Home / 2018 / اچھے رشتے

اچھے رشتے

تحریر:عظمیٰ عنبرین

بہترین شریک حیات کی خواہش ایک جائز تمنا ہے اور  اگر انتخاب کا معیار درست ہو اور فضول رسم و رواج سے بچا جائے تو نہ صرف نکاح آ سان اور بدکاری مشکل ہو جاتی ہے بلکہ آئندہ مستقل کی بنیاد بھی اچھے اور پاکیزہ  خطوط پر استوار ہوتی ہے ۔ رشتے ،شادی بیاہ ، نکاح ، صرف دو افراد کے باہمی تعلق کا نام نہیں   بلکہ یہ دو گھرانوں کے  ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کی بنیاد ہے۔شادی زندگی کا ایک ٹرننگ پوائنٹ ہوتاہے جس میں شریک حیات کا انتخاب اور اس سلسلے میں طے کیے جانے والے معیار کا قبلہ درست رہے تو ہر قدم ٹھیک منزل کی جانب بڑ ھتا ہے  لیکن اگر  رشتے کی بنیاد درست نہ ہو تو ہمارے مستقبل کا محل خواہ کتنا ہی شاندار نظر آ ئے کبھی نہ کبھی اپنے مکینوں سمیت زمین پر آ گرتا ہے اور ہماری پوری زندگی کو عبرت بنا دیتا ہے۔

بد قسمتی سے معاشرہ میں جو خود ساختہ معیار اور شرائط را ئج ہیں ان  میں دین و اخلاق کو کوئی ترجیح نہیں دی جاتی ۔عموما ہمارا معیار یہ ہوتا ہے کہ لڑکا کھاتے پیتے گھر کا ، تعلیم یافتہ ہو ،برسرروزگار ہو ،فیملی مختصر ترین ہو ،والدین اگر جنت سدھار   گئے ہوں تو بہت ہی زیادہ اچھا ہے ۔لڑکی بھی پڑھی لکھی ہو ،خوبصورت ہو ،رنگ سفید ہو ،گھر داری جانتی ہو ،امیر ہو تاکہ زیادہ جہیز لائے ۔اس بات سے کسی کو  قطعاً غرض نہیں ہوتی کہ جسے شریک حیات کے طور پر منتخب کیا جا رہا ہے ہے اسے نماز پڑھنا بھی آ تی ہے یا نہیں؟ اس کا اخلاقی معیار کیسا ہے؟گویا بحیثیت مسلما ن جو چیز زیادہ اہم ہونی چاہیے اس کا کہیں ذکر ہی نہیں؟۔ انہی وجوہات کی بنا پر شادی کے بعد گھر آ باد ہونے کی بجائے برباد ہونے لگتے ہیں جس کا مشاہدہ آج کل کثرت سے کیا جاسکتا ہے۔

یہاں سب سے پہلا اور ہم سوال ہی یہی ہے کہ اچھے رشتہ کا کیا مطلب ہے ؟کیاواقعی  دولت مند شریک حیات کا مل جانا اچھے رشتہ کے لوازمات میں شامل ہے؟ کیا واقعی حسن و جمال،بڑ ی بڑی ڈگریاں اور ہر ہنر میں یکتا ہونا اچھے رشتے کی خصوصیا ت ہیں ؟نہیں ۔ایسا ہرگز نہیں۔یہ چیزیں نہ صرف ہماری عملی زندگی میں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں  بلکہ ہمارے دین میں بھی شریک انتخاب کے معیار کے لیے ان چیزوں کو نہیں دیکھا گیا۔ہماری پہلی ترجیح تقویٰ اور خوف خدا ہونا چاہیے۔ اگر ہم معیار دین و اخلاقی حیثیت کو سامنے رکھتے ہوئے طے کریں تو ہمار ے مسئلے فورا حل ہو سکتےہیں اور ہم خود کہہ اٹھیں گے کہ اچھے رشتوں کی تلاش کوئی مشکل نہیں۔یہاں چند باتیں  بیان کرنا ضروری ہیں جو رشتہ طے کرتے وقت لازماً پیش نظر رہنی چاہیے۔

مشاورت

جہاں رشتے کا ارادہ ہے وہاں لڑکی یا لڑ کے کے کوا ئف اپنے خاندان کے معتبر افراد سے ڈسکس کریں مثلا لڑکی کی دینی حالت ،تعلیم

،گھریلو امور سے واقفیت ،عمر ،والد اور والدہ کا پروفیشن ،اہل خانہ کی نمازوں کی اور اخلاق کی حالت ۔مشاورت کریں ،سب صا حب را ئے افراد کی آرا معلوم کریں اور نیت یہ رکھیں کہ محمد صلی الله علیہ وسلم کی مشاورت والی سنت زندہ کر رہے ہیں .جہاں سنت کا اہتمام کیا جائے وہاں یقیناً الله کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔

برادری و  خاندان سے باہر رشتے

برادریاں اور قبیلے تعارف اور پہچان کے لیے ہوتےہیں ۔اصل اہمیت تقوی اور دین داری کی ہوتی ہے۔ہم جس معاشرہ میں رہ رہے ہیں یہاں  بہت سے لوگوں نے خاندانی شناخت کو تعصب بنا دیا ہے۔اسی تعصب کی بنا پر بسا اوقات عمریں زیادہ ہو جاتی ہیں اور گلہ یہ ہوتا ہے کہ اچھے رشتے ہی نہیں ملے۔حالانکہ اس کام میں دیر نہیں کرنی چاہیے ، شادی کے لیے مناسب رشتہ ملتے ہی یہ کار خیر سر انجام دینا چاہیے۔اپنی سوچ بدلیں ،پھر رشتوں کے معاملے میں پریشانی نہیں ہو گی ۔نہ لڑ کے عمر کے اس حصہ میں پہنچیں گے جہاں اپنے بچوں کا پالنا ان کے لیے ایک امتحان سے کم نہیں ہوتا نہ ہی خوب سے خوب تر کی تلاش میں لڑکیوں کے سروں میں چاندی کے تار چمکنے لگیں گے۔

فرقہ بندی کا مسئلہ

رشتوں کے حصول میں ایک رکاوٹ فرقہ بندی بھی ہے ۔ہر خاندان چاہتا ہے کہ اس کے فرقہ و مسلک کے مطابق رشتے ملیں۔اگر اپنے فرقے سے محبت میں باقی سب کو غلط اور گمراہ قرار دے دیا جائے تو پھر یہ تعصب بن جاتا ہے ۔اسی تعصب کی بنا پر لوگ دوسرے خاندانوں میں شادیاں کرنے سے کتراتے ہیں ۔ یہ سوچ اصلاح کی بجائے فساد کا با عث بنتی ہے .مسلک کے اختلاف کے باوجود اگر رشتے کر لیے جائیں تو بھی اچھے رشتے آ سا نی سے مل سکتےہیں تاہم اس بات کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ دونوں فریقین مذہب کے معاملے میں وسیع النظر ہوں۔

خود ساختہ معیار میں ترمیم

اگر معیار بہت بلند ہے ۔خوب سے خوب تر کی تلاش میں اچھوں کو گنوائے جا رہے ہیں تو پھر اچھا رشتہ ملنا بہت مشکل ہے ۔اگر معیار کچھ زمین پر لے آ ئیں تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔بہت سی ایسی مثالیں ہیں کہ مناسب شکل و صورت کی اچھی ،با اخلاق لڑ کی مل جاتی ہے یا مناسب روزگار کا حامل تعلیم یافتہ،دین دار لڑکا مل رہا ہوتا ہے۔لیکن آ ئیڈ یل کی تلاش میں عمریں بیت جاتی ہیں۔

رشتوں میں کامیابی کا گُر

حرف آ خر کے طور پر یہ یاد رکھناچاہیے کہ جب رشتے طے پا جائیں ،نکاح و رخصتی ہو جائے تو یہ بات بھی رشتوں کو

کامیاب بنانے میں اہم ہے کہ زمینی حقا ئق کو مد نظر رکھیں ممکنہ طور پر رویوں میں لچک پیدا کریں ،آ ئیڈ یل کچھ نہیں ہوتا اور کہیں نہیں ہوتا۔اس کی حیثیت محض ایک  سراب کی سی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ زوجین ایک دوسرے کی خوبیوں اور خامیوں کو قبول کرتے ہوئے ایک دوسرے کی اصلاح کی کوشش کر یں اور انسان ہونے کے ناطے ایک دوسرے کی خامیوں اور غلطیوں سے کمپرو مائز کر کے مزاج میں ہم آ ہنگی کریں۔ اگر ہم اس زمین پر آئیڈیل ہیرو/ہیروئن کے بجائے حقیقی شریک حیات کے ساتھ اچھی اور پاکیزہ زندگی بسر کریں تو یقیناً اللہ جنت  میں ہمیں ایک آئیڈیل زندگی دیں گے۔

About عظمیٰ عنبرین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *