Home / شمارہ فروری 2018 / اپنے بچوں کو بہادر بنائیں:ایک کلاس

اپنے بچوں کو بہادر بنائیں:ایک کلاس

پیرنٹنگ

تحریر:ساجد محمود

ماما  ماما آج ہمارے اسکول میں نا ۔۔۔۔۔  وہ ۔۔۔  وہ نا ۔۔۔۔۔۔

ہاں ہاں بولو بیٹا کیا ہوا آج اسکول میں ؟

علی کی ماما اور پاپا آج اسکول آئے تھے او روہ  رو  رہے تھے کہ علی کل سے گھر نہیں آیا۔۔ ماما  وہ کہاں چلا گیا ہوگا؟  وہ آنٹی بہت رہ رہی تھیں

اچھا بیٹا تم تو ٹھیک ہو نا ۔۔ اللہ میرے بیٹے کو سلامت رکھے ۔

طارق کی ماں اپنے بیٹے کو سلامت پا کر علی اور دوسرے بچوں کی سلامتی سے بے فکر  اور لاپرواہ سی ہو گئیں۔ دن گزر گیا اور شام کو خاوند کی گھر  واپسی پر انہیں بتایا کہ ان کے دوست اکبر علی کا چھوٹا  بیٹا  علی اصغر کل سے غائب ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات  کا کھانالگ  چکا ہے کہ محمود کے موبائل پر گھنٹی بجتی ہے۔ دوسری جانب محمود کے بھانجے مبشر  نے سلام دعا کے بعد کل کی کلاس کا پوچھا ہے کہ ماموں جی کل کی کلاس کا  ٹاپک کیا  ہے؟  ماموں جی نے اتنا کہہ کر مبشر کا فون بند کر دیا کہ بیٹا ابھی تو مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ۔ کل صبح سوچوں گا اور پھر کلاس کریں گے۔ سب بچوں کو جمع کر لینا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمود  اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ اپنے اور اپنی بیوی کے  بہن بھائیوں کے بچوں کے ساتھ بھی بہت پیار محبت کرتے ہیں ۔ بلکہ ان بچوں کی تربیت میں اپنا رول ادا کرنے کی تڑپ  بھی موجود ہے۔ہر ملاقات پر ان بچوں کو کچھ نہ کچھ سبق دیا کرتے ہیں۔  محمود کا  گھر بہن بھائیوں کے گھر سے کافی فاصلے پر ہونے کی وجہ سے رو برو بچوں کی تربیت کا  وقت کم  ہی ملتا ہے۔ تو اس کا  یہ حل ڈھونڈ  نکالا  کہ  ہر اتوار کو بچے ایک گھر میں جمع ہوں گے اور محمود اپنے موبائل سے انہیں کال کر کے ایک گھنٹے کی کلاس لیں گے۔ یہ سلسلہ اتنا دلچسپ اور مزےدار  ہوتا گیا کہ اب بچے ہفتے کی شام  ہی فون کر دیتے ہیں کہ ماموں جی کل کی کلاس کا ٹاپک کیاہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ٹرن ۔۔ ٹرن ۔۔ ٹرن

السلام علیکم ماموں جی ۔۔ درجن بھر بچے یک زبان سلام کرتے ہیں تو ماموں جی اور چاچو جی کا دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔

وعلیکم السلام ۔۔ اچھا  بھئی سب بچے کیسے ہیں ؟ سب موجود ہیں ؟ کوئی غائب تو نہیں ؟ کوئی کھیل کود میں تو نہیں پھنسا ہوا؟

نہیں ماموں جی آپ کی کلاس ہو اور کوئی بچہ غائب ہو۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔

جی چاچو جی آپ کی کلاس ہی ایسی ہے کہ بس کچھ نہ پوچھیں۔ میں کرکٹ چھوڑ کر آیا ہوں ۔ آج تو ہمارا  گرین الیون سے میچ بھی ہے لیکن چاچو جی کی کلاس تو پھر کلاس ہے نا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اچھا بھئی،ویسے تو  ہماری ہر کلاس کی باتیں اہم ہوتی ہیں ۔ بہت کام کی ہوتی ہیں ۔ اور ہم دلچسپی سے سنتے سمجھتے اور ڈسکس کرتے ہیں۔ لیکن بھئی آج کی کلاس کا  ٹاپک ایسا ہے کہ پہلے دماغ میں بٹھا لو کہ ماموں جی  چاچو جی آپ کو ڈرانے نہیں لگے بلکہ پتہ ہے  کیا بنانے لگے ہیں؟

بہادر۔۔ بہادر  ۔۔ دلیر ۔۔ ہوشیار ۔۔ سمجھدار

خود سوچنے کی پاور پیدا کرنے والا بچہ ۔۔۔

ارے ارے اتنا سارا کیسے سمجھ لیا ؟

چاچو جی آپ کی کلاس میں بیٹھ بیٹھ کر اب تو یہ سب چیزیں یاد ہو گئی ہیں  نا ۔۔ آپ نے جب کہا کہ ڈرانے نہیں لگا تو میں سمجھ گئی کہ آپ ڈرانے نہیں لگے تو پھر۔۔۔۔۔۔  بہادر بنانے لگے ہوں گے ۔

واہ بھئی واہ ۔۔ اسی لیے تو میں آپ سب سے ہر کلاس میں کہتا ہوں کہ ہر بچہ خود سوچ کر بتائے کہ  پچھلے پور ے ویک میں کیاکیا مسٹیکس ہوئیں کیا کیا غلطیاں ہوئیں ؟ کسی سے ہیلپ نہیں لینی ۔ بہت خوب ۔۔  خود سوچنے سے سوچنے کی پاور پیدا ہوتی ہے ۔ ویری  گڈ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اچھا  بھئی بچو! اب آج کا پہلا سوال یہ سوچنا ہے کہ  صبح اسکول کی گاڑی  میں ہم اسکول گئے ہیں ۔ لیکن چھٹی کے ٹائم پر جب اسکول سے باہر آئے تو دیکھا کہ اسکول کی گاڑی ہی نہیں آئی ۔۔ اب بتاو کیا کرو گے؟

اور دوسری بات کہ، اسکول کی گاڑی تو آئی ہے ، لیکن گاڑی والے انکل کی جگہ کوئی اور چلا رہے ہیں ۔۔ تو کیا کرو گے؟

چند لمحات کی خاموشی کو توڑتے ہوئے مبشر نے بتایا کہ ماموں جی میں میڈم کو بتاوں گا کہ میڈم ہماری گاڑی نہیں آئی۔

ناہید نے  کہا  کہ ماموں جی میرا بھی یہی جواب ہے۔

شکیلہ نے سوچتے ہوئے کہا کہ چاچو جی  میں اپنی ٹیچر کو کہوں گی کہ وہ میڈم سے کہیں کہ ہماری گاڑی نہیں آئی۔

عبداللہ نے خوب سوچ کر کہا ،  کہ ماموں جی انکل کی جگہ کوئی اور آدمی گاڑی چلا رہے ہوں ، تو ان سے پوچھوں گا کہ ہمارے انکل کیوں نہیں آئے؟

جی  تو عاصم بیٹا آپ بھی بتاو کیا کرو گے ؟

ماموں جی میں  ابھی سوچ رہا ہوں ۔

چاچو جی میرا گھر نزدیک ہی ہے تو  میں پیدل ہی گھر آ جاوں گا۔ محمد حکیم نے بڑی معصومیت سے جواب دیا۔

ماموں جی میں نے سوچ لیا ہے۔ بتاوں؟ عاصم اس کلاس کا سب سے چھوٹا بچہ ہے لیکن اپنے ماموں جی  کی کلاس کا سب سے زیادہ سوچنے والا بچہ ہے۔  اور اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ بچوں کے ماموں جی اور چاچو جی نے بچوں کو خود سوچ کر جواب دینے کی عادت ڈال دی ہے۔

جی عاصم بیٹا !

جی  ۔ماموں جی، میں میڈم سے کہوں گا کہ یہ میرے پاپا کا نمبر ہے پلیز میری ان سے بات کرا دیں۔ میڈم پوچھیں گی نا کہ کیا بات ہے مجھے بتاو۔ تو میں کہوں گا کہ  میں نے پاپا کو بتانا ہے کہ گاڑی نہیں آئی  آپ ہمیں لینے آ جائیں ۔

ویری گڈ بوائے ۔۔ بیٹا عاصم بہت اچھا سوچا ہے آپ نے ۔۔

سب بچوں نے زوردار تالیاں بجا کر عاصم کو شاباش دی۔

اچھا اور کوئی بتائے کہ کیا کرو گے؟

ماموں جی میرے ایک فرینڈ کے پاپا اس کو لینے آتے ہیں میں ان کے ساتھ آ جاوں گا۔ سعید نے بھی سوچتے ہوئے جواب دیا۔

محمد عرفان  نے  تو ایک دم آواز بلند کی کہ ماموں جی آئیڈیا ۔۔۔ میرے پاپا کے ایک فرینڈ کا گھر اسکول کے نزدیک ہی ہے میں ان کے گھر چلا جاوں گا اور بولوں گا کہ ہماری گاڑی نہیں آئی تو انکل آپ مجھے گھر چھوڑ آئیں ۔

اچھا ۔۔ چلو بچو اب تک بہت سے بچوں نے جواب بتائے ہیں ۔۔ اور آپ کو پتہ ہے کہ ماموں جی اور چاچو جی سب بچوں کے جواب کے بعد اپنا جواب بتاتے ہیں اور سب بچے اسی جواب کو یاد کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ؟

جی جی ماموں  جی بالکل ایسا ہی کرتے ہیں ۔

جی چاچو جی   اب آپ کا ماسٹر آنسر دیکھنا ہے کہ وہ کیا ہے؟

اچھا بچو، چلو آج  ایک بار آسیہ بیٹا  بتائیں گی کہ ماسٹر آنسر کا کیا ہوتا ہے؟

آسیہ جو پانچویں کلاس کی اسٹوڈینٹ ہے بڑا سوچ کر جواب دیتی ہے کہ ماموں جی  اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ہم خود بھی سوچتے ہیں اور اپنے جواب بناتے ہیں ، پھر آخر میں آپ کا جواب ہم سب کے جواب کا  ماسٹر آنسر ہوتا ہے اور ہمیں ماسٹر آنسر کو ہی یاد رکھنا ہوتا ہے اس لیئے  کہ  وہی سب سے اچھا جواب ہوتا ہے۔

ویری گڈ بھئی آسیہ بیٹا۔۔ مجھے اپنے سب بچوں سے اسی لیئے بہت پیار ہے کہ آپ سب میری کلاس میں مزے سے آتے ہو اور سب باتیں یاد بھی رکھتے ہو۔۔ شاباش بیٹا۔

چاچو جی ہمیں بھی اسکول کی کلاس سے زیادہ آپ کی کلاس اچھی لگتی ہے۔

وہ کیوں بھئی،  نادیہ بیٹا؟

جی ماموں جی۔ اس لیے کہ آپ  ہمیں وہ باتیں سکھا رہے ہیں جو اسکول کے ٹیچر نہیں سکھاتے۔  اور پھر کبھی کسی بچے کو آپ نے پَنِشمنٹ بھی نہیں دی۔ بغیر سزا کے ہی سب بچے آپ کا کہنا مانتے ہیں ۔

ہاں بھئی یہ تو ہے، کہ ہماری کلاس میں وہ باتیں ڈسکس ہوتی ہیں جو اسکول یا مدرسے میں نہیں ہوتیں۔

اچھا تو اب تیار ہو جاو ماسٹر آنسر کے لیے۔

آج کا ماسٹر آنسر یہ ہے، کہ ۔۔۔۔ جب پتہ چل جائے کہ گاڑی نہیں آئی، تو سب سے پہلے ہم اپنے ٹیچر سے پوچھیں گے کہ ٹیچر  آپ کے پاس موبائل ہے؟ اگر ان کے پاس موبائل ہو تو انہیں اپنے پاپا اور ماما کے نمبر دیں گے اور کہیں گے کہ ٹیچر ہماری گاڑی نہیں آئی ۔ آپ  پلیز ہمارے پاپا سے بات کرا دیں ۔ اگر ٹیچر کے پاس موبائل نہ ہو تو میڈم کے پاس جا کر یہی کہنا ہے ۔ ۔۔ ٹھیک ہے بیٹا یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی نا؟

جی جی ماموں جی ۔۔۔ جی چاچو جی سمجھ   آ گئی۔۔ پھر کیا کرنا ہے؟

ہاں تو جب پاپا یا ماما سے بات ہوجائے تو بس انہیں بتا دینا ہے کہ گاڑی نہیں آئی ۔۔ اب جو پاپا یا ماما کہیں وہی کرنا ہے ۔ بَس۔۔۔

عاصم نے فورا سوال کر دیا کہ ۔۔ ماموں جی اگر  ٹیچر اور میڈم کے پاس موبائل ہی نہ ہو تو پھر؟

جی ماموں جی، اور اگر موبائل ہو بھی تو اگر ماما یا پاپا کا نمبر ہی نہ ملے تو؟

جی چاچو جی، نیٹ ورک بھی تو کبھی کبھی نہیں ملتا نا، تو پھر کیا کریں گے؟

واہ بھئی واہ ۔۔ بہت خوب۔  اتنے سارے  سوال آ گئے۔۔ اسی لیے تو میں نے جواب میں بریک لگایا تھا کہ آپ سوچو۔

اچھا ۔۔ ایسا کریں گے کہ، سب سے پہلے ایسے ٹیچر کو دیکھیں گے جن کے پاس موبائل ہے۔ اگر وہ پاپا ماما سے بات کرا دیں تو اچھی بات ہے۔ اگر ان کے موبائل نہیں ہے ، یا ۔۔۔ موبائل ہے لیکن پاپا ماما کا نمبر نہیں مل رہا ، یا ۔۔ کوئی بھی وجہ ہو کہ ماما پاپا سے آپ کی بات نہیں ہو رہی۔۔۔ تو ۔۔۔۔ میڈم کے پاس چلے جانا ہے اور ان سے کہنا ہے کہ میں کسی کے بھی ساتھ گھر نہیں جاتا آپ پلیز میرے ماما یا پاپا سے میری بات کرا دیں ۔۔  تو  بچو، میڈم کے پاس تو لازمی موبائل ہوتا ہی ہے نا ۔۔۔۔ تو وہ آپ کی ضرور بات کرا دیں گی ۔۔ بس پھر تو مسلہ ہی حل ہو گیا ۔۔۔ کیا خیال ہے بچو؟

ماموں جی لیکن ۔۔۔ لیکن میڈم کے پاس جائے گا کون؟ ہماری میڈم کے آفس کے باہر جو انکل بیٹھے ہوتے ہیں نا وہ  بچوں کو اندر نہیں جانے دیتے۔۔ پھر کیا کریں گے؟

اوہ ہو۔۔۔ میں بتاوں ماموں جی؟

جی جی ۔۔ بولو عاصم بیٹا۔

ماموں جی ہماری میڈم کے آفس میں تو ہم جب مرضی چلے جائیں ۔۔ میڈم بالکل بھی منع نہیں کرتیں۔۔ اور آسیہ کی میڈم یا باہر بیٹھے ہوئے انکل اندر نہیں جانے دیتے تو پتہ ہے کیا کرنا چاہیے؟ ۔۔۔۔۔ بس آپ کو بہادر آسیہ بننا پڑے گا۔۔۔ ماموں جی نے بتایا ہوا ہے نا ۔۔ کہ جان بچانے کے لیے بہت بہادر بننا ہے ۔۔ کوئی منع کرتا ہے تو کرتا رہے ۔۔ ہم نے تو زبرستی میڈم کے پاس چلے جانا ہے ۔۔

واہ ۔۔ بہت ہی زبردست ۔۔۔ آج تو عاصم نے دل خوش کر دیا ۔۔۔ ویری نائس بیٹا ۔ اسی کے ساتھ بچوں کے ماموں جی چاچو جی کلاس ختم کرتے ہیں اور ساتھ ہی بتا دیتے ہیں کہ بچو اگلے اتوار کی کلاس کا سوال آج ہی سن لو ۔۔ وہ یہ ہے کہ آپ کےپرائیویٹ باڈی پارٹس  کو کوئی بھی اگر ہاتھ لگائے یا اپنی باڈی ٹچ کرے تو آپ نے کیا کرنا ہے؟ اس پر اگلی کلاس میں ڈسکس کریں گے ۔

اللہ حافظ

About ساجد محمود

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *