Home / فیچر معلوماتی مضامین / بچوں کے لیے لرننگ سٹریٹیجی

بچوں کے لیے لرننگ سٹریٹیجی

تحریر:ام مریم

بچوں کے لیے لرننگ سٹرٹیجی کیا ہونی چاہیے اور بچوں میں  سیکھنے سے معذوری کی وجوہات کیا ہیں؟

بچوں کو سکھانے کے حوالے سے ٹیچنگ کا شعبہ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں  درست سٹریٹجیز اور قاعدوں کو سمجھنے  اور استعمال کرنے سے بہت فرق پیدا کیا جا سکتا ہے ۔ بعض بچے سیکھنے میں کامیاب کیوں نہیں ہو پاتے ؟ اس کی دو بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ ایسے بچے کسی مخصوص کام کے بارے میں جانتے ہی نا ہوں جبکہ دوسری وجہ یہ ہے کہ ٹیچرز کو بہت کم اس بات کا عِلم ہوتا ہے کہ مختلف نفسیات کے حامِل بچوں کو کس طرح پڑھایا جا سکتا ہے ۔ اکثر وبیشتر  ایسے بچے جو سیکھنے کے حوالے سے معذور سمجھے جاتے ہیں درحقیقت سکھانے کی درست حکمتِ عملی  کے حوالے سے  معذور ہوتے ہیں ۔

مختلف چیزیں سکھانے کے لیے  لرننگ اسٹرٹیجیز   کئی قسموں کی ہو سکتی ہے  مثلا  سماعتی لرننگ سٹرٹیجی یعنی سنا کر کچھ سکھانے کی کوشش کرنا ، لمسیاتی لرننگ سٹرٹیجی یعنی پریکٹیکلی خود ان سے کچھ کروا کر یا محسوسات کے ذریعے سے  سکھانے کی کوشش کرنا  ، بصری لرننگ سٹرٹیجی یعنی کچھ دکھا کر یا تصور کروا کر سکھانا  وغیرہ ۔ یہاں ہم  بچوں کو سپیلنگ کی درست ادائیگی کو سکھانے کی مثال سے سمجھتے ہیں۔

chunking

 سماعتی یا لمسیاتی سپیلنگ سٹریٹیجی کا استعمال  اکثر و بیشتر ناقص ہوتا ہے کیونکہ سپیلنگ کی ادائیگی کے لیے چھونے کی حِس یعنی لمس کو استعمال نہیں کیا جا سکتا ، اسی طرح  کسی لفظ کو محسوس بھی نہیں کیا جا سکتا اور اسی طرح یہ سماعتی مسئلہ بھی نہیں ہے کیونکہ ایسے بے شمار الفاظ ہیں جن کی آواز کو آپ مؤثر طریقے سے ادا نہیں کر سکتے ۔ سپیلنگ درحقیقت ایک ایسی صلاحیت ہے جس میں بصری بیرونی کیریکٹرز (جو کریکٹرز آپ دیکھ رہے ہیں) کو ایک خاص قاعدے سے سٹور کیا جا سکتا ہے  اور ان کوکسی بھی وقت بآسانی رسائی میں لانا ممکن ہوتا ہے ۔ سیکھنے کا ایک طریقہ چنکنگ

یا ٹکڑے  بنا کر جوڑنا کہلاتا ہے ، اس طریقے میں عام طور پر شعوری اطلاعات کو پانچ  سے نو  چھوٹے ٹکٹروں میں تقسیم کر کے سکھایا جا سکتا ہے ۔ سپیلنگ کی درست ادائیگی سکھانے    کا بہترین  طریقہ چنکنگ  ہی ہے۔ کئی پیچیدہ اطلاعات کو یاد رکھنے میں مہارت کے لیے انہیں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر کے ذہن میں محفوظ کیا جا سکتا ہے اور بعد ازاں انہیں جوڑ کر مکمل شکل دی جا سکتی ہے ۔مثلا اگر آپ ALBUQUERQUE  جیسے مشکل لفظ کو سکھانا چاہتے ہیں تو اس کو تین چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت ہو گی ALBU-QUER-QUE۔اس طرح یہ لفظ بآسانی ذہن نشین کروایا جا سکتا ہے ۔

چنانچہ عام طور پر سیکھنے کے لحاظ سے مختلف  بچوں کی  نفسیات  کے مطابق مختلف سٹرٹیجیز کام کرتی ہیں ۔  سکھانے والے کو چاہیے کہ بچہ کو اگر  سیکھنے میں مشکل کا سامنا ہے تو سب سے پہلے یہ دریافت کیا جاے کہ اس کی درست وجہ کہیں سکھانے کی غلط حکمتِ عملی تو نہیں ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی بھی چیز کو ایک بچہ جس حکمتِ عملی کے نتیجے میں سمجھنے اور سیکھنے کے قابِل ہے ، کوئی  دوسرا بچہ اسی طریقے پر نا سیکھ پائے ، چنانچہ  اس بچے کی نفسیات کو سمجھتے ہوے حکمتِ عملی  میں تبدیلی کے ذریعے سکھانے کی کوشش کیجیے ، بجاے اس کے ، کہ اسے معذور  یا نا لائق قرار دے کر ناکارہ بنا دیں ۔ساتھ ساتھ  بچوں کو سکھانے کے حوالے سے انہیں  بھرپور تعریفانہ کلمات  اور حوصلہ افزائی سے تحریک فراہم کیجیے ۔ اسے یقین دلائیے کہ یہ کام  یا سبق آپ کے لیے بے حد آسان ہے اور اسے  سیکھنے کی آپ میں مکمل صلاحیت موجود ہے ۔ نیز  مختلف بچوں کے رحجانات چونکہ الگ ہوتے ہیں اس لیے جن سبجیکٹس میں آپ کے بچے کا رحجان کم ہے اس پر زبردستی  اور منفی تاثرات سے گریز کرتے ہوے، اس کے رحجان کے مطابق مضمون میں زبردست تحریک  اوربھرپور  مثبت تاثرات فراہم کیجیے  ، اس طرح عدم رحجانات والے سبجیکٹس میں بھی وہ بہتر کار کردگی دکھانے کے قابِل ہو جائے گا ۔

ان سب باتوں کا خیال کیا جاے تو کوئی وجہ ہی نہیں کہ آپ کے بچے سیکھنے کے حوالے سے معذوری کا شکار ہوں ۔

About امِ مریم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *