Home / شمارہ جون 2018 / بچوں میں مطالعہ کی عادت

بچوں میں مطالعہ کی عادت

تحریر:طاہر محمود

الحمدللہ میری نو سالہ بیٹی فائزہ ابھی تک بچوں کے سینکڑوں تربیتی رسالے اور مختلف سبق آموز اور اسلامی کہانیوں کی کتابیں پڑھ چکی ہے۔ اب تو میری آٹھ سالہ بیٹی فائقہ اور سات سالہ بیٹے عبداللہ نے بھی ان کتب کا تھوڑا تھوڑا مطالعہ شروع کر دیا ہے۔ میں نے اپنے بچوں کو مطالعہ کی عادت ڈالنے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کیے اور اللہ کی مہربانی سے بہت اچھے نتائج نکلے ہیں:

  • بعض اوقات یا اکثر اوقات اپنا ذاتی مطالعہ بچوں کی آنکھوں کے سامنے کیا کریں۔ اس کی عادت بنا لیں۔ بے شک ابھی بچہ چند دن، چند ماہ یا سال کا ہی کیوں نہ ہو، اس عمل کے اثرات بچوں پر لازمی پڑتے ہیں۔
  • بچے ذرا کھیلنے اور ہاتھ پاؤں مارنے کے قابل ہوں تو چند ناکارہ یا غیر ضروری کتابیں بچوں کو دے دیں۔ بچوں کو موقع دیں کہ بے شک وہ ان کو پھاڑیں، گندا کریں، خراب کریں یا ادھر اُدھر پھینکیں۔
  • بچوں کو دیگر کھلونوں کے ساتھ ساتھ، کھلونوں کی شکل کی یا ہارڈ فارم میں باتصویر کتابیں بھی لا کر دیں۔ یہ خاص کتب ہوتی ہیں جنہیں بچے آسانی سے خراب نہیں کر سکتے۔
  • بچے ذرا بڑے ہو جائیں تو انہیں پاس لٹا یا بیٹھا کر چھوٹی چھوٹی سبق آموز کہانیاں اور اسلامی کہانیاں دلچسپ انداز سے سنانا شروع کر دیں۔ خیال رہے کہ شروع میں خصوصی طور پر آپ کا انداز بالکل عام فہم اور انتہائی دلچسپ ہونا چاہیے۔ اس دوران اشاروں، حرکات اور تاثرات وغیرہ (Gesture Communication) کا خوب استعمال کریں۔
  • گھر میں ایک کمرہ یا کسی کمرے یا الماری کا ایک حصہ مختص کرکے اسے لائبریری کا نام دے دیں۔بے شک اس کمرے یا الماری میں برائے نام کتب ہی کیوں نہ ہوں مگر اس کا نام لائبریری ہی پکاریں اور روزانہ کا کچھ نہ کچھ وقت اس لائبریری میں ضرور گزاریں۔
  • جب آپ نے اپنے لیے کتابیں خریدنی ہوں تو بچوں کو بھی ساتھ لے جایا کریں۔ ممکن ہو تو بچوں کو کبھی کبھار کسی لائبریری میں بھی لے جایا کریں۔
  • تعلیم و تربیت، نونہال اور پھول…… زیادہ نہیں تو کم از کم یہ تین رسالے لازمی مہینہ وار لگوا لیں۔ اس مہنگائی کے دور میں بھی کُل سو روپے سے بھی کم قیمت میں تینوں رسالے آ جاتے ہیں۔ آغاز میں ان رسالوں سے کہانیاں وغیرہ پڑھ کر بچوں کو سنایا کریں۔ جب بچے بڑے ہوں گے تو خود ہی پڑھنا سمجھنا شروع کر دیں گے۔
  • بچوں کو تصویری کہانیاں اور تصویری ڈکشنریز وغیرہ لا کر دیں۔ انہیں سمجھنے میں بچوں کی مدد بھی کیجیے۔
  • جب بچے سکول جانے لگیں گے تو کچھ عرصہ بعد خود ہی آہستہ آہستہ مطالعہ کرنا شروع کر دیں گے۔ ابتداء میں وہ اٹک اٹک کر پڑھیں گے اور بار بار آپ سے مختلف الفاظ کا تلفظ اور مطلب پوچھیں گے۔ یعنی آپ کو بار بار تنگ کریں گے۔ یاد رہے کہ تمام مراحل میں یہ سب سے مشکل مرحلہ ہے۔ اس مرحلہ میں آپ نے بڑے صبر اور حوصلے سے کام لینا ہے۔ نرمی، توجہ اور محبت کے ساتھ بچوں کی مدد اور حوصلہ افزائی کرنی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ بچوں کو مطالعہ میں آپ کی ضرورت کم ہوتی جائے گی۔
  • کچھ ہی عرصہ کے بعد بچے روانی سے مطالعہ کرنا شروع کر دیں گے اور اب انہیں مطالعہ کے دوران شاذونادر ہی آپ کی ضرورت پیش آئے گی۔ مگر اس سلسلے میں انہیں کچھ نہ کچھ توجہ ضرور دیتے رہیں۔

    • بچوں کو کبھی کبھار نئی یا سیکنڈ ہینڈ کتابوں کی دکان پر لے کر جائیں اور انہیں ان کی پسند کی مفید کتابیں خرید کر دیں۔ کتابوں کے انتخاب میں بچوں کی مدد اور راہنمائی بھی کیجیے۔
    • جب دیکھیں کہ بچوں کی باقاعدہ مطالعہ کرنے کی عادت بن گئی ہے تو اب ان کے لیے مطالعہ کا خاص وقت اور ممکن ہو تو خاص جگہ بھی متعین کر دیں تاکہ سکول کی پڑھائی اور دیگر معمولات متاثر نہ ہوں۔
    • اس سارے عمل کے دوران خاص خیال رکھیں کہ بچے ٹی وی، موبائل اور کمپیوٹر کا کم سے کم اور محدود استعمال کریں۔ یاد رہے کہ اگر بچوں کو گیمز اور کارٹونز وغیرہ کی لت پڑ گئی تو ساری محنت اکارت جائے گی۔

یہ ساری وہ اصولی باتیں ہیں جو میں نے اپنے بچوں پر آزمائیں اور ان کے میری توقع سے بھی بڑھ کر مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ آپ بھی آزما کر دیکھیں۔

About طاہر محمود

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *