Home / شمارہ اپریل 2017 / ایمان کی حلاوت

ایمان کی حلاوت

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صل اللہ علیہ والہ و سلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صل اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ” تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں یہ پیدا ہو جائیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا ۔ اول یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بن جائیں ، دوسرے یہ کہ وہ کسی انسان سے محض اللہ کی رضا کے لیے محبت رکھے ، تیسرے یہ کہ وہ کفر میں واپس لوٹنے کو ایسا برا جانے جیسا کہ آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے ۔ )صحیح البخاری ، باب الایمان ، حلاوة الإيمان ح: 16(

حلاوت ایمان سے مراد وہ شرح صدر ہے اور اطمینان ہے جو ایک مومن  ہی کو نصیب ہوتا ہے محض کلمہ گوئی اور زبانی اقرار رکھنے والا شخص ایمان کی اس مٹھاس سے ہمیشہ عاری رہتا ہے۔ حلاوتِ ایمان کے لیے مذکورہ حدیث میں مومِن کی تین خصلتیں یعنی عادات بیان کی گئی ہیں۔اول یہ کہ  اس کی اولین ترجیح اللہ رب العزت اور اس کے رسول کی محبت ہوتی ہے جس کا لازمی تقاضا اطاعت اور عملی تقلید کو اختیار کرنا ہے نیز اپنی تمام محبتوں  اور نفرتوں  کی اساس  اللہ ہی کی محبت کو مقرر کر لینا ہے ۔

 ایک دفعہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ایک خودسر یہودی پر غلبہ پا کر اسے قتل کر نے کا ارادہ فرمایا۔ وہ یہودی پُشت کے بل زمین پر پڑا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ اس کے سینے پر سوار تھے۔ موت کو اس قدر یقینی طور پر قریب پا کر اُس یہودی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چہرۂ مبارک پر تھوک دِیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس گستاخانہ حرکت پر انتقام کے جذبے سے مغلوب ہو کر اُسے مار ڈالنے کے بجائے یہ کہہ کر معاف کر دِیا کہ اگر میں اس حالت میں تجھے قتل کر دیتا تو یہ میرا اور تمہارا ذاتی معاملہ بن جاتا جبکہ میں ہر کام صرف اپنے اللہ کی خوشنودی اور رضا کی خاطر کرتا ہوں ۔  آپ کے ایمان کی اس خصلت  نے  اُس یہودی کا پتھر دل موم کر دیا  اور وہ فی الفور کلمۂ طیبہ کا ورد کرتے ہُوئے دین حق پر ایمان لے آیا ۔ یہی ایمان کی اس پہلی خصلت کی عملی مثال ہے۔

دوسری چیز صالحین کی صحبت اور جماعت کو مضبوطی سے پکڑنا ہے ۔اور تیسری چیز یہ ہے کہ اپنے ایمان سے کسی بھی حالت میں متزلزل نا ہو ا جاے اور اس پر ثابت قدمی سے قائم رہے ۔ صرف یہی تین صورتیں  ایمان کے اعمال پر اثر انداز ہونے کی وجہ بنتی ہیں ۔ ان کے بغیر شخصیت پر ایمان کا عملی تاثر نا ممکن ہے ۔

1۔ اللہ اور اس کے رسول سے محبت

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل ایمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کے بیٹے اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نا ہو جاؤں”( صحیح البخاری)

مثلا دنیاوی  محبتوں  میں بہت   بڑا درجہ والدین سے محبت اور ان کی  اطاعت کو دیا گیا ہے لیکن جہاں ان کا حکم  اللہ کے حکم سے ٹکرا جاے تو اللہ ہی کی اطاعت کو ترجیح دینا لازم و ملزوم ہو جاتا ہے چنانچہ تمام تر محبتوں کو اللہ ہی کی اتباع کے دائرے میں رکھنا کامل ایمان کے حصول کی شرط ہے۔

2۔ صالحین کی صحبت

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے پوچھا “قیامت کب آے گی تو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کے لیے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا : اللہ اور رسول کی محبت ، آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جس سے محبت کرتے ہو (روزِ قیامت) اسی کے ساتھ رہو گے۔(صحیح مسلم)

اللہ کے لیے اس کے نیک بندوں سے محبت اللہ ہی کی  محبت کا ایک ثمر ہے اور دنیاوی و اخروی لحاظ سے  یہ عمل غیر معمولی اہمیت کا حامِل ہے چنانچہ مومنین کے لیے یہ بھی ایمان کا ایک لازمی جز ہے اور دنیا میں بھی صالحین کی صحبت سے انسان کو نیک اعمال کی ترغیب اور آخرت کی یاد دہانی  اور تعمیرِ شخصیت کے معاملات میں مدد ملتی ہے   ،اور آخرت کی زندگی کے حوالے سے بھی قرآن میں  کئی ایک مقامات پر انسان کا انجام انہی لوگوں کے ساتھ ہونے کی خبر دی گئی ہے جن کی صحبت کا انتخاب وہ دنیا میں کرے گا۔

3۔ ایمان پر استقامت

مومنین کی تیسری خصلت اپنے ایمان کو نہایت مضبوطی کے ساتھ تھام لینا اور اس پر ثابت قدمی اختیار کرنا ہے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی  اطاعت کی راہ میں کیسی کیسی مشکلات ہی کیوں نا برداشت کرنی پڑیں ، اس کا دامن ہاتھ سے نا چھوڑا جاے ۔ انبیاء اور اصحاب کی زندگیاں اس کا بہترین نمونہ پیش کرتی ہیں ۔ اللہ کے پیغمبر یوسف علیہ سلام نے ہر طرح کی مشکلات حتی کے قید و بند کی صعوبتوں کو ایک طویل عرصہ تک برداشت کیا لیکن اطاعتِ خداوندی پر نہایت صبر کے ساتھ قائم رہے ۔

About امِ مریم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *