ہے۔عام طور پر روحانی بھوک جب لگتی ہے اور روح کو رحانی غذا کی ضررت پڑتی ہے تو ہم اپنے جہل کی بنا پر ظاہری  پیٹ میں مزید چیزیں ڈالنے لگتے ہیں۔مثلا ایک بے نمازی شخص ذکر وعبادت کی عدم ادائیگی اور گناہ کے ارتکاب  کی وجہ سے ذہنی تناؤ،دل کی افسردگی  اور جسم کے عدم سکون میں مبتلا ہو جائے تو بہت ممکن ہے کہ وہ اس حالت سے نکلنے کے لیے توبی واستغفار اور نماز کی بجائے مختلف قسم کے کھانوں اور مشروبات سے سکون حاصل کرنے کی کوشش کرے الا یہ کہ اللہ اسے ہدایت عطا فرمائے اور وہ رجوع کر لے۔

عام طور پر ہمارا خیال ہوتا ہے کہ سکون و اطمینان  ذیادہ مال و دولت،کامیاب کاروبار،خوبصورت گھر،بیوی بچوں،اچھے کھانوں اور قیمتی گاڑیوں سے ملتا ہے  لیکن روز مرہ زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت کم لوگ جن کے پاس یہ تمام چیزیں موجود  ہیں لیکن پھر بھی وہ اضطراب،تناؤ اور افسردگی کا شکار ہوتے ہیں۔اس لیے کہ یہ تمام چیزیں ظاہری بدن سے تعلق رکتی ہیں۔جبکہ سکون ،خوشحالی اور اطمینان  روحانی اسباب و غذا سے ملتے ہیں۔جو اللہ کی عبادت و ذکر میں پوشیدہ ہے۔فرمان الہٰی  ہے کہ “جو لوگ ایمان لائے ان کے دل  اللہ کے ذکر سے اطمینان پاتے ہیں۔ یاد رکھو  اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے۔” (سورہ رعد :آیت 28)

ذکر سے مراد اللہ کی توحید،عبادت،تلاوت قرآن،نوافل اور مناجات ہے۔جو اہل ایمان کے دلوں/روح کی خوراک ہے۔

دوسری جگہ ارشاد ہے “جو کوئی نیک عمل کرے ،مرد ہو یا عورت لیکن  با ایمان ہو تو ہم اسے یقینا بہتر زندگی عطا فرمائیں گے اور اس کے نیک اعمال  کا بدلہ بھی اسے ضرور دیں گے۔” (سورۃ النحل  آیت 97)

مومن کو اللہ کی اطاعت، عبادت، زہد وقناعت میں جو حلاوت محسوس ہوتی ہے وہ ایک کافر و نافرمان کو دنیا جہاں کی آسائشوں اور سہولتوں کے باوجود میسر نہیں آ تی بلکہ وہ ایک قلق، بے چینی اور اضطراب کا شکار رہتا ہے۔فرمان ربانی ہے”اور جو میرے ذکر سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی میں تنگی رہے گی اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کر کے اٹھائیں گے۔” (سورۃ طہ:124)

پس معلوم ہوا کہ بہترین، دلچسپ،پرسکون اور خوشحال زندگی ان کو ملتی ہے جن کے پاس روحانی اسباب و وسائل،غذا  اور عمل صالح کی پونجی ہو۔خواہ دنیا کے ظاہری مال و اسباب اور وسائل ان کے پاس کم یا نہ ہونے کے برابر ہوں۔خواہ وہ  فقر وغربت اور بھوک و پیاس کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کی زندگیاں اس کی واضح مثال ہیں۔زندگی بھر ان کو پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوا تھا لیکن مضبوط ایمن و یقین اور روحانی قوت کی وجہ سے قیصر و قصریٰ جیسے طاقتور بادشاہ ان سے ڈرتے تھے۔

آج مسلمانوں کے پاس بہت  کچھ ہے مال و دول کی کثرت،آسائشوں اور سہولیات کی فراوانی،ہر طرح کے اسباب و وسائل لیکن دنیا بھر میں رسوا  اور عدم اطمینان وسکون کا شکار ہیں۔یہ اس لیے کہ ہماری روح بھوک سے مر رہی ہے اور ہم جسم کو بسیار خوری سے ہلاک کر رہے ہیں۔آخرت کی بجائے دنیا کی محبت دلوں میں رچ بس گئی ہے۔پس دنیا و آخرت کی بہترین،خوشحال اور مطمئن زندگی گزارنے کے لیے روح کے پیٹ کو روحانی غذا سے سیر کرنے کا بندوبست کرنا چاہیے۔

About شاہ فیصل ناصر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *