Home / شمارہ اپریل 2017 / اپنی محبوب ترین ہستی کے نام

اپنی محبوب ترین ہستی کے نام

صحیفہ عشق کا کرتا ہے جب کوئی تصنیف

وہ تیرے نام سے اب انتساب ہوتا ہے ؎ع

اگر اس ذات گرامی کے اوصاف بیان کروں جس سے مجھے غایت درجہ محبت ہے اور جس کی محبت ہی میرے ایمان کی تکمیل ہے تو دنیا کے تمام الفاظ ختم ہو جائیں گے لیکن رب العالمین کے اوصاف کبھی ختم نا ہوں گے ۔ رب العالمین ، معبود برحق و محبوب حقیقی کی حمد و ثناء لکھی جائے تو تمام دنیا کی قلمیں گھس جائیں گی ، سیاہیاں ختم ہو جائیں گی لیکن اس کے ان گنت اور پیارے اوصاف پھر بھی باقی رہیں گے ۔ دنیا کی عمر کے برابر عمر پا کر بھی اگر کوئی شخص ساری زندگی سجود میں گزار دے تو بھی اس کے احسانات اور بے شمار نعمتوں کے شکریہ کا حق ادا نہیں ہو سکتا ۔ ہر ہر سانس کے ساتھ اس کی تسبیح و تکبیر بیان کرتا رہے پھر بھی اس کی پاکی اور عظمت کے بالمقابل نا ہو سکے گا ۔بلند و بالا پہاڑوں کی چوٹیاں ، ان میں بہتے ہوئے چشمے ، روانی سے چلتے ہوے دریاؤں کا شور ، موجیں مارتے ہوئے سمندر، ہواؤں میں اڑتے ہوئے پرند ، چراگاہوں میں چرتے ہوئے چرند ، پر سکون کھڑے درخت ، طاقت ور ہوا ، جنگلوں میں حکومت کرنے والے جانور ، زمین کے اندر اور باہر بسنے والی ، ناری و آبی تمام مخلوقات ، با ادب ملائکہ ، تمام روے زمین اور چراغوں سے آراستہ جھکا ہوا آسمان ، سورج ، چاند ، کہکشائیں غرض کہ تمام کائنات کا ایک ایک ذرہ جس کی پاکی اور عظمت کا مظہر ہے اور جس کی حمد و ثناء میں مشغول ہے وہ وہی مقدس ہستی ، معبود واحد ، الہ العالمین ، لا شریک و بے نیاز اللہ سبحان و تعالی ہی کی ذات ہے ۔ سب کا مالک و معبود ، عزت و ذلت کا مختار ہے ۔ روے زمین کی زندگی اور تمام مخلوقات کی ایک ایک سانس اسی کے قبضے میں ہے ۔ کون ہے جو اس کے رعب و جلال کے سامنے سر اٹھا سکے ، اس کے دبدبے کے سامنے سب کے سب دست بستہ ہیں ۔ کوئی دل نہیں جس کی امیدوں کا مرکز اس کی ذات والی صفات نا ہو ۔ درد کا درماں کرنے والا ، بھوک کے وقت نرم غذا اور جاڑے میں گرم بستر مہیا کرنے والا ، شفا دینے والا ، طوفانوں اور آفتوں میں مضبوط پناہ گاہ ، خوف کے وقت امن دینے والا ، حفاظت کرنے والا وہی تو ہے ۔ ہاں وہی تو ہے جس کا فرمان بدلنے پر کوئی قادر نہیں ، جس کا فیصلہ حق ہے ، جس کا نا کوئی ساجھی ہے نا مشیر ۔ جس کی نا کوئی اولاد ہے نا والدین ، نا قبیلہ و خاندان ، جسے نا اونگھ آتی ہے نا نیند ، جس کی کرسی کے قبضے میں ہیں ساتوں آسمان اور زمینیں ۔ ہاں وہی تو ہے جو ہمیں بے شمار ، ان گنت نعمتیں دے چکا اور دیتا رہے گا مگر اس کے خزانے پھر بھی بھرے کے بھرے ہی رہنے والے ہیں ۔ نا اس کی بے نیازی کو زوال ہے اور نا اس کے سامنے ہماری محتاجی ختم ہونے والی ہے ۔ کون ہے جو ہم پر سب سے زیادہ مہربان ہے ، ہم سب کی سننے والا ، گنہگاروں کو امان دینے والا ، نا فرمانوں کو مہلت دینے والا ، مردوں کو زندہ کرنے والا اور ٹھیک ٹھیک عدل و انصاف نافذ کرنے والا وہی ہے ، جس کا عرش اور تخت آسمانوں میں ہے اور جو کائنات کے چپے چپے کا خالق و مالک ہے اور جس کا حکم ہر جگہ نافذ ہے ” اللہ ” کیا وجہ ہے کہ اس کی بندگی نا کی جائے ، کیا عذر ہے کہ اس کا انکار کیا جائے ۔ کیا شک ہے اس کی وحدانیت اور معبودیت میں ۔ کس چیز کی کمی اس نے چھوڑی اپنی نشانیاں عیاں کرنے میں جو اسے ڈھونڈا نا جا سکے اور اس کے وجود کا انکار کیسے ممکن ہے ۔ یہ صرف اس لیے ممکن ہوا اے انسان کہ اس نے تجھے اختیار کی آزادی دے دی اس لیے نہیں کہ وہ تجھے دکھا ہی نہیں ، ملا ہی نہیں ، کھلی آنکھوں سے تو نے اس کا وجود دیکھا ہی نہیں ۔ کیا اس کی کھلی کھلی نشانیاں اسے دیکھنے کے مترادف نہیں اور اگر پھر بھی تو انکار پر مصر ہے تو جان لے کہ وہ دن بھی قریب ہے جب تیری مہلت باقی نا رہے گی اور تیری آنکھیں جو دنیا میں اسے دیکھ نا پائی اس کے جلال کا سامنا نا کر سکیں گی اور وہ سر جو دنیا میں اس کے حضور تسلیم خم نا ہوا اس دن تو اسے کیسے اٹھائے گا جب اسے اٹھانے کی طاقت اور اختیار تجھ سے واپس لے لیا جائے گا اور تیری اوقات اور اس کا اختیار بھی تجھ پر واضح ہو جانے والے ہیں ۔ مجھے اور تجھے کیا چیز مانع ہے کہ اس کی بندگی نا کریں جس نے پیدا کیا اور جس کی طرف لوٹائے جانے والے ہیں ۔ کیا اسے چھوڑ کر اور معبودوں کی بندگی کی جانی چاہیے کہ اگر خداے رحمن سزا دینا چاہے تو ان میں سفارش کی سکت ہی نہیں اور نا ہی ان کی کوئی سفارش کچھ کام آنے والی ہے ۔ اور اگر ایسا کرنے پر پھر بھی اصرار کیا جائے تو یہ کھلی ہوئی گمراہی اور ظلم عظیم ہے ۔ اور نصیحت تو بن دیکھے ڈرنے والوں کے لیے ہی ہے چنانچہ بشارت اور سر بلندی کی نوید کے حقدار اور حاملین بھی یہی متقین ہیں ۔

About امِ مریم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *