Home / پیرنٹنگ / بچوں کا جنسی استحصال اور والدین کا کردار

بچوں کا جنسی استحصال اور والدین کا کردار

فلموں ڈراموں سے، کسی کتاب سے، کسی سنی سنائی سے بہرحال آج کے والدین پر یہ حقیقت تو اچھی طرح واضح ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات اس گھٹن زدہ معاشرے میں عام ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنا شعور ہی کافی ہے یا آگے بڑھ کر کوئی قدم اٹھانا ہو گا۔ کیا والدین واقعی اپنے بچوں کو اس صورتحال سے نبٹنے کے لئے تیار کر رہے ہیں؟ اور جو والدین بچوں کو بتاتے ہیں، وہ کیا بتا رہے ہیں؟ پرائیویٹ پارٹس کونسے ہیں اور کسی کو اجازت نہیں کہ آپکو ہاتھ لگائے۔ کوئی ایسی کوشش کرے تو مجھے بتا دینا۔ بس؟ کیا اتنا بتا دینا کافی ہے؟ ایک بار کا بتا دینا بہت ہے؟ ہر گز نہیں! بچوں کو مختلف زاویوں سے، مثالیں اور scenarios سامنے رکھ کر سمجھانا ہو گا، انہیں problem solving skills سمجھانے ہونگے۔

یاد رکھئے کہ دشمن میری اور آپکی طرح کا ایک نارمل دِکھنے والا انسان ہے، ہنستا بولتا ہے، گھلتا ملتا ہے۔ وہ کوئی الگ دنیا کی مخلوق نہیں کہ چہرے سے دیکھ کر ہم پہچان جائیں۔ بلکہ عموماً تو اتنے بہترین عادات و اطوار کا مالک ہو گا کہ آپکو اپنی اولاد کے لئے اس انسان پر بھروسہ کرتے وقت ایک لمحہ کوئی منفی خیال بھی نہ گزرے۔

بچے کی عمر کے لحاظ سے دشمن مختلف طریقوں سے اس کو گھیرتا ہے اور انہی طریقوں سے ہم نے بچوں (لڑکوں اور لڑکیوں- دونوں کو) کو باخبر کرنا ہے۔

1 )  لالچ دینا:۔  چونکہ دشمن کا گھر میں ہر وقت کا آنا جانا ہے اور وہ آپکی اولاد کی پسند ناپسند سے اچھی طرح واقف ہے، اسلئے وہ اسکو چھوٹے موٹے تحائف دیتا ہے۔ کبھی ٹافی، کبھی آئس کریم، کبھی اپنے ٹیبلٹ پر اسکو کارٹون اور گیمز کی اجازت دینا۔ اور ساتھ میں اسکو لالچ بھی دیتا ہے کہ میں آپکو وہ والی گڑیا لا کر دوں گا جو آپکو بہت پسند تھی اور ماما نے نہیں دلوائی، یا ہم پارک میں جھولوں پر جائیں گے اگر آپ۔۔۔۔

2) جھوٹ بولنا۔اگر آپ امی ابو کو بتائیں گے، آپکو ہی ڈانٹ پڑے گی۔ یا یہ کہ کوئی آپکی بات کا یقین نہیں کرے گا۔ یا یہ کہنا کہ all cool kids do that یا ایسے ٹچ کرنے میں کوئی غلط بات نہیں۔

3 ) دھمکی دینا۔ اگر آپ نے میری بات نہیں مانی، میں کبھی آپکا دوست نہیں بنوں گا۔۔۔

4) بلیک میل کرنا۔ میں آنٹی کو بتا دونگا کہ اس دن سکول میں آپ کی فلاں سے لڑائی ہوئی تھی۔ اگر آپ بات نہیں مانو گے تو میں انکل سے کہوں گا یہ ہمارے گھر میں ٹی وی دیکھتا ہے جو آپ نے اپنے گھر میں منع کیا ہوا۔

5 ) چیلنج کرنا:۔ اگر آپ اتنے سمارٹ ہو تو 55 سیکنڈز میں اپنا انڈرویئر اتار کر دکھائیں۔ مجھے پتہ ہے آپ نہیں کر سکیں گے۔ بچوں کو dare کیا جائے تو وہ فوراً اپنے آپکو پروو کرنے کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔

یہ پانچوں طریقے مزید مثالوں سے آپ بچوں کو سمجھائیں۔ ہر مثال پر ان سے پوچھیں اگر ایسا ہو تو آپ کیا کریں گے یا ایسا کبھی ہوا تو نہیں؟ ۔ اب آئیں حکمتِ عملی کی طرف:

1 ۔   سب سے پہلا کام بچے کو یہ کرنا ہے کہ بآوازِ بلند، واضح الفاظ میں “نہیں، میں ایسا نہیں کرونگا” کہے۔ (بچے سے کہلوائیں تا کہ اسکی پریکٹس ہو(

2 ۔ وہاں سے بھاگ کر فوراً محفوظ جگہ پر قابلِ اعتبار لوگوں میں پہنچے۔

3 ۔ پہلی فرصت میں امی ابو کو سب کچھ بتائے۔ سکول میں ہیں تو ٹیچر کو بتائیں، کسی کے گھر میں ہیں تو جو قابلِ اعتبار بندہ ہو اسکو بتائیں، اور موقع ملتے ہی امی ابو کو بتائیں۔

یہاں یاددہانی کرواتی چلوں کہ بچے آپ کو تبھی اپنے دل کی بات بتائیں گے جب آپ ان کو اعتماد دیں گے۔ انکے ساتھ اپنی چھوٹی موٹی باتیں شیئر کیا کریں تا کہ وہ بھی آپکو اپنی باتیں بتانے میں جھجک محسوس نہ کریں۔ ان کو بتائیں کہ امی ابو کے ساتھ کوئی راز نہیں رکھنے ہوتے، ہر بات بتانی ہوتی ہے۔ اپنے بچوں کو بتائیں کہ ہمارے آس پاس ہر طرح کے لوگ ہیں، اچھے بھی اور برے بھی۔ ہمیں اچھا بننا ہے، لیکن کسی کو اپنے ساتھ برا کرنے کی اجازت بالکل نہیں دینی۔ انہیں سکھائیں کہ کوئی برا کرے یا کوئی ایسی بات کرے کہ آپکو لگے گندی بات ہے تو firmly انہیں کہیں کہ “نہیں، میں ایسا نہیں کرونگا” اور فوراً وہاں سے بھاگ جائیں۔

اب فرض کیجیے کہ کمرے میں اس وقت کوئی اور نہیں، بچہ اسی “سرپرست” کے ساتھ اکیلا ہے۔ بچے کو اپروچ کرے تو اور کچھ ممکن نہ ہو تو بچے کو کہیں کہ پیٹ کے درد کا بہانہ کر کے باتھ روم چلا جائے اور تب تک وہاں رہے جب تک دشمن نا امید ہو کے چلا جائے یا باقی گھر والے کمرے میں آ جائیں۔

بچوں کے ساتھ رویہ دوستانہ رکھیں تا کہ وہ آپکے ساتھ اپنی ہر بات شیئر کر سکیں۔ یہ بہت ہی ضروری ہے۔ بچوں کے ذہن میں سوال پیدا ہونا فطری ہے۔ اگر آپ انہیں سوال کرنے پر ڈانٹ دیں گے تو انکا تجسس ختم نہیں ہو گا۔ وہ کسی اور سے اس کے بارے میں پوچھیں گے۔ وہ کس سے پوچھیں، اگلا بندہ کیا جواب دے، یہ آپکو معلوم نہیں۔ کچھ والدین شرم کے مارے ان ٹاپکس پر بچوں سے بات نہیں کرتے۔ ہوتے ہوتے والدین اور بچوں کے درمیان جھجک کا ایسا پردہ حائل ہو جاتا ہے جسکو پاٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر آپکو لگتا ہے کہ آپ کے لئے اپنے بچے کے ساتھ یہ باتیں کرنا ممکن نہیں تو لاوارث چھوڑنے کی بجائے کسی خالہ، پھوپھو، کوئی بڑا بہن بھائی، کزن، کوئی ایسا بندہ جو بچے سے نزدیک ہے، اسکو اس طرف لگائیں اور ان سے بچے کے بارے میں ان ٹچ رہیں۔ بہتر بہرحال یہی ہے کہ خود بات کی جائے۔ انہیں آپ سے اتنا اعتماد ملنا چاہئے کہ وہ جھجکے بغیر آپ سے جو دل میں آئے پوچھ لیں۔ جواب سچائی اور حکمت پر مبنی ہونا چاہئے۔

بچوں کے بدلتے رویوں پر نظر رکھیں۔ انکی کوئی بات، کوئی عمل، کوئی غیر متوقع ری ایکشن، ڈراؤنے خواب، ہنستے کھیلتے بچے کا ایک دم چپ چپ سا ہو جانا، غصہ کرنا، یا کسی سے نفرت یا ناپسندیدگی کا اظہار کرنا جو آپکی نظر میں بہت اچھا انسان ہو؛ ایسی کسی بھی صورت میں غیر محسوس طریقے سے کریدنے کی کوشش کریں۔ بچہ کہیں جانے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرے تو اسکو ڈانٹنے کے بجائے کھوج لگانے کی کوشش کریں کہ آخر یہ بچہ صرف اسی گھر میں ان کمفرٹ ایبل کیوں ہے۔ بچے کی رائے کو مقدم رکھیں۔

عام حالات میں بھی ہمیں معلوم ہے کہ بچوں کو بار بار یاد دہانی کروانی پڑتی ہے۔ ہم مائیں تو آدھا دن یہی بولتی ملتی ہیں “بیٹا، یہ بات میں آپکو اتنی بار پہلے بھی سمجھا چکی ہوں۔ تھوڑی دیر پہلے میں نے فلاں بات سے منع کیا تھا” تو اسی حوالے سے اوپر دیا گیا مکالمہ ایک بار کر لینا کافی نہیں بلکہ ہر کچھ عرصے بعد drill کی جائے۔ یہی وہ واحد طریقہ ہے جس سے ہم اپنے بچوں کو ذہنی طور پر تیار کر سکتے ہیں۔ اور اس سب کے ساتھ بچوں کو دعاؤں کے حصار میں رکھیں۔ اللہ تعالی ان ننھے پھولوں کو اپنی امان مین رکھیں اور کبھی کسی کی میلی نظر بھی نہ پڑے۔

٭ پچھلی پوسٹ پر جن احباب نے کہا کہ جوائینٹ فیملی سسٹم ہی بنیادی وجہ ہے:

 آپ سے جزوی اتفاق ہے۔ کلی اس لیے نہیں کیونکہ فرض کیجیئے میرے دادا دادی میرے والد کے ساتھ رہتے ہیں۔ جوائینٹ فیملی نہیں ہے لیکن میرے چچا، پھوپھو وغیرہ اپنے والدین سے ملنے ہمارے گھر آئیں گے۔ ساتھ میں بچوں کو بھی لائیں گے۔ دور سے آئے تو شاید کچھ دن رکیں گے بھی۔ ایسے میں کیا کیا جائے؟

٭ کچھ احباب کا کہنا تھا کہ بچوں کو ہر وقت اپنی نگرانی میں رکھا جائے:

 کیا یہ عملی طور پر ممکن ہے؟ آپ کو بچوں کو سکول بھی بھیجنا ہے، کوئی فیلڈ ٹرپ ہو گا تو بچے وہاں بھی جائیں گے، رشتہ داروں سے بھی ملنا ہے۔ کبھی آپ کو خود کہیں جانا پڑ سکتا ہے جہاں بچے کو لے کر جانا ممکن نہ ہو۔ 10، 12 سال تک کے بچے victim بن سکتے ہیں۔ 12 سال تک یہ کس طرح ممکن ہے کہ آپ بچے کو ہمہ وقت اپنی نگرانی میں رکھیں؟

٭  جو کہتے ہیں کہ اسلام سے دوری وجہ ہے:

 یقیناً ایسا ہے لیکن مدارس بھی اس غلاظت سے پاک نہیں۔ اور یوں بھی اسلام کو ہم راتوں رات ہر جگہ، ہر ایک پر نافذ نہیں کر سکتے۔ کوئی ایسا حل ہونا چاہئے جس پر ابھی فوری عمل درآمد شروع کیا جائے۔

٭ جو کہتے ہیں کہ ٹی وی، فون، انٹرنیٹ اصل وجہ ہے:

جو واقعہ میں نے لکھا تھا وہ اب سے کوئی 155 سال پرانا ہے۔ انباکس میں بھی دو واقعات ایسے پتہ چلے جو اتنے ہی پرانے ہیں۔ اسوقت تو یہ خرافات نہ ہونے کے برابر تھیں۔

واحد حل یہی ہے کہ بچوں کو مضبوط بنایا جائے، انہیں اعتماد دیا جائے، انہیں problem solving skills سکھائے جائیں۔ بحثیت والدین آپ پر بھاری ذمہ داری ہے۔ آپ کو یہ لگتا ہے کہ ایسی باتیں کر کے آپ ان سے انکا بچپن چھین رہے ہیں تو تصور کی آنکھ سے ان بچوں کو دیکھیں جن کے ساتھ یہ زیادتی ہو چکی ہے۔ انکی ساری زندگی ایک کرب میں گزرتی ہے۔ ایک ناکردہ گناہ کا مجرم بن کر، بنا کسی قصور کے خود کو کوستے ہوئے۔۔۔ بچوں کو اس اذیت میں مت جھونکیں۔ انکو ایک مضبوط، پراعتماد انسان بنائیں۔

About نیر تاباں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *