Home / شمارہ جون 2018 / ایک گمنام ڈاکٹر کی ڈائری سے انتخاب

ایک گمنام ڈاکٹر کی ڈائری سے انتخاب

تحریر:ڈاکٹر سبا ارشد

تھکے ہارےشب و روز کی المناک داستان۔۔۔

سوا سات بجے موبائل نے اچھل اچھل کر بجنا شروع کیا تو مندی مندی آنکھوں سے میں نے “ٹین منٹ لیٹر” پر انگلی ماری اور پھر ٹن ہو گئی ،دس منٹ دس سیکنڈ ثابت ہوئے ،میں نے پہلی حرکت دہرائی ، ساتھ ہی حسب معمول ان لمحات کو ،اس وقت کو کوسا جب اٹھلا کر کہا تھا “میں ڈاکٹر بنوں گی “۔زندگی کا چین و قرار تو اسی دن لٹ گیا تھا ۔۔ اب کوئی فلسفہ عشق اس بےقراری کا مقابلہ نہ کر سکتا تھا ، یہی سوچتے سوچتے الارم کا تین چار دفعہ گلا گھونٹا ۔

ایک دم وٹس ایپ گروپ میں گھومتے سینئرز کے میسج نظروں کے سامنے آنے لگے کہ CMOs نو سے نو وقت کو فالو نہیں کر رہے آئندہ جو لیٹ ہو گیا اس کا میمو نکلنے والا ہے۔  اس خیال کے آتے ہی میری مندی مندی آنکھیں ایک جھٹکے سے کھل گئیں گھڑی کی سوئیاں آٹھ بجا رہی تھیں اس کے بعد اسپیڈ میں، میں نے فراری اور مائکل شومیکر کو پیچھے چھوڑ دیا اور نو بجے انگوٹھا سینسر پر چھاپ کر اپنی حاضری یقینی بنائی ۔

شکر ہے گوا صاحب تشریف نہیں لائے تھے۔ گوا صاحب پروفیسر ڈاکٹر ہیں اور ہماری ایمرجنسی کے ایچ او ڈی ہوتے ہیں ۔

گذشتہ دن جب سوا نو بجے ہم نے ایمرجنسی میں قدم دھرا تھا تو وہ باقاعدہ استقبال کے لیے بنفس نفیس کھڑے تھے ۔ ہم نے چوری چوری سائیڈ سے نکلنا چاہا لیکن ان کی تیز نگاہوں سے بچنا کہاں ممکن تھا انہوں نے انگلی کے اشارے سے بلایا “ادھر آؤ ذرا” اور ہم کھسیانی ہنسی روکتے تشریف لائے۔” گھڑی دیکھو کیا وقت ہو رہا ہے بتاؤ۔” انہوں نے اپنی کلائی آگے کی۔ ” جی سر سوا نو ہو رہے ہیں۔”

ہم نے ڈھٹائی سے جواب دیا۔ “اتنی دیر کیوں؟ ” “سر وہ ٹریفک میں ۔۔۔ ” ہم نے معروف اور گھسا پٹا بہانہ کر نا چاہا ۔

“ڈیوٹی کہاں ہے تمہاری؟” انہوں نے خونخوار انداز میں پوچھا ۔ ” NNR”

جاؤ فوراً جاؤ وہاں ۔ اور ہم دم پر پاؤں رکھ کر دوڑے ۔۔

گوا صاحب کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن سے ہونے والی “بستی”،” بستی” محسوس نہیں ہوتی ، بلکہ مزہ آتا ہے اور بندہ خوشی خوشی کرا لیتا۔ان کی زندگی کا ماٹو یہ ہے کہ چھٹی اور دیر سے آنے کی بات کے علاوہ مجھ سے ہر بات کی جاسکتی ہے ۔

میں نے بھی خوشی خوشی NNR میں قدم دھرا اور اگلے ہی لمحے میرے پیروں تلے زمین نکل گئی ساری خوشی کافور ہو گئی ۔سات آٹھ ننھے منے ببلو زندگی کی بے اعتنائی پر اظہار افسوس کر رہے تھے جن میں دو ایک ہاتھ سے پمپ کر رہے تھے اور وینٹی لیٹر خالی ہونے کے منتظر تھے ایک طرف رات کی ڈیوٹی والی ڈاکٹر چہرے پر تھکن اور بیزاری سجائے بیتی رات کا دردناک فسانہ سنا رہی تھی۔ہم نے ٹوٹے دل سے اوور لیا  اور ان ننھے ننھے ببلوؤں کا معائنہ کیا ۔ اچھے اچھے ببلوؤں سے لاڈ کیا ان کے بال سہلائے گال پر چٹکیاں کاٹی اور پیٹ پر گدگدی کی جبکہ گندے گندے ببلوؤں پر غور و خوض شروع کیا ۔اب اچھے ببلو اور گندے ببلو کون ہوتے ۔ اچھے ببلو وہ ہوتے جو اچھی حالت میں ہوتے اور جن کی بیماری ریکور ہونے کے چانسس ہائی ہوتے جب کہ گندے ببلو وہ ہوتے جو موت و زیست کی جنگ میں شکست کی طرف گامزن ہوتے۔ ایک ڈاکٹر کی زندگی میں روز کا معمول یہی ہے ۔  کچھ فیصلے سخت دلی سے ایسے کرنے پڑتے ہیں جو وقتی دکھ کا باعث ضرور ہوتے لیکن آگے جا کر بہتری اسی میں ہوتی  ہے۔خیر ۔۔ صبح کی اسٹاف نے میری شکل دیکھ کر برا سا منہ بنایا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ بقول اس کے۔ “نہ خود چین نل بیندی اے نہ سانو بین دیندی اے۔”

بھوری آنکھوں اور بھورے بالوں والی وہ اسٹاف ویسے ہی اتنی خوبصورت تھی اوپر سے میک اپ اور نک سک سے رہ کر پوری قاتل حسینہ بن جاتی تھی ۔ میں اسے پیار سے حسینہ ہی کہتی ہوں ۔ اسے دیکھ کر میں نے اپنے اجڑے چمن جیسے حلیہ پر نظر ڈالی جو اتنا ہی سنورا ہوا تھا جتنا بیس منٹ میں بھاگ دوڑ کر سنوارا جا سکتا تھا ۔ احساس کمتری سے سوچا یار ڈاکٹر تو وہ لگ رہی ۔  لیکن اگلے ہی لمحے پورے اطمینان سے یہ خیال ریجیکٹ کر دیا بیٹا اسٹیتھ تیرے گلے میں ہے اور یونیفارم میں وہ ہے لہذا ڈاکٹر تو تو ہی ہے ۔

تھوڑی دیر بعد گوا صاحب بطور کنسلٹنٹ راؤنڈ کرنے تشریف لائے تو ہم ہائی الرٹ ہو گئے ان کے جلو میں دو تین مزید ٹرینی ڈاکٹر بھی تھے جنہیں وہ راستے میں سے سمیٹتے ہوئے آئے تھے ۔اس جلو کو دیکھ کر مجھے اطمینان ہوا کیونکہ بےعزتی اگر اجتماعی ہو تو اس کی تاثیر کم ہو جاتی ہے۔ جب کنسلٹنٹ راؤنڈ پر آتا ہے تو ٹرینی ڈاکٹر “بستی”سہنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے ۔ کنسلٹنٹ تمسخر اڑا کر بہت خوش ہوتے ہیں ۔دراصل ایک کامیاب کنسلٹنٹ نے خود اپنی ٹریننگ کے دوران کافی بستی سہی ہوتی ہے لہذا وہ اپنے بدلے لینے ضروری سمجھتا ہے ۔  لیکن جیسا کہ میں عرض کر چکی کہ گوا صاحب کی بےعزتی مجھے بےعزتی محسوس نہیں ہوتی بڑی میٹھی ہوتی ہے جو آرام سے ہضم ہو جاتی ہے۔ لہٰذا اس بستی کا سب مزہ لیتے ہیں ۔ اس میں پیش پیش ڈاکٹر پٹاخہ ہوتی ہے۔ ڈاکٹر پٹاخہ کا نام پٹاخہ میری ایک عزیز ڈاکٹر دوست نے تجویز کیا ۔ جب گوا صاحب حیرت سے طنز کرتے کہ تمہیں یہ بات پتا ہی نہیں ۔تو وہ پوری اطمینان سے کہتی ۔۔ “سر آپ نے بتایا ہی نہیں تو کیسے پتا ہو ۔” “تمہیں یہ نہیں آتا ۔”  “سر آپ سکھائیں گے تو آئے گا نا ۔” اور گوا صاحب ہنس دیتے ہیں۔

ڈاکٹر پٹاخہ بھی ایک مزے کا کردار ہے ویسے تو زیادہ تر لوگ اس کی پٹاخہ فطرت سے چڑتے لیکن میری اس کے ساتھ جلدی سیٹنگ ہو گئی ۔میری طرح وہ بھی نائٹ میں بچوں کے جھولے پر قبضہ جمانے کی شوقین ہے وہ اکثر پوچھتی کہ تیری نائٹ کب ہے اور پھر اپنے ساتھ میچ کرتی ہے رات ڈھائی تین بچے ہم زندگی کی بےثباتی پر اظہار افسوس کرتے ایمرجنسی کے پچھلے دروازے سے بچوں کے پارک میں قدم رکھ دیتے ہیں ۔ پینگ جھولے پر بیٹھ کر زندگی کے فلسفوں پر غور کرتے ہیں پٹاخہ کا فیورٹ موضوع شادی ہے وہ اس حوالے سے اپنی عالمانہ فاضلانہ اور تجربات پر مشتمل انتہائی عمدہ گفتگو کرتی ہے جن سے میں تہہ دل سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہوں اس ٹائم وہ پٹاخے سے زیادہ ایک عظیم فلسفی محسوس ہوتی ہے رات کی تاریکی میں درخت بلاؤں کا روپ پیش کر رہے ہوتے اور جھولوں کی چر چر سناٹے میں کسی آسیب کا تاثر دیتی ہے اس کے بعد ہم افسوس کا اظہار کرتے واپس چل دیتے ہیں ۔

خیر بات ہورہی تھی گوا صاحب کی ۔ راؤنڈ میں وہ سب کی قابلیت کے امتحان لیتے رہے اور ہم اطمینان سے فیل ہوتے رہے اور وہ تاسف سے اپنی ٹیم کی نالائقی پر افسوس کرتے رہے ۔۔خیر ان کو چونا لگا کر دو چار بچے ایڈمٹ کرا کے اور نرسری میں شفٹ کرا کے چائے سموسے ٹھونسنے کا پلان بنا۔ ایک ڈاکٹر کا دوران ڈیوٹی پٹرول چائے ہوتی ہے ۔وہ چلتا ہی چائے سے ہے۔

ہر گھڑی دو گھڑی کے بعد اسے چائے کی طلب کسی نشے کی طرح ہوتی ہے اور پٹھان کے ہوٹل کی کڑک دودھ پتی کا آرڈر دیا جاتا ہے ۔ کچھ ڈاکٹر دو گھونٹ چائے میں فریش ہو جاتے لیکن مجھے جب تک پورا مگ نہیں ملتا میں ٹن رہتی ۔ایمرجنسی میں ڈاکٹر کی سب سے بڑی خوشی پیشنٹ کا کم ہونا ہوتا ہے ۔ وہ پہلی فرصت میں مریضوں کو ایڈمٹ کروا وارڈ شفٹ کراتے ہیں یا ڈسچارج کرتے ہیں اس میں سب سے زیادہ تسکین اور خوشی پیشنٹ کو “لاما” کر کے ملتی ہے ۔ جب پیشنٹ کہتاہے ہم آغا خان لے کر جائیں گے یا لیاقت لے کر جائیں گے تو ڈاکٹر انتہائی سنجیدگی طاری کر کے تمام مثبت اور منفی عوامل سے آگاہ کرتا ہے لیکن اندر سے اس کا دل اچھل اچھل کر رقص کرنے لگتا ہے ۔

لاما کی اصطلاح شاید ہی آپ نے سنی ہو ۔ اس کا مطلب ہوتا ہے ۔ لیفٹ اگینسٹ میڈیکل ایڈوائس ۔۔ایمرجنسی کا ایک عجیب ماحول ہوتا ہے ایمرجنسی میں پوسٹ ڈاکٹر ایمرجنسی خالی رکھنے کے تمام ہتھکنڈے آزماتا ہے جو درج بالا مذکور ہیں

لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے پیشنٹ کا آنا اور جانا ڈائریکٹلی پروپورشنل ہوتا ہے ۔ جتنے جاتے ہیں اس سے دگنے آتے ہیں  اور ڈاکٹر نو بجنے تک اپنے سارے جوڑ گوڈے اور گٹے گنوا بیٹھتا ہے ۔ ریلیور ڈاکٹر کو دیکھتے ہی دل بلیوں اچھلنا شروع کر دیتا ہے  اور وہ پہلے فرصت میں پیشنٹس کا اوور دے کر راہ فرار اختیار کرتا ہے  اور گھوڑے گدھے بلکہ پورا جنگل بیچ کر سو جاتا ہے کہ اگلے دن پھر الارم پر کئی دفعہ انگلی بجانی ہوتی ہے اور اپنی قسمت کو کوسنا ہوتا ہے ۔

About سبا ارشد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *