Home / شمارہ ستمبر 2017 / اپنے حق کے لیے

اپنے حق کے لیے

اپنے حق کے لیے آواز اٹھائی ہوتی

کاش یہ شرم کے پردے تو اتارے ہوتے

زیست بنتی نہ کبھی جستجو ئے لا حاصل

پھر یہ ممکن تھا کہ طوفاں میں کنارے ہوتے

رات کی گود سے گر مانگ کے لائے ہوتے

چاند تارے بھی تیرے دوش پہ وارے ہوتے

روشنی کم نہیں گھر میں تیرے ہونے دیتے

کاش آنچل میں میرے اتنے ستارے ہوتے

آنکھ کے پانی کو شبنم کا سا عنوان دے کر

چند پھولوں کے ہی چہرے تو نکھارے ہوتے

دوسروں کے لیے جو درد کا درمان بنتے

خود بھلا درد میں ممتاز بیچارے ہوتے

از: ممتاز ملک  ؔ

About ممتاز ملک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *