Home / علمی مضامین / برما کی موجودہ صورتحال اور ہمارا رویہ

برما کی موجودہ صورتحال اور ہمارا رویہ

بحیثیت قوم ہماری عادت ہے کہ ہم اپنی ہر کوتاہی اور ناکامی کے پیچھے یہود و نصاری اور ہنود کی سازش دیکھتے ہیں اور پھر بھی بات نہ بن پائے تو اس سازش کو خدائے رحیم کے سپرد کردیتے ہیں۔ زلزلہ میں ہماری بدانتظامیوں کے باعث ہونے والی تباہ کاریاں ہوں یا برما میں ہونے والے ظلم و ستم۔ ہر دوسری تحریر میں اسے خدا کا عذاب قرار دیا جاتا ہے اور اس کا جواز ہر ایک کے پاس ’’اپنا‘‘ ’’اپنا‘‘ ہوتا ہے۔ ہم دانشوروں کا رونا کبھی ’’جہاد‘‘ پر ہوتا ہے تو کبھی ’’ایمان و اخلاق‘‘ کی دعوت پر۔ کون نہیں جانتا کہ مسلمانوں میں جہاد بھی جاری ہے اور ایمان و اخلاق کی دعوت بھی۔ یہ بحث علیحدہ ہے کہ ہم جہاد بھی اسی کو سمجھتے جو ہم کریں اور ایمان و اخلاق کی دعوت بھی اسی کو کہتے ہیں جو ہمارے نقطہ نظر کے مطابق ہو۔ اور یہ نہ ہو تو پھر خدا کا عذاب۔۔ گویا خدا تعالیٰ ہمارے حقوق کے تحفظ کے لیے عذاب بھیجتا ہے۔ وہ صرف اس لیے دنیا کو غارت کردیتا ہے کہ ہم نے بقول شخصے جہاد سے منہ موڑ لیا ہے یا ایمان اخلاق کی دعوت چھوڑ دی ہے۔

میرا دل نہیں مانتا کہ ہمارا خدا ایسا غیر عادل بھی ہوسکتا ہے کہ مذہبی و سیاسی پیشواؤں کو چھوڑ کر صرف اس معصوم عوام کو عذاب کا مزہ چکھائے جن کے پاس آہ و بکا کے علاوہ کوئی سرمایہ نہیں ہوتا۔ مسلمانوں کی مجموعی کوتاہیوں کے لیے اُس قوم پر عذاب بھیجے گا جو دعوت و جہاد کیا جانے، نصف صدی سے غربت و افلاس کے مارے ہیں۔

بسا اوقات محسوس ہوتا ہے کہ بحیثیت مبلغ و داعی ہمارا رویہ بھی سرمایہ دارانہ فکر کے زیر اثر ہے۔ جہاں کوئی المیہ پیش نہ آیا ہم اپنا اپنا ’’پراڈکٹ‘‘ سیل کرنا شروع کردیتے ہیں اور بلند و بانگ دعووں کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں کہ صرف ہماری تحریک، ہمارا ادارہ، ہماری فکر اور ہماری محنت ہی اصل میں محنت ہے اور ہم ہی وہ واحد ذریعہ ہیں جو امت کو نجات کے لیے کھڑے ہیں۔ لاشعوری طور پر ہم بھی خدا کی طرف سے اپنے لیے اتمام حجت کا دعوی کرتے ہیں اور عذاب کا بینر لگا کر اس سے اپنی مارکیٹنگ کرتے ہیں۔ یہ بالکل وہی مقام ہے جہاں تفرقہ پسند لوگ کھڑے ہوکر خود کو نجات یافتہ اور دوسروں کو گمراہ قرار دینے پر تلے ہوتے ہیں۔

یاد رکھیں! اللہ نے یہ دنیا بنائی ہے جس میں کچھ قدرت کے قوانین ہیں اور کچھ سماج کے۔ مومنین کے خلوص و ایمان کی بنیاد پر آتش کو گلزار بھی بنا دیتے ہیں اور نصرت و حمایت کے لیے فرشتے بھی اتار دیتے ہیں لیکن مجموعی طور پر یہ دنیا اللہ کی حکمت و مشیت اور اس کی نگہبانی میں فطری قانون کے تحت ہی چلتی ہے۔ جو محنت بحیثیت قوم ہم کریں گے اس کا ثمر پائیں گے اور جو کوتاہیاں اس کی سزا بھی ہمیں ملے گی۔ ہم جس میدان میں محنت کریں گے اسی میدان میں امامت کا درجہ پائیں گے۔ مسلمانوں کی مغلوبیت کو صرف ایمان و اخلاق کی دعوت کے فقدان سے جوڑنا اور اس سے برمی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کو عذاب قرار دینا صرف ناقص تجزیہ نہیں بلکہ سسکتے ہوئے مظلوموں کی داد رسی کے بجائے ان کے منہ پر طمانچے کے مترادف ہے۔

About عبداللہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *