Home / 2018 / بزرگوں کی کرامات یا ان کا کردار؟

بزرگوں کی کرامات یا ان کا کردار؟

تحریر:محمد مبشر نذیر

ہر قوم اپنے بزرگوں اور قومی ہیروز کے حالات زندگی کو تفصیل سے بیان کرتی ہے۔ ان کی سیرت پر کتب لکھی جاتی ہیں، فلمیں بنائی جاتی ہیں اور ان کے کارناموں کو اجاگر کیا جاتا ہے۔  اگر ہم اہل برصغیر کے بزرگوں کے تذکروں کا جائزہ لیں تو عجیب بات یہ سامنے آتی ہے کہ ان کے اعلیٰ کردار اور سیرت کی تالیف پر بہت ہی کم توجہ دی گئی ہے۔ اس کے برعکس سارا زور ان کی کرامات پر لگا دیا گیا ہے۔  ان کی کرامات کو پڑھ کر لگتا ہے کہ جیسے وہ جادوگر ہوں یا سپر مین کی طرح مافوق الفطرت صلاحیتیں رکھتے ہوں۔

          کسی قوم کی تصنیفات اس کی ذہنی حالت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ہندوؤں کے ہاں ان کے مذہبی اکابرین مافوق الفطرت صلاحیتوں کے حامل سمجھے جاتے رہے ہیں۔  صدیوں کے ساتھ نے مسلمانوں کو ان کی جن چیزوں نے متاثر کیا، ان میں سے ایک اکابر پرستی تھی۔ جس طرح ہندوؤں کا مذہبی لٹریچر ، جوگیوں اور باباؤں کی کرامتوں سے بھرا پڑا ہے، اسی طرح مسلمانوں کا لٹریچر ان کی بزرگوں کے سپر نیچرل کارناموں سے لبریز ہے۔

          دین اسلام میں انسانیت کا درجہ بہت بلند ہے۔ انبیاء کرام کے بارے میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ وہ اعلیٰ ترین کردار کے حامل انسان تھے۔  اسی سے یہ بات واضح ہے کہ ایک اچھے کردار کے حامل انسان کا درجہ بہت بلند ہے۔ اگر ہم بھی کرامات کے حصول کی بجائے اپنی سیرت و اخلاق کی تعمیر کی طرف توجہ دیں اور ایک اچھا انسان بننے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ مقام اس سے بہت بلند ہے کہ ہم لوگوں کو ہوا میں اڑنے اور پانی پر چلنے کے کرتب دکھاتے پھریں۔

          ہمیں اپنی تقریر و تحریر میں بھی اپنے بزرگوں کے اعلیٰ اخلاقی معیار اور ان کی سیرت و کردار کے پہلو کو اجاگر کرنا چاہیئے جو کہ ان کا اصل طرہ امتیاز ہے۔

About محمد مبشر نذیر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *