Home / شمارہ ستمبر 2017 / اچھا کیسے لکھیں؟

اچھا کیسے لکھیں؟

مندرجہ ذیل آرٹیکل میں ان افرادکے لیے بہترین لائحہ عمل بیان کیا گیا ہے جو لکھنے کی خواہش رکھتے ہیں اور اچھے لکھاری بننا چاہتے ہیں۔معروف مصنفین بھی اس مضمون سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

بعض لوگوں کو فطرت پیدائشی طور پر یہ فن عطا کرتی ہے کہ وہ لکھنے کی خداداد صلاحیت رکھتے ہیں۔جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ لکھ سکتا ہے اور وہ اس میدان میں طبع آزمائی بھی کرتا رہتا ہے، اس کے لیے یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ وہ اپنی لکھنے کی صلاحیت میں بہتری کیسے لا سکتا ہے۔ اگر اسے لکھنے کے لیے تردد نہیں کرنا پڑتا،وہ ارادہ کرتا ہے اور روانی سے لکھنے لگتا ہے تو بہت اچھی بات ہے۔اس صورت میں اسے نہ صرف لکھنا چاہیے بلکہ اس صلاحیت میں بہتری اور مہارت پیدا کرتے رہنا چاہیے۔تاکہ وہ لکھنے والوں کی صف میں ایک اچھااضافہ ثابت ہو۔اس سلسلے میں مرحلہ وار چند ٹپس رائٹرز کے لیے بہت مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔

پہلے مرحلے پر اپنے ذوق کو دیکھناچاہیئے ۔ اگر آپ کے لیے لکھنا فطری امر ہے اور آپ پر تحریر گویا خود اترتی ہے،الفاظ ،انداز، تراکیب اور من جملہ لوازمات ساتھ لاتی ہے تو بہت اچھی بات ہے،لکھنے کا عمل جاری رکھیں۔بس شروع شروع میں اسے ترتیب دینا پڑے گا ،کچھ عرصے کے بعد ترتیب بھی خود بخود بنتی چلی جاتی ہے اور آپ پر طاری ہوتی چلی جاتی ہے۔ صلاحیتوں کا فرق بہرحال اس پر اثر انداز ہوتا ہے کہ کچھ لکھنے والے ایسے بھی ہیں جو اس کیفیت سے گزرنے کی بجائے کسی مضمون کو سلسلہ وار سوچتے ہیں اور پھر خاص ترتیب سے لکھتے ہیں جبکہ کچھ ارادہ کرتے ہیں اور روانی سے لکھنے لگتے ہیں۔

زبردستی مصنف بننے کی کوشش کسی کو نہیں کرنا چاہیے ۔ایساشخص کوئی ایک آدھ تحریر لکھ بھی ڈالے ، تب بھی بہت مستقبل بنیادوں پر زیادہ اچھی چیزیں نہیں لکھ سکے گا۔ جس میں لکھنے کی صلاحیت ہے یعنی جو لکھتے ہوئے اچھا محسوس کرے، اسے لکھنا آسان لگے،اسے ضرورلکھنا چاہیئے۔ دوسرا یہ کہ مطالعہ کرتے رہنا لکھنے کی بنیاد بھی ہے اور تکمیل بھی۔

 آج کل اکثر لوگ لکھنے کے شوقین ہیں لیکن پڑھنے کی معمولی زحمت بھی گوارہ نہیں کرتے۔ یہ ایک بالکل ہی مصنوعی عمل ہے کہ آپ پڑھیں نہیں اور صرف لکھتے رہیں۔ اچھا لکھنے کے لیے بنیادی شرط یہ ہوتی ہے کہ آپ نے پڑھ رکھا ہو، اچھا پڑھ رکھا ہو اور بہت زیادہ پڑھ رکھا ہو۔

سو اصول یہ ہے کہ اگر پڑھنے کا ذوق نہیں ہے تو نہ لکھیں اور اگر لکھنے کا ذوق وشوق ہے تو بہت پڑھیں۔ تیسری بات یہ کہ اگر لکھنے کا شوق ہے اور اس کی قدرتی صلاحیت بھی ہے تواس راہ کے ضروری لوازم سے آراستہ ہونے کا اہتمام کیجیے۔ مثال کے طور پر ورڈ میں لکھتے ہوئے جمیل نوری نستعلیق فانٹ اور فانٹ سائز 16 بہتر رہتا ہے نیزآپ کو بنیادی گرامر آنی چاہیئے ۔پنکچوایشن آ نا چاہیے۔ اکثر لوگ رائٹر بن جاتے ہیں اور ان کے مضمون میں ایک کومہ یا فُل اسٹاپ بھی نہیں ہوتا۔لازمی ہے کہ یہ بنیادی چیزیں سیکھنا چاہیئں کہ Exclamation mark کہاں لگتا ہے ، کومہ کہاں لگتا ہے، پیراگرافنگ کیسے ہوتی ہے، مضمون کی ابتدا کیسے ہوتی ہے ، اختتام کیسے ہوتا ہے،باڈی کیسے لکھی جاتی ہے۔

ایک اہم بات یہ ہے کہ گرامر کے اصولوں کا لحاظ رکھنا چاہیے۔پھر یہ کہ ذخیرہ الفاظ وسیع ہونا چاہیئے۔یہ ظاہر ہے کہ مطالعہ سے وسیع ہوگا۔الفاظ کے معنی معلوم ہونا چاہیے۔ اس کے لیے ایک اچھی لغت پاس رکھیں۔محاورے اور تراکیب معلوم ہونے چاہیے۔شعر و ادب کا بھی ذوق ہونا چاہیے کیونکہ ذخیرۂ الفاظ بہت حد تک وہیں سے آتا ہے۔

 لکھنے کی استعداد کو بہتر بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے تخیل کو تحریر میں بدلنے کا ملکہ پیدا کریں۔ اس لیے پہلے تو اس کی عادت ڈالیں کہ جیسے ہی کوئی عمدہ خیال پیدا ہو ، کوئی نکتہ ذہن میں آئے، اسے فوراًنوٹ کرلیں۔چاہے اٹھیں ہوں، بیٹھے ہوں ،لیٹے ہوں آپ کو یہ کام کرنا ہوگا ۔ورنہ بہت اچھے اچھے خیالات جنھیں دوسروں تک پہنچنا چاہیے ذہن سے نکل جاتے ہیں۔ اس لیے تاخیر نہیں کرنی چاہیئے۔

 کوئی خیال نہ ذہن میں پیدا ہو کہ ہر شخص کا تخیل اتنا زرخیز نہیں ہوتا تو پھر لکھنے کی پریکٹس کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کسی اچھے مصنف نے جو مضمون لکھا ہے ، آپ اس کو دوبارہ لکھیے ۔پھر تقابل کریں کہ میں نے اسے کیسے لکھا ہے اور مصنف نے کیسے لکھا ہے۔ یا پھر یہ کیجیے کہ اپنے احساسات کو قلمبند کیجیے۔ ڈائری لکھنے کی عادت ڈالیں۔ یا پھر منظر نگاری کیجیے کہ صبح کا وقت کیسا ہوتا ہے یا کسی جگہ گئے تھے تو وہاں کیا دیکھا۔ ان سب چیزوں سے انسان کو لکھنا آتا ہے ۔

 یہ زمانہ لمبی لمبی تحریروں کا نہیں ہے۔ کوشش کیجیے کہ کم سے کم الفاظ میں اپنا مدعا بیان کردیجیے۔ جب مضمون لکھ لیں تو ہمیشہ اس پر نظر ثانی کی عادت ڈالیں۔ اپنی غلطیوں کو نوٹ کریں۔ ہوسکے تو ایک دو لوگوں سے پڑھواکر فیڈ بیک لیں۔ پھر اسے اشاعت کے لیے بھیجیں۔ جب لکھیں تو اس کا اہتمام کریں کہ جملے چھوٹے ہوں، سادہ ہوں، مشکل اور پیچیدہ زبان استعمال نہ کریں ۔ سادہ زبان پڑھنے میں آسان ہوتی ہے ۔وہ پرانا زمانہ تھا جب مرزا رجب علی بیگ کی زبان لکھی جاتی تھی ۔ میر امن نے اس زبان کو بدل دیا۔ پھر اردو ادب کے جوعناصرِ خمسہ تھے ، انھوں نے اس کو بہت آگے بڑھادیا ۔ سر سید ، آزاد شبلی، ڈپٹی نذیر احمد، حالی جیسے لوگوں کو پڑھنا چاہیئے، ان لوگوں نے اردو زبان کو اردو بنایا ہے۔ جو دور جدید کے بڑے لوگ ہیں ان کو پڑھنا چاہیے ۔

یہ لکھنے کے حوالے سے کچھ بنیادی باتیں ہیں ۔انشأاللہ امید ہے کہ جب آپ اس پہلو پر محنت کریں گے تو اچھی چیزیں لکھنے لگیں گے۔ لیکن کبھی رائٹربننے کا شوق نہ رکھیں ۔اس احساس ِذمہ داری کے ساتھ لکھیں کہ آپ کے پاس واقعی کوئی میسج ہے جو آپ کو لوگوں تک پہنچانا ہے۔ ذہن میں رکھیے کہ یہ بہت ذمہ داری کا کام ہے۔ لکھا ہوا لفظ بہت دور تک جاتا ہے۔ ہمیشہ اللہ تعالی سے مدد مانگیے اور ذمہ داری کے احسا س کے ساتھ لکھیے۔بیشتر لوگ لکھتے ہیں ،تعریفیں ہونے پر خوش ہوجاتے ہیں۔ مگر بارہا ایسے لوگوں کی اخلاقی شخصیت کا بیڑہ غرق ہوجاتاہے ۔ ہمیشہ اپنے اخلاقی وجود کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیئے۔

About عظمیٰ عنبرین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *