Home / رمضان سپیشل / بے حساب

بے حساب

“بیٹھو  مجهے تم سے کچھ بات کرنی ہے”۔

“جی ادی بولیں”۔

“میں نے تم سے کتنے میں بات کی تهی تین کاموں کی ؟”

“ادی ، آپ نے تین ہزار میں بات کی تھی ایک ہزار جهاڑو کے ، ایک ہزار برتن کے اور  ایک ہزار کپڑے دهونے کے اور  سو روپے الگ سے کچرہ پهینکنے کے”

وہ حیرت سے میرا چہرہ تکتے ہوئے بولی اسکی سمجھ میں نہیں آرہا تها کہ آخر ماجرہ کیا ہے ؟

“اور میں نے کپڑے تم سے کتنے دن دهلوائے ؟” میں نے درشت لہجے میں سوال کیا۔

“ادی بس دو ہفتے” … وہ بولی ،

“وہ بهی صرف بچوں کے چند چهوٹے کپڑے باقی میری مشین ٹهیک ہوگئی تو میں نے پهر خود ہی مشین لگانی شروع کردی …. صحیح یا غلط ؟”میں نے اسکی بات درمیان سے اچک لی۔

“ہاں ادی پر ہوا کیا ہے بات تو بتا میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا” … وہ سہمی ہوئی سی مجهے دیکھ  رہی تھی۔

 “کچھ نہیں بس تمہیں تهوڑا حساب سمجها رہی تهی میں، کیونکہ تم پڑوس والی باجی کے ہاں جا کر کہتی ہو کہ پتا نہیں ادی نے کچرے کے سو روپے دیے یا نہی،  جبکہ کپڑے میں نے صرف دو ہفتے دهلوائے اور تین ہزار پورے دیے تمہیں ۔اس طرح تو تمہاری طرف میرا حساب نکلتا ہے پر تم اتنی احسان فراموش ہوگی میں یہ سوچ بهی نہیں سکتی تھی”۔

میں اس وقت غم و غصے کی تصویر بنی اپنی اس کام والی ماسی پر برہم ہو رہی تهی جو ڈیڑھ ماہ پہلے ہی میرے گهر کام پر لگی تھی۔

انتہائی غریب شہناز کا گهر میں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آئی تهی  جب اسکی انکوائری کرنے گئی تھی۔

گهر کیا تها  اللہ کی زمین پر دو جهلنگا سی چارپائیاں پڑی تهیں جن میں سے ایک چارپائی پر شہناز کا  بیمار شوہر بے ترتیب سا پڑا ہوا تھا۔ دمے کا مریض تها وہ۔  کچھ گندے سے تکیے اسکے ارد گرد  رکهے تهے  اور سامنے زمین پر اوپر تلے رکهی دو اینٹوں پر ایک گندہ سا واٹر کولر رکها تها۔ایک کونے میں ایک مٹی کا چولہا . اس میں کچھ جلی ہوئی لکڑیاں … اس چولہے کے ارد گرد چند گلاس پلٹیں دیگچیاں اور چند چائے کے پیالے رکهے تهے۔ ایک کونے میں کچھ کپڑے کی گٹهریاں پڑی تهیں شاید ان میں استعمال کے کپڑے بندهے پڑے تهے ….. اور  اوپر تلے کے چھ عدد بچے . یہ تهی اس کی کل کائنات۔

 میرا بیٹا جو کہ اس دن میرے ساتھ تها وہ کئی دنوں تک ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا رہا …. مما وہ گهر کب تها ؟ … چهت تو تهی ہی نہیں کیسے رہ سکتا ہے کوئی ایسے ؟ مچهر دیکھے تهے آپ نے وہاں۔  اف مما مجهے تو سمجھ نہیں آرہا تها کہ یہ لوگ سوتے کیسے ہوں گے۔ کتے اوربلیاں بهی کتنے تهے وہاںوہ آنکهوں میں آنسو لیے ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا رہا بڑی مشکل سے سمجھا بجھا کر اسکا فیورٹ پزا آرڈر کرکے اسے بہلایا ،  پهر اس کے ہی ہاتھ سے ایک ہزار روپے بهی جو کہ پچهلے رمضان کی زکوۃ کی مد میں نکالنا رہتے تھے وہ بهی دلوائے ۔ تاکہ میرے بیٹے کو کچھ تسلی ہو جائے ۔

 “نہیں ادی میں نے تو برابر والی ادی کو یہ کہا تها کہ کچرے کے پیسے دے کر بهی آپ نے شاید زیادہ پیسے دے دیے ہیں”۔

وہ ایک دم گهبرا سی گئی۔

“جهوٹ مت بولو۔بس آئیندہ میں تمہیں ایک ایک کام کا پورا حساب کرکے ہی پیسے دوں گی۔کپڑے میں خود اپنی آٹو میٹک مشین میں دهوتی ہوں  لہذا اب میں تمہیں بس دو ہزار روپے اور سو روپے کچرا پهینکنے کے گن کر دیا کروں گی”۔

“نہیں ادی غصہ نا ہو قسم اللہ پاک کی تیرے ہاں تو میں اپنا گهر سمجھ کر شوق سے کام کرتی ہوں”۔وہ بے چاری گھیگھیائی۔

“بس کر شہناز  فالتو کی ڈرامے بازیاں … ارے میں تجهے روز اپنے ساتھ بٹها کر ناشتہ کراتی ہوں تیرا خیال رکھتی ہوں تیرے بچوں کے لیے کپڑے کهانا جو مجهے ہوتا ہے خیال کر کے صرف تجھے  دیتی ہوں”۔

“ہاں ادی میں نے کب انکار کیا”۔

“ہزار روپے تو تجھے  ایسے ہی کهڑے کهڑے اپنے بچے سے بنا کسی حساب کتاب کے دلوادیے …. سو دو سو ہر ہفتے صدقے کے صرف تجهے ہی دیتی ہوں اورتو سو روپے پر جان دے رہی ہے .. توبہ!اب سے ہر کام حساب کتاب سے ہوگا بس جاو اپنا کام کرو”۔

میں غصے سے تن فن کرتی اپنے کمرے میں چلی گئ۔

اور بیڈ پر لیٹ کر آنکهیں موند لیں … اب آئے گا اسے مزہ … میں نے لیٹے لیٹے سوچا۔

اتنا غصہ کرکے بهی نا جانے مجهے کیوں سکون نہیں مل رہا تھا کیا بات تهی سمجھ ہی نہیں آرہا تھا۔ شام ہوگئی اسی بے سکونی میں . بچوں کو رات کا کهانا کهلا کر سلادیا میرے میاں بهی بے خبر سو رہے تھے رات کے چار بجنے والے تھے ، اور میں فالتو میں بس کئی گهنٹوں سے موبائل ہاتھ میں لیے اسکرین سے کهیل رہی تھی۔شاید یہ تہجد کا وقت تها۔میں نے آج تک تہجدکی نماز نہیں پڑھی تھی۔سو آج بهی نہیں پڑهی۔

توبہ قرب قیامت ہے جس کا جتنا خیال کرو وہ اتنا ہی سر پر بیٹھ جائے اچانک مجهے ایک بار پهر شہناز کا خیال آیا ۔میسنی کہیں کی کیسے بھیگی بلی بنی ہوئی تھی میرے چہرے پر ایک طنزیہ سی مسکراہٹ در آئی ۔اس میں اور تم میں کوئی فرق نہیں ہے اچانک جیسے کسی نے میرے کان میں ہولے سے کہا ۔میں چونک سی گئی۔

شہناز نے تمہاری چند چیزوں …. فقط چند استعمال شدہ چیزوں کو لے کر بهی تمہاری نمک حرامی کی . تم ایسا ہی سمجھتی ہو نا ؟ پر تم … تم تو اس کی نمک حرامی کرتی ہو جس نے تمہیں اس قابل بنایا کہ تم شہناز جیسی عورتوں پر حکمرانی کر سکو …سوچ کر دیکهو اس کے بهی اتنے ہی ہاتھ ہیں جتنے تمہارے ، اتنے ہی پاؤں ہیں جتنے تمہارے،  آنکهیں ، ناک ، منہ ، بال ، جسم سب تمہارے جیسا ہی تو ہے وہ بهی عورت ہی تخلیق کی گئی ہے، تمہاری ہی طرح اگر تمہارا رب اسے تمہاری جگہ اور تمہیں اس کی جگہ بنا دیتا تو ۔۔۔ ؟؟؟؟تم نے کبهی اس بات پر اپنے رب کا شکر ادا کیا ؟ نہیں نا…. بلکہ اپنا حق سمجها …. اس کی دی ہوئی ہر سہولت ہر آسائش اور ہر نعمت کو اپنا حق جان کر وصول کیا ….  اور بدلے میں…. سجدے کے نام پر ماری گئی پانچ وقت   چندٹکریں اور بس کیا کرو گی اس دن جب تم  اور تم سے سوال کرنے والا تمہارا مالک آمنے سامنے ہوں گے۔کیا جواب دو گی اسے جب وہ پوچهے گا کہ میری بے شمار نعمتوں کے بدلے تم نے میری حمد بهی کی تو انگلیوں یا تسبیح کے دانوں پر گن گن کر بولو کیا تم نے میری نمازوں کا حق بالکل  اسی طرح ادا کیا جیسا کہ کرنا چاہیے تھا۔۔۔ شہناز کو تو تم نے وہ وہ نعمتیں تک گنوا دیں جو کہ اسکا حق تها جیسے صدقہ اور زکوۃوغیرہ۔پر بتاؤجو عیش و عشرت بهری زندگی ہم نے تمہیں عطا کی تھی کیا وہ واقعی تمہارا حق تهی ؟ کیا تم واقعی ان کی اہل تهیں۔ ؟ تم نے اسے روز کهلانے والا کهانا تک جتادیا،بتاؤ وہ کهانا تمہیں کس نے دیا ؟ تم نے تو اسے اپنی  اور اپنے بچوں کی اترن دے کر بهی جتایا ، بتاؤتمہیں تن ڈهانپنے کو کپڑے کس نے دیے ؟ تم اس وقت اس کمزور عورت کے سامنے اپنی بڑائی جتارہی تهیں اپنے آپ کو اسکا حاکم سمجھ رہیں تھی۔آج تمہارے سامنے زمین وآسمان کا حاکم و مالک ہے تمہارے سامنےاس وقت وہ ہے جو بے حساب بڑائی والا ہے . آج تم حساب دو ….

دو حساب…..حساب دو ……

اللہ اکبر اللہ اکبر

مؤذن کی آواز تهی یہ۔ میں ایک دم چونک سی گئ۔ میں نے اپنے چہرے پر ہاتھ پهیرا میرا پورا چہرہ آنسوؤں سے تر تها،میرا جسم بری طرح کانپ رہا تھا دل کی دهڑکن تیز ہو رہی تھی ۔یا اللہ مجهے بخش دے . یہ میں کیا کر بیٹھی انجانے میں۔میری نگاہوں میں شہناز کا پشیمان سا چہرہ گهوم گیا ۔اس کی گهگهیائی ہوئی اواز میری سماعت پر ہتهوڑے سے برسانے لگی۔

نہیں ادی میں نے تو ۔۔نہیں ادی تو غلط سمجهی ہے۔

 یا اللہ … میں نے اپنے کانوں پر اپنی ہتھیلیوں کا دباو ڈالا . اور فوراً وضو کرنے اٹھ کهڑی ہوئی۔

 بے شک میرا رب  آگہی کا در بهی خاص لوگوں کے لیے ہی کهولتا ہے ۔ وہی ہے جو اندهیرے سے اجالے کی جانب لاتا ہے۔

“سنیں! رمضان بس آنے ہی والے ہیں “… میں ناشتے کی ٹیبل پر اپنے شوہر اور بچوں کو ناشتہ کروا رہی تهی۔ جب میں اچانک اپنے شوہر سے مخاطب ہوئی:

“ہاں شاید 26 مئی کو پہلا روزہ ہوگا”۔ وہ سوچتے ہوئے بولے ۔

 “میں سوچ رہی ہوں کہ کہ زکوٰۃ کے پیسے تهوڑے تهوڑے کر کے تین چار غریب فیملیز کو دیئے جائیں جس سے کسی کو ہینگ بهی نہیں لگتی ہوگی شاید …  بجائے اس کے کسی ایک ہی خاندان کی کچھ ایسی مدد کردی جائے جو اس کے آگے بهی کام آسکے . مطلب کوئی بڑا کام نا کروا دیا جائے کسی ایک ضرورت مند کا”۔ “بڑا کام ؟ مثلاً “؟ وہ بغور میری جانب دیکهتے ہوئے بولے۔

“مثلاً میں سوچ رہی ہوں کہ کیوں نا عید تک شہناز کو ایک کمرہ ایک چهوٹا سا کچن اور ایک باتھ روم  بنوا کر دے دیا جائے۔

اس طرح اس بے چاری کو یوں کهلے آسمان تلے نا سونا پڑے گا”۔

” ارے مما۔۔۔۔میرے بیٹے کی آنکھوں میں جیسے موتی سے جهلملا گئے”۔

شہناز جو کچن میں کهڑی برتن دهو رہی تهی ایک دم کچن کے دروازے پر آکر مجهے حیرت سے دیکهنے لگی۔

“ہاں بات تو تم ٹهیک کر رہی ہو۔ چلو میں کل کسی مستری کو اسکی طرف بهیجتا ہوں دیکهیں کم سے کم بهی کتنا خرچہ آئے گا “۔میرے ہسبینڈ نے چائے کا  سپ لیتے ہوئے کہا۔

ہررے مما مزہ آئے گا شہناز کا بهی گهر بنے گا ….میرا بیٹا مجھ سے لپٹ گیا ۔

میں نے گردن گهما کر شہناز کی طرف دیکها اسکی آنکهوں میں کیا کچھ نہیں تها . حیرت … تشکر …. محبت ……. اور  خوشی…. بے حساب  ….

About شمسہ ارشد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *