Home / شمارہ اگست 2018 / بچے کی شخصیت اور والدین کا کردار

بچے کی شخصیت اور والدین کا کردار

تحریر:سعدیہ کامران

 

” کان کھول کر سن لو ” یہ جملہ اکثر والدین اپنی اولاد کو اپنی توقعات کا جال پھنکتے وقت کہتے ہیں۔کہ کان کھول کر سن لو تم کو ڈاکٹر یا انجینئر ہی بننا ہے . یاد رکھیں توقعات بچے کی شخصیت کو بنانے یا بگاڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہر بچہ مختلف صلاحت رکھتا ہے پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔

اگر توقعات بچے کی صلاحیت کے مطابق ہوں تو کامیابی پر اعتماد بڑھے گا ورنہ بچے کا پر اعتماد ہونا مشکل ہے کیونکہ اس کو اکثر ناکامیوں کا ہی سامنا کرنا پڑے گا۔ ہر بچہ والدین کی خواہش کے مطابق ڈاکٹر انجینئر بن جائے ایسا ناممکن ہے۔ایسا بوجھ اور توقع سخت نقصان دہ ہے۔

 

توقعات کےاس بوجھ کی مثال

اسد اور اظہر کلاس فیلوز ہیں اور دونوں ایک جیسی ہی صلاحیت کے مالک ہیں ۔اسد کے والدین نے اسد کو 800 کا ٹارگٹ دیا ہے جبکہ اظہر کے والدین نے اظہر کو 500 کا ٹارگٹ دیا ہے۔ جب نتیجہ آیا تو اسد کے 700 اور اظہر کے 550 نمبرز آئے ۔ آپ کا کیا خیال ہے اسد اور اظہر میں سے کون زیادہ خوش اور پراعتماد ہوگا۔

یقینی بات ہے کہ اظہر کا اعتماد بھی بڑھے گا اور اس کو خوشی بھی حد درجہ ہوگی کہ اس نے اپنے مقصد کو پالیا اور والدین کو بھی خوشی عطا کی ۔ جبکہ اسد اور اس کے کم عقل والدین سخت مایوس ہونگے اور اسد عدم اعتماد اور شرمندگی کا شکار ہوگا۔کیونکہ وہ طے شدہ ٹارگٹ حاصل نہ کرسکا۔

یہ بات والدین کے سمجھنے کی ہے کہ کھلی آنکھوں اور حقیقت پسندی سے اپنے بچے کی صلاحیتوں کا جائزہ لے کر اس سے توقعات باندھیں۔ اس مقصد کے لئے بچے کے ہم عمروں کی کارکردگی کے ساتھ بچے کی پچھلی پرفارمنس کو سامنے رکھیں۔مگر بچے کو اس حقیقت سے آگاہ نہ کریں۔

بچے کی پرفارمنس اور اعتماد بڑھانے کے لئے جہاں ایک طرف خود سے مقابلے کا رجحان اور تصور سے مدد لینا ہے وہیں دوسری طرف بچے کو یہ پیغام بھی دینا ہے کہ ” ہمیں آپکی کوشش سے غرض ہے آپ کوشش پوری کریں نتیجہ جیسا بھی نکلے اس سے ہمیں اتنی غرض نہیں ۔ ” اس طرح بچے پر سے دباؤ کم ہوگا تو وہ اپنی پوری صلاحیتوں کو استعمال میں لائے گا۔

اور اس کے نمبرز بڑھ جائیں گے۔ یاد رکھیں حد سے زیادہ دباؤ کاکردگی اور صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔ بچے کے نمبرز کیسے بھی آئیں۔اس کی حوصلہ افزائی کریں۔اس کو مایوس اور بےعزت نہ کریں۔ایک بڑے مزے کی بات والدین اپنے بچوں کی ہر چیز کپڑے وغیرہ اس کے سائز کے اعتبار سے دلایا کرتے ہیں۔ لیکن جب بات نظر نہ آنے والی صلاحت خصوصاً ذہانت کی آتی ہے تو اس سے ایسی توقعات باندھی جاتی ہیں جو کہ اس کے سائز سے ہی مس میچ ہوتی ہیں۔بچے پر رحم کریں۔ اپنی بچپن کی محرومی یا بھگتی گئی غلطی کا بدلہ اپنے بچے سے نہ لیں۔اور یہ خاندانی دہشت گردی اور ذہنی اذیت اور روح کے گھاؤ دینے کے عوامل کا خاتمہ کریں۔

بسا اوقات ایسی سادہ لوح مائیں دیکھی ہیں جنھوں نے میرے مشورے پر عمل کیا اور بچے کو تعریفی جملہ کہہ کر حوصلہ بڑھایا اور کوئی بڑا تحفہ بھی خرید دیا۔ اور توقع کی کہ میرا یہ بچہ جو چار مضمون میں بری طرح فیل ہے وہ اگلے دو ماہ بعد کے پیپرز میں پہلی دوسری یا تیسری ہی پوزیشن لے گا۔اب ظاہر ہے ایسا ہونا قطعاً ناممکن ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بچہ کسی طرح پاس تو ہوگیا۔ لیکن ماں کو شانتی نہیں ملی کیونکہ اس کو سایئکل کا کوٹہ مار کر پورا کرنا تھا اور پچھلی بار جو ہاتھ کی صفائی سے رہ گئی تھیں وہ بھی اب کی بار سوا کی۔ اور مزے سے آکے میری تھیوری کو فیل ہونے کا مژدہ سناگئی۔ اب ایسی معصومیت اور سادہ مزاجی کو اکیس توپوں کی سلامی کے سوا کیا دیا جاسکتا ہے۔

 

کچھ اہم نکات و عوامل خود اعتمادی بڑھانے کے لئے

 * ہر بچہ اپنے ہی رنگ و مزاج کا ہوتا ہے اور اپنے ہی آپ میں پوری شخصیت کا مالک۔

* بچے کو اس کے انفرادی انداز کے ساتھ ہی قبول کیجیے۔ سب کو ایک ہی لاٹھی سے مت ہانکیے۔

 * کھانے کے معاملے میں جو پکا ہے سب کو یہی کھانا ہے کا اصول کارگر ہے۔ کہ بھوک بڑی چیزہے لیکن باقی ماندہ چیزوں میں انفرادیت اور آزادی ضروری ہے۔

*  بچہ جیسے پڑھنا چاہے پڑھنے دیں ۔ لیٹ کے , ہل ہل کے , بیٹھ کے , ٹہل کے , رٹ کے , لکھ کے ,خاموشی یا میوزک جیسے بھی اس کو پڑھنا ہو وہ اپنے ظرف کے مطابق پڑھ لے گا آپ کا مقصد اس کو پڑھانا اور نتیجہ حاصل کرنا ہے۔ بچے کو تنگ کرنا نہیں ۔

بچہ اگر دیانتداری سے پڑھ رہا ہے اور نتیجہ دے رہا ہے تو یہ اس کا قدرتی انداز ہے۔ اکتفاء کیجئے۔

*  بچے کو اس کے” نام ” سے پکارنا اس کے مشاغل میں اس کو اہمیت دینا یہ بھی ایک بے حد موثر زریعہ ہے۔

*  اپنا رویہ دوستانہ رکھیں۔ بچے کے ماحول کو تناؤ کا شکار نہ ہونے دیں۔ اور اس کے سامنے اپنا چہرہ اور عموما ً رویہ بھی ریلیکس رکھیں۔ تشنجی رویہ اور چہرہ بہت برا اثر ڈالتے ہیں۔

*  بچوں کو تقاریب میں لے کر جائیں۔ اگر وہ اتنا بڑا ہے کے تقریب کی چھوٹی موٹی ذمہ داری نبھاسکتا ہے تو اس کو ضرور انکریج کریں۔

*  بچے کی اپنی ایک معاشیات ہوتی ہے۔ لہٰذہ اس کو جیب خرچ دیں۔جیب خرچ بچے کی ضرورت اپنی حیثیت اور دوستوں کو دیکھ کر دیں۔ یاد رکھیں جیب خرچ کا نہ ہونا بچے کو کئی خطرناک نقصانات سے دوچار کرسکتا ہے۔ جیسے مذاق اڑنا , حادثے کی صورت بچے کو مشکل پیش آنا , بچے کو لالچ دے کر کسی غلط کام پر آمادہ کرلینا وغیرہ ۔

*  جیب خرچ دے کر بچے کی ٹوہ نہ کریں کہ کیا کرتا ہے اور کیا نہیں ۔ یہ اس کی ملکیت ہے۔ آپ کی بےجا مداخلت بچے کو ضدی بنادےگی اور وہ ممکن ہے کہ غلط چیز اختیار کرلے ۔

*  بچے کو اس بات پر ہرگز آمادہ نہ کریں کہ پیسے بچاؤ تاکہ تم خود کی ضروری چیز لے سکو۔ ضروری چیز آپ کی ذمہ داری ہے۔ یہ آپ کو لےکر دینی ہے۔ ہاں اگر والدین کا ہاتھ تنگ ہے تو ایسا کرنے میں مضائقہ نہیں ۔ بچت اور چیز ہے کنجوسی اور چیز ہے۔

*  بچہ بھی انسان ہے اور انسان خطا کا پتلا ہے۔اس کی غلطی پر اس کو کوٹنے کے لئے آمادہ نہ رہیں۔ بلکہ اس وقت نارمل رہیں۔اور بچے کو بھی نارمل ہونے دیں۔ دونوں کی نارمل کنڈیشن بات کو احسن طریقے سے سمجھا اور سلجھا سکتی ہے۔

اکثر غلطی کے وقت بچے بوکھلائے ہوئے اور خوف ذدہ ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں ڈانٹ پھٹکار کیا , اچھے الفاظ میں نصیحت کا بھی کوئی موثر نتیجہ نہیں نکلتا۔

*  بچے کی عزت نفس کو کبھی مجروح نہ کریں۔ورنہ بچہ والدین سے عدم تحفظ کا شکار ہوتا ہے۔ اور اس کے لاشعور میں نفرت و بغاوت کے جزبات بیٹھ جاتے ہیں۔ اور پھر اس جزبے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے بچہ مختلف طریقہ سے تنگ کرنا شروع کرے گا۔ اور آپ کی کسی بات کو اہمیت نہیں دے گا۔

*  غلطی کی نشاندہی اور درستی کا ایک احسن طریقہ یہ ہے کہ اپنے الفاظ کی تھوڑی ردو بدل کریں۔ مثلاً ” آپ نے فلاں غلطی کی ہے ” کی بجائے ” یہ غلطی ہوگئی ہے ” زیادہ مناسب ہے۔ بچے کو الزام , قصور وار ہونا یا احساس گناہ جیسی پریشانی بھی نہیں ہوگی اور مثبت الفاظ میں نشاندہی سے خود آپ کا مستقبل یعنی بڑھاپا بھی سدھرے گا۔ کہ بچے کہ پاس تربیت کے فولڈر میں الزامی رویہ نہیں سیف ہوگا۔ جو والدین کے بڑھاپے میں ہوئی بشری کمزوری جیسے کوئی ٹوٹ پھوٹ وغیرہ پر ایسا رویہ بچے کی طرف سے نہیں ملے گا۔

 

 الفاظ کا چناؤ بڑی چیز ہے۔ منفی اور الزامی رویئے سے بچیں۔

* بچے کواس کی شخصیت کے روشن پہلو دکھائیں۔ زندگی میں رونما ہونے والی اچھی باتوں پر زیادہ توجہ دیں۔خوشگوار موڈ رکھیں۔تو بچہ بھی خوش رہے گا۔منفی باتوں , چغلیوں اوردکھوں کی بات سے پرہیز کریں۔

* بچے کا اپنا تصور ذات بہتر اور پراعتماد بنانے کے لئے پچھلے کارناوں کا تذکرہ اورتعریف بہت ضروی ہے۔ واضح رہے کہ ایسے بچے جو کسی بڑے حادثے ( Trauma) کا شکار ہوجاتے ہیں اور نفسیاتی مسائل میں مبتلا ہوجاتے ہیں انکو نارمل کرنے کے لئے کامیاب طریقہ ان ہی کے پچھلے کارناموں کا ان کے سامنے ذکر کرنا ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

About سعدیہ کامران

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *