Home / شمارہ نومبر 2017 / اے غافل دل ہوش کر اور رب کی اطاعت میں لگ جا

اے غافل دل ہوش کر اور رب کی اطاعت میں لگ جا

غفلت اصل میں ہے کیا ؟یہ کسی کام کا ارادہ نہ کرنااور  نہ ہی کسی اچھے کام میں دل لگنا ۔ غفلت ایک بیماری ہے  دل و دماغ کو بیمار کرتی ہے۔  جس سے آگاہی ضروری ہے تا کہ تطہیر قلب ہو ۔جب ہمیں  کسی بھی نیکی کے کام کی رغبت نہ ہو تو اپنے دل کی خبر لیجئے کہیں  یہ بھٹک یا بہک تو نہیں گیا۔اس سے پہلے کہ یہ مکمل  سیاہ ہو جائے۔ آپ کی بےخبری اسے  ایمان کی سخت آزمائش مبتلا کر گئی تو مصیبت بن جائے گی۔ اس لئے کہ  کامل اور درست ایمان ہی ہے جو آپ کو طاقت دیتا ہے ۔نیکی کی بھی ، زندگی کو بہتر کرنے کی اور حق اور باطل کی پہچان کی ۔اس میں شیطان نے خطرناک حملہ کر دیا تو اس سے بچنے کو اپنی روحانی طاقت مضبوط کرنا ہوگا ، محنت کرنا ہو گی رجوع الی اللہ لازمی ہے۔  اگر نفس کو غفلت سے پاک کر لیا تو  اخروی فلاح  مقدر بنے گی، ورنہ  دونوں جہان میں بھٹکنا  نصیب ہے ۔اس لئے اے غافل انسان !ہوش کر اللہ کی اطاعت اور تقوٰی ہی غفلت سے نکال بھی سکتا اور بچا بھی سکتا ہے ۔

سورۃ الاعراف میں اللہ تعالی فرماتے ہیں :

وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ (179)

بہت سے ایسے جن اور انسان ہیں جنہیں ہم نے جہنم کے لیے ہی پیدا کیا ہے۔ ان کے دل تو ہیں مگر ان سے  سمجھتے نہیں اور آنکھیں ہیں لیکن ان سے دیکھتے نہیں اور کان ہیں لیکن ان سے سنتے نہیں۔ ایسے لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے  اور یہی لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

مسلمان کی غفلت یہ ہے کہ وہ نیک کاموں سے غافل ہو جاتا ہے۔ اگر مسلمان ایسا کرتا ہے تو اس کے  لئے اللہ  تعالیٰ  کی طرف سے یہ سزا تحریر ہے۔ جو تباہی کے دہانے کی طرف لے جاتی ہےسورۃ الحشر میں فرماتے ہیں :

وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ أُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (19)

اور ان لوگوں کی طرح مت ہو جانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ تعالی نے انہیں ان کا اپنا نفس  ہی بھلا دیا ، یہی لوگ فاسق ہیں۔

قرآن کی چند مزید سورتوں میں بھی ان کو مزید واضح کیا گیا مثلاً سورۃ التوبہ:67،الکھف :28 وغیرہ

غفلت  انسان  کو بے خبر کر کے دنیاکی رنگنیوں کے نشہ میں مبتلا کرتی ہے۔ اس کی چکاچوند  انسانی  اعمال کو حسنات سے  سیئات میں مبتلا کرتی ہے۔  جب کہ قرآن کا واضح حکم ہے کہ سیئات سے حسنات کی طرف آؤ!

نفس کی طولانی آرزوئیں انسان کو دنیا وی فکروں کی طرف مشغول کرتی ہیں اور الجھاتی ہیں   اور اس کی توجہ اصل مقصد سے ہٹاتی ہیں۔مومن مسلمان  لہو و لعب  اور بہیودہ فضول باتوں سے بچتا ہے۔  لیکن یہ تمنائیں اس  کو خواب غفلت میں رکھتی  اس کو خدا فراموش بناتی ہیں ۔دائمی غفلت انسان کو بصیرت سے محروم کرتی ہے۔ اعمال  بے کار کرتی ہیں اور جس کے اعمال برباد، اس کا ہاتھ آخرت کے دن خالی  ۔قرآن ہمیں بار بار اس اس سے بچنے کی نصیحت کرتا ہے  میزان میں اپنے اعمال ایسے کرو کہ حسنات اتنے ہوں کہ سیئات کو مٹا دیں ان کا بوجھ  ہلکا کر دیں سورۃ الاعراف میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (8)

وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوا بِآيَاتِنَا يَظْلِمُونَ (9)

سورہ الاعراف میں اللہ تعالی اپنے بندوں کو غفلت سے بچنے کا علاج بھی خود ہی بتاتے ہیں کہ وہ اس سے کس طرح محفوظ کیسے سکتے ہیں۔

وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ (205)

اور اپنے پروردگار کو صبح و شام دل ہی دل میں عاجزی، خوف کے ساتھ اور دھیمی آواز سے یاد کیا کیجئے اور ان لوگوں سے نہ ہو جائیے جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ۔

اور ہوائے ہوس والا دل سے بچنے کو ایسی صحبت سے بھی گریز کرنا ہے سورۃ الکھف میں اللہ فرماتے ہیں :

وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ۔(28)

اور تو اس شخص کی اطاعت بھی نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی ہوائے نفس کی پیروی کرتا ہے۔

دل کی غفلت ہی گناہوں کا سبب ہے اس کا ذکر بھی قرآن میں اللہ تعالی  (سورۃ مومنون :63 )نے کیا ۔نفس امارہ کی برائی سے دل  کو محفوظ رکھ  کر انسان اپنی عاقبت بہتر کر سکتا ہے۔

الحج :46میں بھی مذکور ہے ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتی دل اندھے ہوتے ہیں۔ بصارت اور بصیرت کے ساتھ سمجھناچاہئے اور دل کی دنیا اللہ کے ذکر سے آباد رکھ کر سکون کی کیفیت حصول کے لیے ریاضت ضروری ہے اس کے لئے اس دنیا ہی میں رہ کر کانٹوں سے بچنا  ہے۔جس کی طرف حضرت عمر فاروق اور کعب الاحبار نے تقوی  کے مفہوم میں اشارہ کیا تھا ۔

دنیا پرست بننے کی بجائے اللہ پرست بننا اور اس کے ذکر میں اس کے بندوں کی اخلاص  سے کسی بھی طرز کی  مدد اصل میں انسان کا خود پر ہی احسان ہے جو اسے قیامت کے دن اس کے سامنے  شرمندگی سے محفوظ رکھے گا۔ اس لئے جُت جانا  چاہئے اپنے دائمی انجام کی فکر کو۔ ان کاموں میں دل لگانے کو تدبر کیجئے۔ کون سے کام دل مطمئن کر کے حسنات کی طرف لے جاتے ہیں۔ اپنے قدوم/قدموں  کو  فاستبقوا لخیرات  کی مثال بنانا ہے اور اس غفلت کی دنیا سے جاگنا ہے۔ بدبختی کی بجائے خوش بختی کی طرف آنا ہے۔   تبھی اس شیطان اور اس کے حربوں پر غالب آ کر اسے مغلوب کر سکیں گے ۔ آخر میں دعا ہے کہ میراغفلت میں ڈوبا دل بدل دے ،بدل دے دل کی دنیا ، دل بدل دے ۔

نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں :

«يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى طَاعَتِكَ»

مسند احمد:مسند ابی ہریرہ،ص:15/245،حدیث نمبر:9420

«يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ»

سنن ترمذی،بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ القُلُوبَ بَيْنَ أُصْبُعَيِ الرَّحْمَنِ،حدیث نمبر:2140

قرآن اسی مفہوم کو اس طرح بیان کیا :

ربنا لاتزغ قلوبنا بعد ازھدیتنا

About ڈاکٹر آسیہ رشید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *