Home / شمارہ اگست 2018 / بدھا کےدیس میں (قسط نمبر1 )۔

بدھا کےدیس میں (قسط نمبر1 )۔

سفرنامہ

تحریر:راعنہ نقی سید

                                  گرمیوں کی چھٹیاں شروع  ہوتے ہی کسی اچھی سی جگہ پر تعطیلات گزارنے کی خواہش ہماری فیملی کے دل میں کلبلانے لگی۔سعودی عرب کے صحرائی ماحول سے دور کسی  سر سبز اور ٹھنڈے ملک کا انتخاب  ہم سب کی اولین ترجیح تھی جو زیادہ دور بھی نہ ہو۔ ترکی کافی عرصے سے سب گھر والوں کی ہٹ لسٹ میں تھا۔سفر کی ضروری کاروائی پر معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ ترکی  کے ویزا کے حصول میں کافی وقت درکار ہے۔ جبکہ ہم سب ہر صورت میں عید کہیں ریاض سے  باہرگزارنا چاہتے تھے۔  دوبارہ  تلاش شروع ہوئی۔ انٹر نیٹ  اور دوستوں سے معلومات   لینے کے بعد قرعہ فال سری لنکا کے نام کا نکلا۔دو تین دن کے اندر ہمیں ای-ویزا ایشو کر دیا گیا۔ایک دفعہ پھر انٹرنیٹ پر سری لنکا کے لئے تمام ٹور پیکجز کو کھنگالنا شروع کیا۔  وہاں کے تمام قابل دید مقامات اور  گوگل میپ کو دیکھنے کے بعد ایک پیکج کا انتخاب کیا، اپنی مہم جو فطرت کے مطابق اس میں کچھ تبدیلیاں کروائیں ۔جون کے قدرے مرطوب موسم کو دیکھتے ہوئے آثار قدیمہ کا  انتخاب کرنے سے گریز کیا ۔ اس کے بعد  زور شور سے وہاں کے موسم  اور ضروریات کے مطابق تیاری شروع کر دی۔اور چند ہی دن کے بعد ہم  سری لنکا کی طرف عازم سفر ہو گئے۔

                            سری لنکا شمالی بحر ہند میں ایک جزیرہ ہے جوجنوبی ایشیا کی قدیم تہذیب کا امانت دار اور اپنی نوعیت کی واحد مملکت ہے۔ 1972ء سے قبل اس علاقے کو جزیرہ سیلون بھی کہتے تھے۔1948ء میں سری لنکا برطانوی تسلط سے آزاد ہوا  کولمبو جو برطانوی راج میں دارالسلطنت تھا، آج بھی سری لنکا کا دارالحکومت ہے۔ تھیرواد بدھ مت سری لنکا میں سب سے بڑا مذہب ہے، جو کل ملکی آبادی کے 70 فی صد ہے۔

                                                               کہا جاتا ہے کہ اشوکا کے  ایک  بیٹے  “ماہندہ ” نے یہاں بدھ مت کی تبلیغ شروع کی  اس کے بعدبہت جلد یہ علاقہ  بدھ مت کا مرکز بن گیا۔بدھ مت کے پیروکاروں کے علاوہ یہاں مسلمان اور عیسائی بھی  موجود ہیں ۔دور جدید میں، اسلام سری لنکا کا تیسرا بڑا مذہب ہے مسلمان 9.7 فی صد ہیں ۔سری لنکا کی اسلامی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا خود اسلام، کیونکہ اس سرزمین کے ساتھ عربوں کے قدیم تجارتی تعلقات قائم تھے اور ہندوستان کی فتح سے قبل ہی بحری عرب تجار یہاں پر اسلام کو روشناس کراچکے تھے۔ تا ہم باقاعدہ مسلمانوں کی تاریخ یہاں اس وقت شروع ہوئی، جب جنوبی ہندوستان کے راستے نور اسلام کی کرنیں یہاں پہنچنا شروع ہوئیں۔

                          اس ملک کے بارے میں مشہور ہے کہ آدم علیہ السلام کو بھی سری لنکا میں ایک پہاڑ پر اتارا گیا تھا۔(یہ پہاڑ   Adam Rock  کے نام سے مشہور ہے ہمارے  ٹور مینجر کے مطابق  جون میں یہ تیز ہواؤں کی وجہ سے سیاحوں کے لئے بند کر دیا جاتا ہے اس لئے ہم وہاں جانے سے محروم رہ گئے)   یہ  ملک دریا، پہاڑ، میدان، سمندر اور جنگلات جیسے قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ یہاں اس کے علاوہ ہر قسم کے قدرتی مناظر اور پرانے زمانۂ قدیم کے آثار کو ملا کر وہ سب کچھ موجود ہے جس کی ایک سیاح خواہش رکھتا ہے۔ اگر آپ باہر  کےممالک کی سیر کرنا چاہتے ہیں، تو اس مرتبہ  سری لنکا ضرور ہو آئیں۔

                      نیا ملک اور نئی  جگہیں  دیکھنے کے جوش کے ساتھ  ہم ریاض سے روانہ ہوئے۔راستے میں دوبئی میں چند گھنٹے قیام کیا اور اس کے وسیع و عریض اور جدید ائیر پورٹ کی بھول بھلیوں میں چکر کاٹنے کے بعد متعلقہ ٹرمینل کے سامنے جا کر فروکش ہو گئے۔جلد ہی کولمبو کے لئے ہمارے سفر کا آغاز ہو گیا۔

  • کولمبو

                        مقامی وقت کے مطابق صبح 8  بجے کے لگ بھگ ہم  نےاپنی آنکھوں اور دل میں انتہائی اشتیاق لئے ہوئے سری لنکا کی سرزمین پر قدم رکھا۔ بندرا نائیکےکولمبو ائیر پورٹ کی عمارت تو دوبئی کے مقابلے میں کچھ نہ تھی مگر سروس لاجواب تھی۔ اردگرد بے شمار سیاح نظر آ رہے تھے، دل میں  سوچا کہ نامعلوم اور کتنی دیر یہاں سے باہر نکلنے میں لگ جائے گی  کیونکہ  پہلے کئی دفعہ ہمارے ساتھ ایسا ہو چکا تھا۔ لیکن  اس کے عین برعکس کچھ ہی دیر میں امیگریشن  کی تمام کاروائی مکمل ہو گی اور ہم  سامان  والی بیلٹ کی طرف یہ سوچ کر آہستہ آہستہ بڑھنا شروع ہوئے کہ  پچھلے تجربات کی روشنی میں سامان آنے میں ایک ڈیڑھ گھنٹہ تو کہیں نہیں گیا۔  لیکن دو منٹ کے اندر اندر بیلٹ پر ہمارا سامان آنا شروع ہو گیا اور اگلے پانچ منٹ میں ہم ائیر پورٹ سے باہر تھے۔ یہ تھا سری لنکا سے ہمارا پہلا تعارف جو نہایت خوش گوار رہا۔ اس کے بعد اگلے نو دن تک ہمیں اسی طرح کی خوش گوار حیرتوں کے جھٹکے لگتے  رہے۔

                          ائیرپورٹ سے  باہر نکلے تو موسم کافی مرطوب تھا جو کہ ہماری انٹر نیٹ کی معلومات کے عین مطابق تھاکہ جون میں  وہاں کا موسم  پندرہ دن بارش کے ساتھ ایسا ہی ہونا تھا۔ لیکن آگے چل کر یہ تجربہ بھی   نہایت خوشگوار ثابت ہوا۔ ایک تو سری لنکا کی گرمی سعودی عرب اور پاکستان کی طرح کاٹ دار نہ تھی ،گاہے بگاہے ہونے والی بارش کی  وجہ سے قابل برداشت تھی  ۔سچ پوچھیں تو سعودی عرب میں سال بھر میں ایک دفعہ بارش دیکھنے والے ہم جیسے لوگوں کے لئے یہ ایک آئیڈیل ماحول تھا  ۔ سری لنکا کی شاپنگ میں ہم نے  سب سے پہلےچھتریاں ہی خریدی تھیں یہ الگ بات ہے کہ سوائے ایک آدھ بار کے ان کے استعمال کاموقع ہی نہ ملا۔ ہوٹلز میں ٹھہرنے والوں کے لئے ہر جگہ   کمروں میں چھتریاں موجود تھیں۔  میں  سری لنکا کی بارش کا بھی تعارف کروا دوں کہ  پاکستان کی   طوفانی قسم کی بارشوں کے برعکس وہاں نہایت تمیز دار بارش  ہوتی ہے کم از کم ہمارے ہوتے ہوئے تو ایسی ہی ہوئیں، تھوڑی دیر کو بوندا باندی ہوئی اور پھر ختم۔ کہیں پر بھی کسی کا کوئی کام متاثر نہیں ہوتا۔ چھتری ہر وقت ہر بندے کے ہمراہ ہوتی ہے اور  یوں ہی ہر جگہ زندگی رواں دواں رہتی ہے۔  آپ آرام سے اپنے شیڈول کے مطابق کام جاری رکھیں۔

                          ائیرپورٹ  کے باہرٹور پیکج والوں کی طرف سے بھیجا گیا ہمارا ڈرائیور، بہت سے دوسرے ڈرائیور حضرات کے  بیچ میں ہمارے نام کا پلے کارڈ اٹھائے ہمارا منتظر تھا۔ سمارٹ سا سری لنکن خدوخال والا ایک مہذب سا نوجوان، جس کی معیت میں ہم نے سری لنکا کے طول و عرض کی سیر کی۔ وہ ایک ڈرائیور ہونے کے ساتھ ایک بہترین  گائیڈ بھی تھا۔ اس نے انتہائی پروفیشنل انداز میں شستہ انگریزی میں  ہمیں ہر جگہ کی معلومات  فراہم کی اور پورے سفر کے دوران کہیں شکایت کا موقع نہ دیا۔۔۔یہ بھی ہم سب کے لئے حیرت کا ایک خوشگوار جھٹکا تھا۔ہمیں فراہم کی گئی گاڑی بھی حسب وعدہ  نہایت آرام دہ ، capaciousاور ائرکنڈیشنڈ  تھی اور سامنے ڈیش بورڈ پر مہاتما بدھ کی ایک چھوٹی سے سفید مورتی رکھی ہوئی تھی۔اب بدھا کے دیس میں آئے ہیں تو بدھا تو  ہمراہ ہوں گے ہی!!

                      ہم  پانچ لوگ اپنے چھ صندوقوں سمیت اس پر سوار ہو کر ایک ایک سیٹ پر نیم دراز ہو گئے۔ سفر شروع ہوا، باہر کا منظر بھی نہایت  حسین تھا، کہیں بارش، کہیں جھیلیں اور ہر جگہ پھیلے ہوئے سرسبز درخت، نگاہوں کو بہت بھلے لگ رہے تھے۔ کولمبو کی شہری آبادی شروع ہوئی تو منظر اپنا اپنا سا لگنے لگا۔ ایسا لگا کہ جی ٹی روڈ پر جہلم سے لاہور کا سفر جاری ہے، ٹریفک کا اژدہام، سڑک کے دونوں طرف   چھوٹی دکانیں اور سٹورز اور چلتے پھرتے اور کام میں مصروف لوگ۔ ہیلمٹ کے بغیر کوئی ایک بھی موٹر سائیکل سوار نظر نہیں آیا۔ ڈرائیور سے وجہ پوچھی تو پتہ چلا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کو بھاری جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔  اس  سارےمنظر  میں ایک چیز مختلف تھی، وہ تھی وہاں کی عورتیں جو    ڈھیلی ڈھالی اسکرٹ یا جینز اور شرٹ  میں ملبوس بڑی تعداد میں    نظر آرہی تھیں۔

                              میں نے  سری لنکا میں چھوٹی دکانوں،  بڑے سٹورز، فیکڑیز (ہم نے ایک ٹی فیکڑی کا بھی دورہ کیا تھا)،  ہوٹلز کے استقبالیہ سے لیکر کچن  تک،  دفاترہر جگہ عورتوں کو مصروف کار دیکھا۔  جو بوڑھی عورتیں کچھ اور نہ کر سکتی تھیں،  ان کو پورے سفر میں دیکھا کہ وہ  سڑک کے کنارے ٹھیلہ  لگائے یا  چھابڑی میں مقامی پھل فروخت  کر رہی تھیں ،  ان کے لباس سیدھے سادے تھے، کسی قسم کے میک اپ سے بےنیاز وہ اپنے معمول کے کاموں  میں مصروف تھیں اور کوئی ان کو گھور تک نہ  رہا تھا ۔ نہ وہ خود کو  دکھا رہی تھیں نہ کوئی  ان کو دیکھ رہا تھا بلکہ سری لنکا کی سڑکوں پر آپ کو خواتین بھی بکثرت موٹر سائیکل، ٹرک، بسیں اور ویگنیں چلاتی نظر آئیں گی۔۔۔۔۔یہ تھا حیرت کا ایک اور جھٹکا کہ یہاں عورتیں، مردوں کے شانہ بشانہ معاشی  تگ دو  اورقومی ترقی میں شامل ہیں۔

                                       جلد ہی کولمبو کے ساحل سمندر  کے پاس   بلند عمارتوں کا جدید علاقہ شروع ہو گیا  ان ہی میں سے ایک سری لنکا میں ہماری پہلی قیام گاہ تھی ۔ ہمیں ایسی عمارتوں سے تو کوئی دلچسپی نہ تھی کہ وہ ریاض میں بہت ہیں ۔ہاں سمندر  ہماری نگاہوں کا مرکز تھا۔کمرے میں پہنچ کر چائے کافی اور ہلکےپھلکے سنیکز کھا کر  کچھ دیر آرام کے لئے لیٹ گئے۔ اس آرام کے بعد سب تازہ دم ہو گئےعصر کے بعد  ہم نے ساحل سمندر جانے کے لئے تیار تھے باہر ہلکی ہلکی بارش جاری تھی جو کہ سری لنکا کا خاصہ تھی۔ ہم نے نہایت شوق سے چھتریاں  اٹھائیں اور باہر کا رخ کیا۔ راستے میں پزا ہٹ سے اپنی اپنی پسند کا پزا آرڈر کیا  اورڈٹ کرکھایا۔باہر نکلے اور پانچ منٹ کی واک کی بعد ہم ساحل پر پہنچ گئے۔

                             اس علاقےکو  گال فورٹ کہا جاتا ہے۔راستے میں  سری لنکا کی پارلیمنٹ کی  پرانی پرشکوہ  عمارت بھی  نظر آئی جو کہ 1930 سے لیکر 1983 تک زیر  استعمال  رہی ۔ یہ عمارت کافی حد تک یورپی طرز تعمیر کی عکاسی  کر رہی تھی کیونکہ اس کو سری لنکا پر برطانوی راج کے دوران تعمیر کیا گیا تھا۔   اب اس کو صدارتی سیکریٹریٹ کےطور پر استعمال کیا جاتا ہے۔عمارت کے وسیع و عریض لان میں کئی کانسی کے مجسمے نصب تھے جو  کچھ پرانے وزراء اعظم اور برطانوی راج کے دوران بنائی گئی  قانون ساز اسمبلی میں پہلے  سری لنکن  نمائندے کی یاد میں بنائے گئے ہیں۔کچھ دیر ان  کو خراج تحسین پیش کرنے کے بعد ہم آگے بڑھ گئے۔

 
اولڈ  پارلیمنٹ بلڈنگ،کولمبو

                          بارش تھم چکی تھی،  ٹھنڈی اور پرسکون ہوا چل رہی تھی سورج غروب ہونے میں ابھی کافی وقت تھا۔ سامنےٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اپنے خالق کی طاقت کی گواہی دے رہا تھا۔دیر تک ہم وہاں گھومتے رہےسمندر پر ڈوبتا ہوا سورج اور منہ زور موجیں۔۔کیا منظر تھا!! میں نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کو   اپنے اندر اور اپنے کیمرے میں سمو لیا۔ مغرب کا وقت ہو ا تو واپسی کی راہ لی۔

                                  رات کا کھانے پر ہم  میاں صاحب کے ایک سری لنکن دوست کی طرف سے قریب ہی ایک اور ہوٹل میں مدعو تھے۔ تیار ہو کر وہاں پہنچے۔اس ہوٹل کے اندر ایک پوری دنیا آباد تھی، انٹر کانٹی نینٹل کھانوں کے علاوہ ہوٹل کے ایک حصے میں مدھم روشنیوں میں بسےایک چھوٹے سےجنگل کے بیچوں بیچ  مختلف    ہٹس بنے ہوئے تھے ، انہی میں  ایک بہت  قدیم برگد کے درخت  کے نیچے  ایک ہٹ میں ریسٹورنٹ بھی بنا تھاجہاں پورے ماحول، یہاں تک کہ کام کرنے والوں کے لباس سے بھی  مکمل طور پر سری لنکا کےکلچر اور ثقافت کی عکاسی کی گئی تھی،یہی سب تو ہم دیکھنا چاہتے تھے۔

                              کچھ دیر جنگل میں  نایاب قسم کے  بے شمار پودوں اور درختوں   میں گھومنے کے بعد بھوک کا احساس ہوا تو   ریسٹورنٹ کا رخ کیا ۔ویٹرز نے  مسکراتے ہوئےذرا سا جھک کر”آئبوان  Ayubowam” کہہ کر ہمیں خوش آمدید کہا۔ مطلب پوچھا تو بتایا گیا کہ اس سے مرادہے May you live long    اس کے بعد میں جس غیر مسلم سری لنکن سے ملی اس کو آئبوان  ضرور کہا۔کھانے والے ہٹ میں انواع و اقسام کے  کھانے ہمارے منتظر تھے، ہر طرح کی سمندری مخلوق، سبزیاں ، چاول اور گوشت سے بنی ڈشز مٹی کےبرتنوں میں موجود تھیں۔ان کے ساتھ ناموں کی تختیاں پڑھ پڑھ کر آکٹوپس،کریب  اورشارک  سے آنکھیں  چراتے ہوئےاپنی پسند کی کچھ چیزیں منتخب کیں۔ کھانے کے ساتھ پھلوں کا تازہ جوس آرڈر کیا گیا۔ پہلی دفعہ Passion  (اسکا کوئی اور نام معلوم نہیں، باہر سےدیکھنے میں یہ ہمارے امرود جیسا تھا مگر اندر سے بالکل مختلف تھا ،تصویر موجود ہے)  نام کے ایک مقامی  پھل کا  لذیذجوس پیا اور اس کے بعد اس کی محبت میں اتنے جذباتی ہوئے کہ ہر دن پیا۔ میں نے ” ناریل کنگ ” بھی آرڈر کیا  کیونکہ یہ میرے لئے ایک نئی چیز تھی لیکن کچھ خاص پسند نہ آیا۔

                              کھانے کے بعد Dessertsوالے ہٹ کی طرف رخ کیا۔یہاں بھی ہر طرح کی مقامی مٹھائی اور پھل موجود تھے ۔  خاص طور پر پھلوں کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا بلکہ وہاں کے انتہائی میٹھے آم،  مالٹے رنگ کے پپیتے  اور تربوز کے ساتھ آخری دن تک دوستی نبھائی  اور کسی دن  ان  کے بغیر اپنا ناشتہ اور  ڈنر مکمل نہیں کیا۔قدرت نے سری لنکا کو بےشمار اقسام کے پھلوں سے نوازا ہے۔ صرف کیلےکو ہی لے لیں  اس کی تقریباً   22مختلف   اقسام وہاں پائی جاتی ہیں۔ ناریل، پپیتا،آم،تربوز وغیرہ کے علاوہ   میں نے وہاں  ایسے بے شمارپھل   بھی دیکھے جو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھے تھے۔ رات کافی ہو چکی تھی۔ ایک بھرپور  اور نئی دنیا میں اتنا اچھا وقت گزارنے  پر اللہ کا شکراور اپنے میزبانوں  کا  شکریہ ادا کرنے کے بعد  واپسی  کی راہ لی ۔

                                             

                           اگلی صبح کو ہوٹل کے بوفے ناشتہ سے  لطف اندوز ہوئے دیگر بےشمار قسم کے انٹر کانٹینٹل  کھانوں میں سے مجھے  سوپ نما روایتی ڈش بہت پسند آئی جو کہ ناریل کے دودھ اور خاص قسم کے چاول سے تیار کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ سری لنکاکی Specialty انڈے اور  چاول کے آٹے اور ناریل کے دودھ سے بنے کریپ کے اندر پکا ہوا انڈہ تھا، جس کو Egg hopper   کہتے ہیں(تصویر دیکھیے)۔اس کو ایک خاص قسم کی چھوٹی سی کڑاہی میں پکایا جاتا ہے۔اگلے ہر ناشتے میں یہ بھی میراساتھی رہا۔میں نے دیکھا کہ ناریل  سری لنکن کھانوں کا خاص جزو تھا، ہر روز   ناریل سے بنی ہوئی نت نئی اور لذیذ ڈشز   نظر آتیں جو اس سے پہلے میں نے کبھی نہ کھائی تھیں۔

 (باقی آئندہ)

 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

About راعنہ نقی سید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *