Home / شمارہ اکتوبر 2017 / تبصرہ کتاب: ہندومت کا تفصیلی مطالعہ

تبصرہ کتاب: ہندومت کا تفصیلی مطالعہ

 ہر چند اردوزبان میں مطالعہ مذاہب کی روایت کو نصف صدی گزر چکی ہے اور مشرق و مغرب کے مذاہب کے تقابل، امتیازات اور اشتراکات پر سینکڑوں مصنفین نے قلم اٹھایا ہے، لیکن وطنِ عزیز میں اس میدان کا ایک ابھرتا ہوا ہوا نام حافظ محمد شارق کا ہے۔ حافظ صاحب مطالعہ ادیان کےمیدان کے سب سے نو عمر محقق ہیں مگر اس کم عمری اور چار برس کی مدت ہی میں انھوں نے اس فن میں اس قدر دسترس حاصل کر لی ہے کہ پاکستان میں بلامبالغہ انھیں مطالعہ ادیان کا سب سے قابل اور مستند ترین محقق سمجھا جانے لگا ہے۔

 موصوف سے میری واقفیت چند برسوں کی ہے، پہلا تعارف ان کی کتاب ہندوھرم اور اسلام کے مصنف کے طور پر ہوا تھا، اس کے بعد ان سے اچھے علمی روابط ہوئے اور کچھ ہی عرصے میں اس بات کا بخوبی ادراک ہوگیا کہ میرا تعارف محض ایک مصنف سے نہیں بلکہ ایک نوجوان دانشور، فلاسفر اور ایک حقیقی محقق سے ہوا ہے۔قحط الرجال کے اس دور میں علم و دانش کا ایک ایسا شیدائی کہاں مل سکتا ہے جو ایک ایک موضوع پر تحقیق کے لیے ہزاروں میل سفر کرنے ،ہزاروں صفحات کی سینکڑوں کتب پڑھنے اور اصل مصادر کو سمجھنے کے لیے قدیم ترین زبانیں بھی سیکھنے کی ہمت رکھتا ہو اور جب اس کا قلم اٹھے تو محض مصنف کہلائے جانے کے لیے نہیں بلکہ فی الحقیقت موضوع کا حق ادا کرنے کے لیے ہو۔ حافظ محمد شارق ایک ایسی ہی باکمال شخصیت ہیں۔

 کچھ برس قبل انہوں نے اپنی پہلی کتاب ’’ہندو دھرم اور اسلام‘‘ پیش کی تھی جسے اہل علم نے بخوشی قبول کیا اور مصنف کو داد و تحسین سے نوازا۔اس کے بعد ان کی کتاب ’’ہندومت اور اسلام کےمشترکہ اقدار ار پیروکاروں کے تعامل کی تاریخ‘‘ منظر عام پر آئی جسے اہل علم بالخصوص علم تاریخ سے تعلق رکھنے والے حضرات نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔اس کےبعد ان کی کتب یکےبعد دیگرے آتی رہیں، جن میں اسلام اور شہری حقوق و فرائض اور منطقی مغالطے شامل ہے۔

 اس وقت میرے سامنے ان کتاب ’’ہندومت کا تفصیلی مطالعہ ‘‘ ہے جس میں انہوں نے ہندو مت میں کا تفصیلی مطالعہ پیش کیا

ہے۔  حافظ صاحب نے نہ صرف ہندومت کے تمام رسم و رواج اور عقائد پر تفصیلی اور غیرجانبدارانہ بحث کی ہے، بلکہ اپنے منفرد تجزیاتی شعور کی بدولت ہندومت کی تاریخ اور اس کی تشکیل کے حوالے سے انتہائی دلچسپ ،مدلل اور گہرائی و گیرائی سے بحث کی ہے ۔

 ہندومت یا مذاہب عالم پر جو کتب عام طور پر ملتی ہیں، وہ ثانوی مصادر اور غیر مستند باتوں سے پُر ہوتی ہیں، لیکن مصنف نے کتاب میں ہندو صحائف سے جابجا اصل اقتباسات کوہوبہوُ صحیح ترجمہ اور حوالوں کے ساتھ نقل کیا ہے، اس مقصد کے لیے انھوں نے نہ صرف ہندومت کے اصل مصادر کا مطالعہ کیا، بلکہ سنسکرت جیسی مشکل ترین زبان بھی سیکھی ۔کتاب کی اسی خوبی نے اسے بلامبالغہ اُردو زبان میں ہندومت پر مستند ترین کتاب بنا دیا ہے۔کتاب کے مطالعے سے بالکل واضح ہوتا ہے کہ کس طرح انھوں نے مذاہبِ عالم اور تاریخ کے علاوہ سماجیات، بشریات، علم الآثار ، لسانیات اور مختلف النوع موضوعات پر کتنی ساری کتابوں کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔

 مصنف کی سب سے اچھی کی خوبی یہ ہے کہ ان کا انداز بہت سادہ فہم، غیر جانبدارانہ اور بہت ہی ہمدردانہ ہوتا ہے۔ ان کی تحریر میں دیگر مذاہب کے خلاف نفرت انگیزی کے عنصر کے بجائے امن و محبت اور سلامتی کا پیغام ملتا ہے ۔  یقیناً یہ کتاب طلباء و محققین اور علم کے متلاشیوں پراحسان کے مترادف ہے۔

About ڈاکٹر آسیہ رشید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *