Home / شمارہ اگست 2017 / آزادی کے بعد

آزادی کے بعد

شہر کے بیچوں بیچ اخبارات کے دفاتر سے گھری سڑک کے ایک کنارے پر   ہوٹل گرین کیفے تھا۔ دھواں، شور، پاس بہتے گندے نالے کی بدبو اور سگریٹ کا دھواں اڑاتے لکھاری، رپورٹر، چائے پر چائے پینے والے نو آموز ادیب، گلوکار، مخبر۔ سب کچھ تو تھا اس ہوٹل نما کیفے میں۔

اس وقت بھی ہوٹل میں ہونے والی ایک بحث نے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور دو پارٹیاں بن گئی تھیں۔ دونوں فریق اپنے اپنے موقف کے دلائل  میں منہ سے جھاگ کا تڑکا لگانا ضروری خیال کر رہے تھے۔

او میرے بھائی یہاں پر بیٹھ کر ان گھٹیا سے اخباروں میں لکھنے سے دانشوری نہیں آجاتی۔ ایک انگریزی جریدے کے دانشور بیان کرنے لگے۔

جی، انٹرنیٹ سے دیکھ کر، گرمی میں کوٹ پینٹ پہننے سے آتی ہے۔ ایک معروف اردو میگزین کے لکھاری چپ نہ رہ سکے۔

اہ جا یار تو خاموش ہی رہ، مجھے اچھی طرح معلوم ہے کس کس کی کہانیوں کا ترجمہ چھاپ چھاپ کر تو ادیب بنا ہے۔ پہلے مقرر خالد صاحب  کی دم پر پاؤں آیا تو انھوں نے بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔

بے تکلفی کی محفل تھی، حمام میں سب ہی ننگے تھے۔ اس لیے اس بات کا بالکل بھی برا نہیں منایا گیا اور محفل جاری رہی۔ صوفی صاحب بات صاف بچا لے گئے۔ دیکھو بھائی اس لیے میں تو اقبال کا حامی ہوں، اس کے افکار  صرف کتابوں،مخطوطوں میں سجانے، ملی ترانے بنانے کے کام نہیں آنے چاہیے، ان کا درس اپنی قوم کے بچے بچے کو دو۔ یہ درس اس قوم کا خون گرما دے گا، آگ لگا دے گا پھر دیکھنا ملک کہاں سے کہاں ترقی کر جاتا ہے۔ گوروں کی کیا بات کرتے ہو؟ وہ تو خود پریشان پھرتے ہیں، ان کی اپنی اولاد تک تو ان کے کنٹرول میں نہیں وہ ہمیں کیا سکھائیں  گے؟۔

اقبال، اقبال، اگر اقبال ایسا ہی کچھ کر سکتا تو سینتالیس میں آزاد ہوئے تھے، اقبال ، اقبال ہی کر رہے ہو، کچھ نہ کچھ تو ہو چکا ہوتا۔ خدارا سو سال ہونے کو آئے اس مرے ہوئے، اب تو اس کی جان خلاصی کرو، کوئی زندہ بندہ نہیں ملتا تمہیں؟ خدا خوفی ہے تمہیں کوئی؟ ایک صدی پرانے خیالات کے پیچھے بھاگتے ہو پھر  حیرت کرتے ہو کہ ہم ترقی کیوں نہیں کرتے؟ اچانک ایک ترقی پسند دانشور جو نئی راہوں کے راہی تھے، ترنگ میں آگئے۔

ارے نواب ، خاموش رہ، کیوں گردن کٹوانے والی باتیں کرتا ہے۔ ایک اخبار کے سینئیر مدیر جو ابھی تھوڑی دیر پہلے تشریف لائے تھے، گھبرا کر بولے۔

جانے دو شریف بھائی، آپ کو نہیں معلوم؟ یہ اب فیشن ہوتا جا رہا ہے، اقبال ، پاکستان اور جناح کو گالی دینا۔ ان کے خلاف بولو، پبلسٹی ہوتی ہے، پروگرام ملتے ہیں،۔ صوفی صاحب نے شریف صاحب کو دلاسہ دیا۔

ہاں صاحب آج کل تو عجیب و غریب ہی باتیں سننے کو مل رہی ہیں، جس کا جو جی چاہ رہا ہے، کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے۔ شریف صاحب نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا۔

ارے کہاں؟ اس ملک میں تو سچ لکھنا جرم ہے، آپ کوئی بات لکھ کر تو دکھا دو کل ہی آپ کے خلاف فتویٰ لگ جائے گا۔ اگر تصویر کا دوسرا رخ دکھایا جائے تو کہا جاتا ہے کہ غدار ہے، دشمن سے پیسے لیے ہیں، خالد صاحب شکوہ کناں ہوئے۔

کونسے زمانے کی باتیں کرتے ہو خالد میاں، اب تو سیاست دان تک ملک، فوج کے خلاف بات کرنے سے نہیں چوکتے اور آپ کہہ رہے ہیں عدم برداشت ہے۔ اب بھلا کونسا ملک اپنے خلاف باتیں سننا پسند کرتا ہے؟

بھائی جی میرا مطلب ملک، مذہب کے خلاف بات کرنے کا نہیں تھا، صرف ایک دوسرے کو برداشت کرنے، سننے کا حوصلہ رکھنے کی بات کی ہے۔ ہم میں برداشت کا مادہ بہت ہی کم ہے۔ سڑک، اسمبلی جہاں مرضی دیکھ لو۔

مثلا؟؟؟ کئی آوازین گونجیں

 مثال کے طور پر  تاریخ کی ہی بات لے لو، ہمیں تاریخ اپنے ہیرو بنا کر پڑھائی جاتی ہے، ان پر فخر کروایا جاتا ہے۔

 تو یہ تو ہر جگہ ہوتا ہے۔۔۔ بات کاٹی گئی

ارے بات تو پوری سنو یار، خالد صاحب جھلا گے۔ اب دیکھو مغلوں نے کیا کیا نہیں کیا؟ لیکن ہمیں ان کو مجاہد اسلام بتلایا جاتا ہے، ہمیں اس حقیقت ک ادراک ہی نہیں کروایا جاتا کہ جناب وہ مسلمان تھے، حکمران تھے سب سے بڑھ کر انسان تھے۔ ان میں کمی، کوتاہی بھی تھی۔ ان کی اچھی چیزوں سے نصیحت پکڑو اور بری سے عبرت۔ ہم پسماندہ قوم ہیں، ہمارے لیے یہ اسباق بہت ضروری ہیں اگر ہمیں زندہ اقوام کی دوڑ میں آگے جانا ہے۔

اب المیہ یہ ہی نہیں ، یہ بھی ہے کہ ہم اپنی غلطیاں نہیں پہچان پا رہے۔ ، جاپانیوں کو دیکھو  کیسے سب کھو کر کچھ نہیں کھویا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اب  درست سمت کا انتخاب کریں ، ہمیں بھی زینہ بہ زینہ آگے بڑھنا ہے۔ اب سائنس میں دیکھ لو، ہمارا پڑوسی ملک جو ہمارے ساتھ آزاد ہو تھا۔ وہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ جذباتی باتوں سے الگ ہو کر سوچو دو منٹ۔ اس وقت دنیا کی پانچ سو بڑی کمپنیوں میں کتنے بھارتی اور کتنے پاکستانی ہیں؟ اعلیٰ درجے کی ملازمتیں انہیں فورا مل جاتی ہیں، اعلیٰ ریسرچ کے اداروں میں وہ لوگ ہیں،۔ گوگل، ناسا، پیپسی وہ چلا رہے ہیں۔ اور ہم؟ ہمارے پاس کیا ہے؟ ہم ان کی ایمبیسڈر گاڑی کا مقابلہ نہیں کر پائے، چاند، مریخ، خلا کو مسخر خاک کریں گے؟ ہم نے کبھی سوچا نہیں کہ زراعت کے علاوہ ملک میں کچھ بنائیں، ہمارے پاس کون سا ادیب، شاعر، محقق،  مصنف، تاریخ داں ان ستر برسوں میں آیا ہے؟  اس وقت قوم کو تعلیم کی سخت ضرورت ہے دور جدید کے  نئے نصاب کے مطابق جو اسے کم از کم سر اٹھا کر جینا تو سکھا دے ورنہ داستاں نہ ہو گی ہماری داستانوں میں۔ خالد صاحب چپ ہوئے۔ ارے خالد تو نے پارٹی تو نہیں بدل لی۔۔۔ زبردست قہقہہ پڑا۔

About ڈاکٹر فہد چوہدری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *