Home / شمارہ جون 2018 / ایک یادگار افطاری

ایک یادگار افطاری

تحریر:ابن ریاض

رمضان کا سارا مہینہ اور تمام وقت ہی سعادتوں اور برکتوں سے معمور ہوتا ہے مگر افطاری کی تو بات ہی جدا ہے۔ دنیوی سعادتوں کے علاوہ انواع و اقسام کے پکوان روزے کی ساری تھکن دور کر دیتے ہیں۔ بعض لوگ تو روزہ رکھتےہی افطاری کے لیے ہیں اور جو کسی وجہ سے روزہ نہیں رکھ پاتے وہ بھی افطاری کو حتٰی الامکان افطاری کی قضا سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ بعضے تو روزہ داروں سے بھی زیادہ کھاتے ہیں گویا کہ آٹھ پہرہ روزہ رکھا ہو۔

ہمیں بھی افطاری بہت مرغوب ہے اور مزید مرغوب ہو جاتی ہے اگر وہ کسی اور کے ہاں ہو۔ چند دن پہلے لودھی نے بعض دوستوں کے ہمراہ ہمارے ہاں افطاری کا پروگرام بنایا جسے ہم نے انتہائی ہوشیاری سے بعض ناگزیر وجوہات کی بناء پر رد کر دیا اور لودھی کے علاقے میں افطاری کی تجویز بھی پیش کر دی۔ ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ سارا خرچہ سب ہمارے ذمہ ہو گا۔ یہ ہمارا ارادہ نہ تھا بلکہ اس کا مقصد صرف لودھی کے شاہی خون کو یہ جوش دلانا تھا کہ میزبان ہونے کے ناطے اخراجات برداشت کرنا اسی کی ذمہ داری ہے۔

تا ہم وہ لودھی ہی کیا جو ایسی باتوں میں آ جائے۔مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق جناب نے کسی طور تنزیل عرف تانی کو راضی کر لیا میزبان بننے پر اور متعلقہ افراد کو مطلع کر دیا۔اب تانی کے ساتھ ہمارا وٹہ سٹہ کا معاملہ ہے۔ کبھی تانی ہمیں اپنے ہاں دعوت پر بلا لیتا ہے اور کبھی ہم اس کے ہاں چلے جاتے ہیں دعوت کھانے۔  ہم نے مہمانوں کا پوچھا تو لودھی ٹال گیا کہ وہاں جا کے مل لینا۔

الغرض  14 اگست کی شام پانچ شیر گھر سے نکلے کرنے چلے شکار(یہ تعداد ہمیں بعد میں معلوم ہوئی اور اس میں میرے علاوہ لودھی، منان، خضر اور نیلا چاند شامل تھے) اور ہمارا شکار تانی کی افطاری تھی۔ہم چوں کہ  کھانے کو جنگ سمجھتے ہیں تو افطاری کی دعوت ملتے ہی بھوک رکھ کر کھانا شروع کر دیا تھا کہ تانی کے ہاں کچھ بچ نہ پائے۔ بالفرض کچھ بچ جاتا تو اسے قیدی بنانے کی غرض سے کافی ساری جیبوں والی شلوار قمیص زیبِ تن کی۔

افطاری کا ٹائم سات بجے تھا مگر ہم ساڑھے چھ بجے تانی کے سر پر تھے۔ وہ کبھی ہمیں دیکھتا اور کبھی گھڑی کو اور ایک ہلکی سی آہ بھرتا۔ غالبًا اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ راولپنڈی کی ساری یو ایف لودھی اکٹھی کر لائے گا۔

خیر مہمانوں نے تو وقت گزاری کے لئے گپ شپ شروع کر دی اور تانی بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گیا مگر ہوں ہاں سے زیادہ کچھ نہ بولا۔ تا ہم باقی کافی چہک رہے تھے۔ اسی گپ شپ میں افطاری کا وقت ہو گیا اور لوگ کھانے پر لپکے۔

ہم نے ابتداء کھجور سے کی اور آدھ درجن کھجوریں نوشِ جان کیں کہ سارے دن کی کمزوری کا کچھ تو ازالہ ہو۔ پھر تین گلاس شربت  رگِ جان میں اتارے کہ زبان و جسم کی خشکی کا کسی قدر ازالہ ہو پائے۔ پکوڑوں کے بغیر افطاری کیا افطاری ہوتی ہے؟ اب ہم پکوڑوں پر حملہ آور ہوئے اور جتنے نظر پڑے ہمارے ہاتھوں شہید ہوئے۔ پھر ہم نے فروٹ چارٹ پر نظرِ کرم کی اور خوب لطف اندوز ہوئے۔ یہاں ہم یہ وضاحت کرتے چلیں کہ ہم نے کسی دوسرے ساتھی کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا کہ اس سے کھانے میں خلل واقع ہوتا ہے اور ہمارے نزدیک یہ کھانے کی بے ادبی ہے کہ اس کی موجودگی میں آپ کسی اور کی سمت دیکھیں خواہ وہ محبوب ہی کیوں نہ ہو۔ تا ہم جتنا ہم اپنے ساتھیوں کو جانتے ہیں یہ بات باوثوق ہے کہ ان کا حملہ بھی اگر ہم سے بہتر نہ ہوا تو کم نہ ہو گا۔ اسی دوران مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا۔

عین کھانے میں اگر آ گیا وقتِ نماز

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے لودھی و ریاض

چند منٹ کے آرام کے بعد معدہ ایک بار پھر تروتازہ اور نئی مسافتوں کے لئے تازہ دم تھا۔ سو اس بار نگاہِ کرم ہمارے پسندیدہ کھانے یعنی چاولوں کی جانب گئی۔ ساتھ والے ڈونگے میں گوشت  میں ہمیں کچھ سبز سبز نظر آیا اور ہمارا کلیجہ ہمارے منہ میں آ گیا۔ پچھلی بار والی دعوت بے اختیار یاد آئی جس کی واحد چیز جو ہمارے ذہن میں تھی وہ مرچیں ہی تھیں۔ ہمارا دل دھک دھک کرنے لگا اور ہمارا ماتھا پسینے سے شرابور ہو گیا۔ لودھی نے ہماری حالت دیکھی تو تسلی دی کہ پریشان نہ ہو یہ مرچیں نہیں بلکہ دھنیا ہے۔ میں پہلے ہی دو پلیٹیں کھا چکا ہوں۔ اس میں آج اتنی مرچیں نہیں ہیں۔ یہ سن کر ہماری جان میں جان آئی اور ہم نے بھی چاولوں کو گوشت سے ڈھک لیا اور تناول کرنے لگے ۔ کھانے میں پلیٹیں گننا کبھی ہماری عادت نہیں رہی ہاں جب معدے نے دست بستہ عرض کی کہ جناب مجھ ناچیز پر رحم فرمائیں تو ہم چند ساعتوں کے لئے رک گئے۔ ابھی میٹھا ہماری نظروں کے سامنے تھا اور معدہ ہمیں انتظار کی درخواست دے رہا تھا اور ہمیں کسی نہ کسی طرح یہ گھڑیاں بتانی تھیں۔

تقریبًا تمام ہی لوگ سیرِ شکم ہو چکے تھے- اب لودھی کے زرخیز دماغ نے یہ خیال آیا کہ کیوں نہ ہر شخص کچھ نہ کچھ نظم، غزل، لطیفہ یا کوئی اقوالِ زریں سنائے تا کہ معدہ کھانے کو ہضم کر کے مزید کا راستہ بنائے- ہم نے فیض احمد فراز کی مشہور غزل “اب کے تجدیدِ وفا کا نہین امکاں جاناں” اور ” مجھ سے پہلی سی محبت” تحت اللفظ میں سنائی- پھر منان نے ابنِ انشاء کی نظم پڑھی” چل انشاء اپنے گاؤں میں” جو ہمیں بہت پسند آئی- اب لودھی کی باری آئی تو جناب نے ” ساڈا چڑیاں دا چنبہ اے اساں اڈ جاناں اے” گا کر پروین شاکر کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ بلیو مون نے اپنے “معیاری” لطیفوں سے محفل کو گرمایا۔ خضر نے اپنا لیکچر سنانا شروع کر دیا جس پر سب کے پر زور اصرار پر انھیں اسے مختصر کرنا پڑا- تانی نے اپنے دل کے پھپھولے “جب سے بیگم نے مجھے مرغا بنا رکھا ہے” سنا کر پھوڑے۔اس محفل کے بعد سب نے میٹھا کھایا اور خضر نے اپنا لیکچر مختصر ہونے کا بدلہ میٹھے کا پورا ڈونگا تنہا چٹ کر کے لیا۔

باقیوں نے دوسرے ڈونگے پر اکتفا کیا۔ اس کے بعد ہم نے اجازت چاہی۔  تانی نے ہمیں بخوشی اجازت دی کہ ابھی انھوں نے تراویح سے پہلے برتن بھی دھونے تھے۔ یوں یہ افطاری اپنے اختتام کو پہنچی۔

About ابنِ ریاض

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *