Home / شمارہ نومبر 2017 / *”ایکسٹرا شیٹ”*

*”ایکسٹرا شیٹ”*

زمانہ طالب علمی میں تقریبًا ہر ایک کو ایکسٹرا شیٹ کا تقاضا کرنا پڑتا ہے. یہ مطالبہ یا تو ضروری سوالات کے جوابات طویل ہونے کی بنا پر کیا جاتا ہے یا پھر بعض طلبا اپنی دانست میں کچھ ایکسٹرا سوالات مرتب کرنے کیلئے کرتے ہیں تا کہ نمبرز میں کوئی کمی رہ جائے تو  یہاں سے پوری ہو جائے۔ ایکسڑا شیٹس وصول کرنے والے طلبا کو عمومًا بہت لائق فائق اور پڑھاکو ٹائپ مخلوق تصور کر کے ساتھی طلبا اسکے کامیاب ہونے کی پیشگوئی بھی کر دیتے ہیں۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ ممتحن غیر ضروری سوالات کے حل کو نظر انداز کر کے پیپر کے شروع میں حل شدہ ضروری سوالات کی حد تک خود کو محدود رکھتا ہے۔نتیجتاً  رزلٹ ہمیشہ پیشگوئی یا توقعات کے برعکس سامنے آتا ہے۔ دورانِ امتحان جب تک پرچہ آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے ،اپنی کامیابی یا ناکامی آپ پر منحصر ہوتی ہے۔یہ ہاتھ سے نکل جائے تو پھر بعد میں کفِ افسوس ملنے پر بھی رزلٹ کارڈ پر “Fail” کو “Pass” میں بدلنا ممکن نہیں رہتا۔ تب ایک احساس باقی رہ جاتا ہے کہ کاش صرف ضروری سوالات ہی صحیح طریقے سے حل کر لئے ہوتے۔

اب ذرا حقیقی دارالامتحان میں خود کو رکھ کر سوچیئے۔یہ واحد امتحان ہے جس کے تمام ضروری سوالات کا حل ہم تک مصدقہ ذریعے سے پہنچا دیا گیا ہے لیکن ہم ضروری سوالات کو چھوڑ کر “ایکسٹرا شیٹس” کو بھرنے میں مصروف ہیں۔”فرائض” کو چھوڑ کر “نوافل” کے ذریعے آخرت کی کامیابی کو ممکن بنانا چاہتے ہیں۔ کلمہ ایمان کے بعد نماز , روزہ, حج, زکٰوة بنیادی فرائض ہیں۔

 سب سے پہلے تو نماز ہی کا سوال کیا جائےگا۔ جس کی نماز صحیح نکل آئی پھر باقی معاملات اسکے لئے شاید آسان کر دیئے جائیں۔ ہم پانچ وقت کی “فرض” عبادت کو نظرانداز کر کے چند مخصوص راتوں کی “نفلی” عبادت کو ثواب و نجات پانے کا ذریعہ مان بیٹھے ہیں۔ہمارے پرچہ کا وہ ضروری سوال جس کو لازمی حل کرنا ہے وہ فرض نماز کو صحیح طریقے سے مکمل آداب کے ساتھ قائم کرنا ہے۔”نفلی عبادات” آپ کے درجات کی بلندی کا باعث ہیں جبکہ “فرض عبادات” پر ہماری نجات منحصر ہے۔ جب ہمارے پاس “جنت کی کُنجی” ہی نہ ہو گی تو درجات کی بلندی چہ معنی۔

آج نمازی بھی کثرت میں نظر آتے ہیں۔لیکن سورة واقعہ میں ارشادِ ربّانی ہے کہ پچھلوں میں سے بہت کم لوگ جنّت میں داخل ہونگے۔مطلب ہماری نمازوں میں ہی کمی ہے جو ہمیں  حساب کتاب کے پہلے مرحلے میں ہی ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اپنی نمازوں سے غفلت برتنے والوں کو تباہی کی وعید دی گئی ہے۔ اور بہت سے نمازی ایسے ہیں جن کی نمازوں کو ان کے مُنہ پر مار دیا جائیگا۔قرآن میں نماز کو “ادا” کرنے کی بجائے “قائم” کرنے کا حکم ملا ہے وہ بھی بغیر سُستی کے وقت پر….. جبکہ ہماری اکثریت تو نماز کو بس “پڑھنے” کی عادی ہے۔

اسی طرح معاملہ باقی فرائض کا ہے۔ ہم جیسے تیسے انہیں بس پورا کرتے ہیں۔ روزے رکھے لیکن بغیر اسکی روح کو پائے۔ جس تقویٰ کے حصُول کیلئے اللہ نے یہ عبادت فرض کی وہ تو بس وقتی کیفیت تھی جو عید کا اعلان سنتے ہی بھاپ بن کر اُڑ گئی. حج اور زکٰوة کا حال بھی نماز روزے سے مختلف نہیں۔ یہ تو بیان ہے ضروری سوالات کا…. ان کو ٹھیک سے حل کریں ، خود کو پاسنگ مارکس لینے کے قابل تو بنائیں۔ اس کے بعد جتنی چاہیں نفلی عبادات کرتے رہیں،خدمتِ خلق کا راستہ اپنائیں، دعوتِ حق کو اپنا شعار بنائیں، چھوٹی بڑی لاتعداد نیکیاں کرتے جائیں اور اپنی “ایکسٹرا شیٹس” کو بھرتے جائیں۔ کیونکہ اللہ تو بے حساب اجر دینے والا ہے ،اسکے ہاں تو انسان کا معمولی عمل بھی رائیگاں نہیں جاتا۔

پرچہ ابھی ہاتھ میں ہے۔ مہلتِ زندگی کب تک میسّر ہے ،اسکا علم نہیں۔سو جو فرض ہے اس کی مکمل طریقے سے ادائیگی کو ممکن بنائیے تا کہ کل کو “کاش!صرف ایکسٹرا پر انحصار کی بجائے پہلے ضروری سوالات ہی صحیح طریقے سے حل کر لئے ہوتے” جیسی حسرت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اور حسرت بھی ابدی…. گھاٹے کا سودا۔

About سحرشاہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *