Home / شمارہ اگست 2016 / بہترین رشتہ ازدواج کے رہنما اصول

بہترین رشتہ ازدواج کے رہنما اصول

حصہ دوم

خوش ذوقی کا اہتمام

جمالیات کا ذوق چونکہ انسان کے اندر فطری طور پر پایا جاتا ہے چنانچہ شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کے ذوق کے مطابق جمالیات کا اہتمام کرنا چاہیے مثلا شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کو اپنی نظافت ، گھر کے اندر اور باہر لباس کے حسن انتخاب وغیرہ کے ذریعے سے مسحور کیے رکھے ۔

“عورتوں کا بھی حق ہے جیسا کہ مردوں کا ان پر حق ہے دستور کے مطابق”(البقرہ)

اس آیت کو پڑھ کر ابن عباس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں پسند کرتا ہوں کہ اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لیے میں بھی زینت کروں جیسا کہ وہ مجھے خوش کرنے کے لیے کرتی ہے ۔ (تفسیر ابن کثیر)

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ “رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم میرے پاس آئے،  آپ نے ایک پراگندہ حال آدمی کو دیکھا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے ۔ آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کوئی چیز نہیں ملی جس سے یہ اپنے بالوں کو سنوار لیتا “اور ایک آدمی کو میلے کپڑے پہنے دیکھا تو فرمایا “اسے پانی نہیں ملا کہ اس سے اپنے کپڑے ہی دھو لیتا”

(سنن ابی داؤد،  کتاب اللباس ، سنن النسائی ، المستدرک للحاكم )

اسی طرح عورت کو بھی اپنے شوہر کے لیے  اپنی زیبائش و آرائش کے اہتمام کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے جیسا کہ نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جب ان سے پوچھا گیا کہ بہترین عورت کون سی ہے ؟ تو آپ نے اس کی ایک صفت یہ بیان کی ” وتسر إذا نظر، یعنی خاوند اس کی طرف دیکھے تو اسے خوش کر دے ” (سنن النسائی )

اس کے مفہوم میں خندہ پیشانی اور مودت و محبت سے پیش آنے کے ساتھ ساتھ  ظاہری زیبائش و آرائش ، خوبصورت لباس ، اور شوہر کی پسند کے مطابق عمدہ خوشبو وغیرہ  کا استعمال بھی شامل ہے ۔

2۔  شکر گزاری

نعمت اور احسان کی ناشکری عمومی طور پر ایک ایسی خصلت  ہے جس کی مزمت قرآن نے بارہا کئی مقامات پر کی ہے اور ہر لمحہ صبر و شکر گزاری کے رویے کو ہی مومنین کی خوبی بتایا ہے ۔  احادیث مبارکہ میں اس کی وضاحت  کے طور پر  شوہر و بیوی کے حوالے سے بھی  شکر گزاری کا خیال رکھنے کی تاکید کی گئی ہے ۔

رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر عورتوں سے خطاب کرتے ہوے فرمایا ” احسان کرنے والوں کی نا شکری سے بچنا ۔ تو ہم (عورتوں ) نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! احسان کرنے والوں کی نا شکری سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا ممکن ہے کہ تم میں سے ایک اپنے ماں باپ کے گھر میں لمبی عمر بن بیاہے بیٹھی رہتی اور کنواری ہی بوڑھی ہو جاتی ، لیکن اللہ تعالی اسے شوہر سے نوازتے ہیں اور اس کے ذریعے سے مال اور اولاد عطا فرماتے ہیں ، پھر وہ کبھی غصے میں آتی ہے تو کہہ اٹھتی ہے : میں نے اس سے کبھی بھلائی اور سکھ نہیں پایا ۔ ” (مسند احمد )

اس حدیث مبارکہ میں چونکہ رسول اللہ  صل اللہ علیہ وسلم  عورتوں سے مخاطب ہو کر انہیں وعظ فرما رہے ہیں اور انہی کے دریافت کرنے پر آپ نے اپنی بات کی وضاحت کی چنانچہ یہ وضاحت عورتوں سے متعلق ہے لیکن حدیث کی اصل نصیحت ” احسان کرنے والوں کی نا شکری سے بچنا” سے مراد ظاہر ہے کہ  دونوں فریقین ہیں ۔ جس طرح کہ ایک اور جگہ آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ” جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں بن سکتا” (سنن ابی داؤد،  سنن الترمذی ، ابن حبان)

چنانچہ بیوی کی طرح شوہر کو بھی اس کے بیش بہا احسانات کی فراموشی اور نا شکری اور  سے پرہیز کرنا چاہیے ۔

3۔ اخلاقی قوائد

میاں بیوی میں سے ہر ایک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی عائلی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ اخلاقیات کے اصول و ضوابط کو بھی اپنا  شعار بنائیں   تاکہ ایک دوسرے کا ادب و احترام پیدا ہو سکے اور فریقین کے مابین  ایک دوسرے کے اخلاق اور شخصیت سے متاثر ہو کر آپس میں محبت پیدا ہو ۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دراصل محبت ادب و احترام کے ذریعے سے ہی جنم لیتی ہے اور محبت کے قرینوں میں سب سے پہلا قرینہ یہی ادب و لحاظ ہے۔  اس سلسلے میں درج ذیل اخلاقی قواعد کا اہتمام کرنا چاہیے۔  اسی بات کی تعلیم رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمائی

” اہل ایمان میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے اور ان میں سب سے بہتر وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے لیے بہتر ہیں ” ( مسند احمد ، سنن ابی داؤد ، سنن الترمذی ، ابن حبان ، المستدرک حاکم)

4۔  میاں بیوی کے آپس میں  اخلاقیات

استوصوا بالنساء خیراً

” لوگو ! عورتوں کے معاملے میں بھلائی اور خیر خواہی کی وصیت قبول کرو” (صحیح البخاری ، کتاب النکاح)

الدنیا متاع و خیر متاع الدنیا المراۃ الصالحۃ

”دنیا متاع و فائدے کی چیز ہے اور دنیا کا بہترین ساز و سامان نیک بیوی ہے ”

  • حسن اخلاق کی علامات میں سے ایک بہت بڑی علامت رحمدلی ہے ۔ شوہر کو چاہیے کہ اپنی بیوی کے کسی ضعف اور کمزوری پر رحمدلی کا برتاؤ رکھے اور اس کی کسی کوتاہی پر خندہ پیشانی سے پیش آے اور اگر اصلاح مطلوب ہو تو اپنی میٹھی اور عمدہ گفتگو سے سمجھانے کی کوشش کرے ۔ بیوی کو چاہیے کہ وہ اچھی اور باوقار گفتگو سے ہی اپنی اصلاح کرے اور اسی انداز کو اصلاح کرنے کے لیے بھی اپناے ۔ گفتگو ہمیشہ پرسکون انداز میں ہونی چاہیے ، گالی گلوچ یا دوسرے کو اذیت دینے والے انداز و الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے۔
  • ایک دوسرے کے حق میں کوتاہی ہو تو بغیر شرمندگی کے اس سے معذر ت کرے ، اور غلطی کرنے والا معافی مانگے تو دوسرا اسے بغیر شرمندہ کیے معاف کر دے
  • جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے ، ہمیشہ ایک دوسرے سے سچ بولیں خواہ کیسے ہی خدشات لاحق ہوں ، اور چاہے معاملہ کتنا ہی سنگین ہو ۔  اس کے لیے فریقین  کو چاہیے کہ  ایک دوسرے کے ساتھ ایسا نرم اور لطیف برتاؤ رکھیں کہ کسی ایک  کی سختی  و برہمی کے خوف سے دوسرے کو کچھ چھپانے کی نوبت نا آے
  • ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں میں شمولیت کے وقت کسی قسم کے عذر سے اجتناب کرنا چاہیے اور بھر پور طریقے سے شرکت کرنا چاہیے
  • قدرت و طاقت رکھنے کے اوقات میں چشم پوشی اور عفو و درگزر سے کام لینا  ہی معزز لوگوں کا شیوہ ہے  ۔

روزمرہ اخلاقیات

  • گھر یا کمرے میں داخل ہونے سے پہلے سلام کہنا چاہیے یہ اتباع سنت اور بہترین اخلاق کے قریب ترین امر ہے ۔
  • اگر اپنے ساتھی کی چیز کو الٹ پلٹ کریں یا اسے اس کی جگہ سے ہلائیں تو دوبارہ پہلی حالت میں رکھیں اور کسی کے خط ، کاغذ یا چیز کو اس کی اجازت کے بغیر نا پڑھیں
  • گاڑی میں بیٹھتے وقت بیوی کے لیے دروازہ کھولیں اور بیوی کو چاہیے کہ اس عزت و احترام پر تشکر کا اظہار کرے ، نیز بیوی کو چاہیے کہ شوہر کے گھر آنے پر خوش دلی سے ویلکم کہے اور اپنی استطاعت کے مطابق اس کی تواضح کا اہتمام کرے۔
  • ایک دوسرے کے امور میں حتی الامکان اور استطاعت کے مطابق مدد گار ہونا چاہیے نیز ایک دوسرے کی جائز  خواہشات کا احترام کرنا چاہیے۔
  • ایک کو محبت کے ساتھ اچھے القاب سے پکاریں جیسے نبی صل اللہ علیہ وسلم عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کو اکثر حمیرا کہہ کر پکارتے تھے ۔ نیز بات چیت اور افہام و تفہیم کے اوقات میں محبت بھرے الفاظ کا استعمال کریں مثلاً ”آپ تو میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں”  ، یا ” آپ کا حکم سر آنکھوں پر” وغیرہ

میاں بیوی کے آپس میں برتاؤ کے لیے نصیحتیں

  • خود پر کنٹرول اور تحمل مزاجی ،  شریک حیات سے حسن معاشرت کا بہترین ذریعہ ہے ، کسی بھی مسلے کے آغاز میں ہی اپنا دفاع اور اپنی برآت کا  اظہار نا کریں بلکہ اطمینان سے بات سن کر غور و فکر کے بعد حل نکالیں ۔
  • تنقید کی بات ہمیشہ نرم انداز میں کریں ، اکثر اوقات آپ کے شریک حیات کا غصہ آپ کی وجہ سے نہیں بلکہ آپ کے موقف کی وجہ سے ہوتا ہے ۔
  • کسی بھی مسلے پر جلد بازی کو لگام دے کر مہارت و تدبر کے ساتھ حل تلاش کریں ، اور ایسا حل نکالیں جو دونوں کے لیے قابل قبول اور مناسب ہو ۔
  • سب سے پہلے مسلے کا کھوج لگائیں اور غور و فکر کریں کہ کیا یہ مسئلہ حقیقت میں ہے بھی یا آپ کی کسی نفسیاتی سوچ یا پرسیپشن(perception) کی وجہ سے ہے۔
  • اس بات کو یقینی بنائیں کہ شریک حیات سے کسی مسئلے پر بحث کے دوران آپ کو اپنے اسلوب ، حرکات و سکنات ، اپنا مدعا بیان کرنے کے لیے الفاظ اور جملوں پر مکمل کنٹرول حاصل ہے ۔
  • فریقین خاص کر عورت کو سطحی سوچ اپنانے سے گریز کرنا چاہیے ، اپنا موازنہ خاوند کی ماں ، بہن وغیرہ سے نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی انہیں اپنے مقابلے پر تصور کرنا چاہیے ۔ ہر رشتے کی اپنی اہمیت اور حقوق و فرائض ہیں چنانچہ اسی تناظر میں اسے دیکھنا چاہیے۔ اور خاوند کو چاہیے کہ اپنی والدہ دیگر رشتوں اور بیوی کے ساتھ تعلق میں ہر ایک کو اس کا  امتیازی مقام دے ۔ ہر ایک کا الگ الگ طور پر احترام  بنیادی اور مطلوب چیز ہے ، انہیں خلط ملط کرنے سے بچنا چاہیے ورنہ ان کے درمیان تعلقات میں توازن خراب ہو سکتا ہے ۔
  • ایک دوسرے کے احترام کا تقاضا یہ ہے کہ ایک دوسرے کے قرابت داروں ، ماں باپ اور بہن بھائیوں وغیرہ کو بھی عزت و احترام بالکل اسی طرح دیا جاے جیسے خود کے رشتہ داروں کو دیا جاتا ہے۔

نیکی اور خیر کے کاموں کی ترغیب

” اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن صرف انسان اور پتھر ہیں ، جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں ، جنہیں جو حکم اللہ تعالی دیتے ہیں اس کی نا فرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جاے اس کی بجا آوری کرتے ہیں ۔”(التحریم)

نبی صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ” تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور اس کے ما تحتوں کے متعلق اس سے سوال ہو گا ۔ امام نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہو گا ۔ مرد اپنے گھر کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا ۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا ۔ ”( صحیح البخاری )

میاں بیوٰ ی کے لیے  ایک دوسرے کو نیکی و عبادات  کی ترغیب دلانا اور برائی سے روکنا نا صرف ایک فرض کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ یہ باہمی محبت کے فروغ اور پر سکون زندگی کے لیے اہم ترین تقاضا بھی ہے ۔ چنانچہ میاں بیوی کو چاہیے کہ ایک  دوسرے کو فرائض کی صحیح طور پر ادائیگی ، نیکی کے کاموں اور عبادات میں عزیمتوں  پر عمل کرنے کی ترغیب دیں اور اس میں ایک دوسرے کی معاونت کریں ۔

نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” اللہ تعالی اس عورت پر رحم فرماے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے خاوند کو بھی جگاے تاکہ وہ بھی نماز پڑھے ، اگر وہ بیدار نا ہو تو  اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ”(سنن ابی داؤد ، سنن ابن ماجہ ، سنن النسائی ، ابن خزیمہ ، ابن حبان ، المستدرک حاکم)

اسی طرح عورت پر شوہر کے مال سے صدقہ و خیرات وغیرہ  پر اجر و ثواب کے بارے میں بھی بیشتر روایات میں آتا ہے اور ایک دوسرے کو نیکیوں کی ترغیب دلانے کے بارے میں بھی ہدایات ملتی ہیں ۔وہ خاندان جس کی بنیاد اللہ کے تقوی اور اس کی اطاعت پر ہو ، سخت سے سخت آندھیاں بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں ۔ جبکہ اللہ کی یاد اور اطاعت سے خالی گھر بآسانی شیطان کی دراندازیوں کا شکار ہو جایا کرتے ہیں ۔

نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے ” اس گھر کی مثال جس میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے اور اس گھر کی جس میں اللہ کا ذکر نہیں ہوتا ، زندہ اور مردہ کی سی ہے ۔”( صحیح مسلم)

About امِ مریم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *